قرآني·Qurani
اردو

الإجارة

155 احادیث · #3416–3570

حدیث 3516 — سنن أبي داود 24:101
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (6977)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ، سَمِعَ أَبَا رَافِعٍ، سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ ‏"‏ ‏.‏
ابورافع رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: پڑوسی اپنے سے لگے ہوئے مکان یا زمین کا زیادہ حقدار ہے ۔
حدیث 3517 — سنن أبي داود 24:102
صحیحصحیحصحیح LighairihiIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِدَارِ الْجَارِ أَوِ الأَرْضِ ‏"‏ ‏.‏
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھر کا پڑوسی پڑوسی کے گھر اور زمین کا زیادہ حقدار ہے ۔
حدیث 3518 — سنن أبي داود 24:103
صحیحصحیححسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْجَارُ أَحَقُّ بِشُفْعَةِ جَارِهِ يُنْتَظَرُ بِهَا وَإِنْ كَانَ غَائِبًا إِذَا كَانَ طَرِيقُهُمَا وَاحِدًا ‏"‏ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑوسی اپنے پڑوسی کے شفعہ کا زیادہ حقدار ہے، اگر وہ موجود نہ ہو گا تو شفعہ میں اس کا انتظار کیا جائے گا، جب دونوں ہمسایوں کے آنے جانے کا راستہ ایک ہو ۔
حدیث 3519 — سنن أبي داود 24:104
صحیحصحیحصحیح Bukhari (2402) Sahih Muslim (1559)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، - الْمَعْنَى - عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَيُّمَا رَجُلٍ أَفْلَسَ فَأَدْرَكَ الرَّجُلُ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی مفلس ہو جائے، پھر کوئی آدمی اپنا مال اس کے پاس ہو بہو پائے تو وہ ( دوسرے قرض خواہوں کے مقابل میں ) اسے واپس لے لینے کا زیادہ مستحق ہے ۱؎ ۔
حدیث 3520 — سنن أبي داود 24:105
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ مَتَاعًا فَأَفْلَسَ الَّذِي ابْتَاعَهُ وَلَمْ يَقْبِضِ الَّذِي بَاعَهُ مِنْ ثَمَنِهِ شَيْئًا فَوَجَدَ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ وَإِنْ مَاتَ الْمُشْتَرِي فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ ‏"‏ ‏.‏
ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے اپنا سامان بیچا اور خریدار مفلس ہو گیا، اور بیچنے والے نے اپنے مال کی کوئی قیمت نہ پائی ہو، اور اس کا سامان خریدار کے پاس بعینہٖ موجود ہو تو وہ اپنا سامان واپس لے لینے کا زیادہ حقدار ہے، اور اگر خریدار مر گیا ہو تو سامان والا دوسرے قرض خواہوں کی طرح ہے ۔
حدیث 3521 — سنن أبي داود 24:106
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ وَهْبٍ - أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ زَادَ ‏ "‏ وَإِنْ قَضَى مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ فِيهَا ‏"‏ ‏.‏
یونس، ابن شہاب سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ مجھے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ ۔ ۔ پھر آگے انہوں نے مالک کی حدیث جیسی روایت ذکر کی، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ اگر مشتری اس مال کی کسی قدر قیمت دے چکا ہے، تو وہ مال والا دوسرے قرض خواہوں کے برابر ہو گا۔
حدیث 3522 — سنن أبي داود 24:107
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، - يَعْنِي الْخَبَائِرِيَّ - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ - عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، - قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ أَبُو الْهُذَيْلِ الْحِمْصِيُّ - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ قَالَ ‏ "‏ فَإِنْ كَانَ قَضَاهُ مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ وَأَيُّمَا امْرِئٍ هَلَكَ وَعِنْدَهُ مَتَاعُ امْرِئٍ بِعَيْنِهِ اقْتَضَى مِنْهُ شَيْئًا أَوْ لَمْ يَقْتَضِ فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدِيثُ مَالِكٍ أَصَحُّ ‏.‏
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے: اگر بائع نے اس کی قیمت میں سے کچھ پا لیا ہے تو باقی قرض کے سلسلہ میں وہ دیگر قرض خواہوں کی طرح ہو گا، اور جو شخص مر گیا اور اس کے پاس کسی شخص کی بعینہٖ کوئی چیز نکلی تو اس میں سے اس نے کچھ وصول کیا ہو یا نہ کیا ہو، ہر حال میں وہ دوسرے قرض خواہوں کے برابر ہو گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک کی روایت ( بہ نسبت زبیدی کی روایت کے ) زیادہ صحیح ہے۔
حدیث 3523 — سنن أبي داود 24:108
ضعیفضعیفضعیفIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، هُوَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي الْمُعْتَمِرِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ خَلْدَةَ، قَالَ أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِي صَاحِبٍ لَنَا أَفْلَسَ فَقَالَ لأَقْضِيَنَّ فِيكُمْ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَفْلَسَ أَوْ مَاتَ فَوَجَدَ رَجُلٌ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ ‏"‏ ‏.‏
عمر بن خلدہ کہتے ہیں ہم اپنے ایک ساتھی کے مقدمہ میں جو مفلس ہو گیا تھا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے کہا: میں تمہارا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو مفلس ہو گیا، یا مر گیا، اور بائع نے اپنا مال اس کے پاس بعینہ موجود پایا تو وہ بہ نسبت اور قرض خواہوں کے اپنا مال واپس لے لینے کا زیادہ حقدار ہے ۔
حدیث 3524 — سنن أبي داود 24:109
حسنحسنحسنضعیف
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، - قَالَ عَنْ أَبَانَ، أَنَّ عَامِرًا الشَّعْبِيَّ، - حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ وَجَدَ دَابَّةً قَدْ عَجَزَ عَنْهَا أَهْلُهَا أَنْ يَعْلِفُوهَا فَسَيَّبُوهَا فَأَخَذَهَا فَأَحْيَاهَا فَهِيَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فِي حَدِيثِ أَبَانَ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَقُلْتُ عَمَّنْ قَالَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا حَدِيثُ حَمَّادٍ وَهُوَ أَبْيَنُ وَأَتَمُّ ‏.‏
عامر شعبی کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی ایسا جانور پائے جسے اس کے مالک نے ناکارہ و بوڑھا سمجھ کر دانا و چارہ سے آزاد کر دیا ہو، وہ اسے ( کھلا پلا کر، اور علاج معالجہ کر کے ) تندرست کر لے تو وہ جانور اسی کا ہو جائے گا ۔ عبیداللہ بن حمید بن عبدالرحمٰن حمیری نے کہا: تو میں نے عامر شعبی سے پوچھا: یہ حدیث آپ نے کس سے سنی؟ انہوں نے کہا: میں نے ( ایک نہیں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ سے سنی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حماد کی حدیث ہے، اور یہ زیادہ واضح اور مکمل ہے۔
حدیث 3525 — سنن أبي داود 24:110
حسنحسنحسنضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حَمَّادٍ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ مَنْ تَرَكَ دَابَّةً بِمُهْلِكٍ فَأَحْيَاهَا رَجُلٌ فَهِيَ لِمَنْ أَحْيَاهَا ‏"‏ ‏.‏
شعبی سے روایت ہے، وہ اس حدیث کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو شخص کوئی جانور مر کھپ جانے کے لیے چھوڑ دے اور اسے کوئی دوسرا شخص ( کھلا پلا کر ) تندرست کر لے، تو وہ اسی کا ہو گا جس نے اسے ( کھلا پلا کر ) صحت مند بنایا ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔