قرآني·Qurani
اردو

الأدب

502 احادیث · #4773–5274

حدیث 4943 — سنن أبي داود 43:171
صحیحصحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ السَّرْحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنِ ابْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، يَرْوِيهِ - قَالَ ابْنُ السَّرْحِ - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيَعْرِفْ حَقَّ كَبِيرِنَا فَلَيْسَ مِنَّا ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ہمارے چھوٹے پر رحم نہ کھائے اور ہمارے بڑے کا حق نہ پہنچانے ( اس کا ادب و احترام نہ کرے ) تو وہ ہم میں سے نہیں ۔
حدیث 4944 — سنن أبي داود 43:172
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (55)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ لِلَّهِ وَكِتَابِهِ وَرَسُولِهِ وَأَئِمَّةِ الْمُؤْمِنِينَ وَعَامَّتِهِمْ وَأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ ‏"‏ ‏.‏
سیدنا تمیم داری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دین نصیحت (خلوص و خیر خواہی) کا نام ہے۔ دین نصیحت کا نام ہے۔ دین نصیحت کا نام ہے۔ صحابہ نے پوچھا: اے ﷲ کے رسول! کس کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ﷲ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، اہل ایمان کے ائمہ و حکام اور عام لوگوں کے لیے۔“
حدیث 4945 — سنن أبي داود 43:173
صحیح Isnaadصحیح Isnaadصحیحضعیف
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَأَنْ أَنْصَحَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ - قَالَ - وَكَانَ إِذَا بَاعَ الشَّىْءَ أَوِ اشْتَرَاهُ قَالَ ‏ "‏ أَمَا إِنَّ الَّذِي أَخَذْنَا مِنْكَ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِمَّا أَعْطَيْنَاكَ فَاخْتَرْ ‏"‏ ‏.‏
سیدنا جریر (جریر بن عبداللہ بجلی) ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سننے اور اطاعت کرنے اور ہر مسلمان کے لیے خیر خواہی کرنے پر بیعت کر رکھی ہے۔ راوی نے کہا: چنانچہ وہ (سیدنا جریر ؓ) جب کوئی چیز فروخت کرتے یا خرید کرتے تو کہتے: تحقیق جو چیز ہم نے تم سے لی ہے وہ ہمیں اپنی چیز سے جو ہم نے تمہیں دی ہے، زیادہ پیاری ہے، چنانچہ تمہیں اختیار ہے (اپنی چیز یا مال واپس لینا چاہو تو لے سکتے ہو)۔
حدیث 4946 — سنن أبي داود 43:174
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (2699)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ، ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ - الْمَعْنَى قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ عُثْمَانُ وَجَرِيرٌ الرَّازِيُّ ح وَحَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، - وَقَالَ وَاصِلٌ قَالَ حُدِّثْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ثُمَّ اتَّفَقُوا - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ - وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَمَنْ سَتَرَ عَلَى مُسْلِمٍ سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَمْ يَذْكُرْ عُثْمَانُ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ‏"‏ وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کی دنیاوی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور کر دے، تو اللہ اس کی قیامت کی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور فرمائے گا، اور جس نے کسی نادار و تنگ دست کے ساتھ آسانی و نرمی کا رویہ اپنایا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ دنیا و آخرت میں آسانی کا رویہ اپنائے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کا عیب چھپائے گا تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کا عیب چھپائے گا، اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد میں رہتا ہے، جب تک کہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے ۔
حدیث 4947 — سنن أبي داود 43:175
صحیحصحیحصحیح Muslim (1005)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ نَبِيُّكُمْ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بھلی بات صدقہ ہے ۱؎ ۔
حدیث 4948 — سنن أبي داود 43:176
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا ح، وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زَكَرِيَّاءَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّكُمْ تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ فَأَحْسِنُوا أَسْمَاءَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ ابْنُ أَبِي زَكَرِيَّاءَ لَمْ يُدْرِكْ أَبَا الدَّرْدَاءِ ‏.‏
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن تم اپنے اور اپنے باپ دادا کے ناموں کے ساتھ پکارے جاؤ گے، تو اپنے نام اچھے رکھا کرو ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن ابی زکریا نے ابودرداء کا زمانہ نہیں پایا ہے۔
حدیث 4949 — سنن أبي داود 43:177
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (2132)
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ، سَبَلاَنُ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَحَبُّ الأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں ۔
حدیث 4950 — سنن أبي داود 43:178
صحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّالْقَانِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَقِيلُ بْنُ شَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجُشَمِيِّ، وَكَانَتْ، لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَسَمَّوْا بِأَسْمَاءِ الأَنْبِيَاءِ وَأَحَبُّ الأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَأَصْدَقُهَا حَارِثٌ وَهَمَّامٌ وَأَقْبَحُهَا حَرْبٌ وَمُرَّةُ ‏"‏ ‏.‏
ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ، انہیں شرف صحبت حاصل ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء کے نام رکھا کرو، اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب و پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں، اور سب سے سچے نام حارث و ہمام ہیں ۱؎، اور سب سے نا پسندیدہ و قبیح نام حرب و مرہ ہیں ۲؎۔
حدیث 4951 — سنن أبي داود 43:179
صحیحصحیحصحیح Muslim (2144)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ ذَهَبْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ وُلِدَ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي عَبَاءَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ قَالَ ‏"‏ هَلْ مَعَكَ تَمْرٌ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ - قَالَ - فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلاَكَهُنَّ ثُمَّ فَغَرَ فَاهُ فَأَوْجَرَهُنَّ إِيَّاهُ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ حِبُّ الأَنْصَارِ التَّمْرُ ‏"‏ ‏.‏ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ ‏.‏
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی طلحہ کی پیدائش پر میں ان کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ اس وقت عبا پہنے ہوئے تھے، اور اپنے ایک اونٹ کو دوا لگا رہے تھے، آپ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس کھجور ہے؟ میں نے کہا: ہاں، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی کھجوریں پکڑائیں، آپ نے ان کو اپنے منہ میں ڈالا اور چبا کر بچے کا منہ کھولا اور اس کے منہ میں ڈال دیا تو بچہ منہ چلا کر چوسنے لگا، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصار کی پسندیدہ چیز کھجور ہے اور آپ نے اس لڑکے کا نام عبداللہ رکھا۔
حدیث 4952 — سنن أبي داود 43:180
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (2139)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ وَقَالَ ‏ "‏ أَنْتِ جَمِيلَةُ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصیہ کا نام بدل دیا ۱؎، اور فرمایا: تو جمیلہ ہے ۲؎۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔