قرآني·Qurani
اردو

الأدب

502 احادیث · #4773–5274

حدیث 4783 — سنن أبي داود 43:11
صحیحصحیح Lighairihiصحیح
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ بَكْرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ أَبَا ذَرٍّ بِهَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا أَصَحُّ الْحَدِيثَيْنِ ‏.‏
بکر سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوذر کو بھیجا آگے یہی حدیث مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: دونوں حدیثوں میں یہ زیادہ صحیح ہے۔
حدیث 4784 — سنن أبي داود 43:12
ضعیفضعیفضعیفIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو وَائِلٍ الْقَاصُّ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ السَّعْدِيِّ فَكَلَّمَهُ رَجُلٌ فَأَغْضَبَهُ فَقَامَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَجَعَ وَقَدْ تَوَضَّأَ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي عَطِيَّةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الْغَضَبَ مِنَ الشَّيْطَانِ وَإِنَّ الشَّيْطَانَ خُلِقَ مِنَ النَّارِ وَإِنَّمَا تُطْفَأُ النَّارُ بِالْمَاءِ فَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ ‏"‏ ‏.‏
ابووائل قاص کہتے ہیں کہ ہم عروہ بن محمد بن سعدی کے پاس داخل ہوئے، ان سے ایک شخص نے گفتگو کی تو انہیں غصہ کر دیا، وہ کھڑے ہوئے اور وضو کیا، پھر لوٹے اور وہ وضو کئے ہوئے تھے، اور بولے: میرے والد نے مجھ سے بیان کیا وہ میرے دادا عطیہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غصہ شیطان کے سبب ہوتا ہے، اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے، اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے، لہٰذا تم میں سے کسی کو جب غصہ آئے تو وضو کر لے ۔
حدیث 4785 — سنن أبي داود 43:13
صحیحصحیحصحیح Bukhari (6126) Sahih Muslim (2327)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّهَا قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي أَمْرَيْنِ إِلاَّ اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِنَفْسِهِ إِلاَّ أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ تَعَالَى فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ بِهَا ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کاموں میں جب بھی اختیار کا حکم دیا گیا تو آپ نے اس میں آسان تر کو منتخب کیا، جب تک کہ وہ گناہ نہ ہو، اور اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ لوگوں میں سب سے زیادہ اس سے دور رہنے والے ہوتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خاطر کبھی انتقام نہیں لیا، اس صورت کے علاوہ کہ اللہ تعالیٰ کی حرمت کو پامال کیا جاتا ہو تو آپ اس صورت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اس سے بدلہ لیتے ۱؎۔
حدیث 4786 — سنن أبي داود 43:14
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها، قَالَتْ مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَادِمًا وَلاَ امْرَأَةً قَطُّ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کبھی کسی خادم کو مارا، اور نہ کبھی کسی عورت کو۔
حدیث 4787 — سنن أبي داود 43:15
صحیحصحیحصحیح Bukhari (4644)
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ - فِي قَوْلِهِ ‏{‏ خُذِ الْعَفْوَ ‏}‏ قَالَ أُمِرَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَأْخُذَ الْعَفْوَ مِنْ أَخْلاَقِ النَّاسِ ‏.‏
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے اللہ کے فرمان «خذ العفو» عفو کو اختیار کرو کی تفسیر کے سلسلے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ وہ لوگوں کے اخلاق میں سے عفو کو اختیار کریں۔
حدیث 4788 — سنن أبي داود 43:16
صحیحصحیحصحیح Bukhari (6101) Sahih Muslim (2356)
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ، - يَعْنِي الْحِمَّانِيَّ - حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا بَلَغَهُ عَنِ الرَّجُلِ الشَّىْءُ لَمْ يَقُلْ مَا بَالُ فُلاَنٍ يَقُولُ وَلَكِنْ يَقُولُ ‏ "‏ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَقُولُونَ كَذَا وَكَذَا ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی شخص کے بارے میں کوئی بری بات پہنچتی تو آپ یوں نہ فرماتے: فلاں کو کیا ہوا کہ وہ ایسا کہتا ہے؟ بلکہ یوں فرماتے: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو ایسا اور ایسا کہتے ہیں ۔
حدیث 4789 — سنن أبي داود 43:17
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلاً، دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ - وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَلَّمَا يُوَاجِهُ رَجُلاً فِي وَجْهِهِ بِشَىْءٍ يَكْرَهُهُ - فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ ‏ "‏ لَوْ أَمَرْتُمْ هَذَا أَنْ يَغْسِلَ ذَا عَنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَلْمٌ لَيْسَ هُوَ عَلَوِيًّا كَانَ يُبْصِرُ فِي النُّجُومِ وَشَهِدَ عِنْدَ عَدِيِّ بْنِ أَرْطَاةَ عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلاَلِ فَلَمْ يُجِزْ شَهَادَتَهُ ‏.‏
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس پر زردی کا نشان تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حال یہ تھا کہ آپ بہت کم کسی ایسے شخص کے روبرو ہوتے، جس کے چہرے پر کوئی ایسی چیز ہوتی جسے آپ ناپسند کرتے تو جب وہ نکل گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کاش تم لوگ اس سے کہتے کہ وہ اسے اپنے سے دھو ڈالے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سلم علوی ( یعنی اولاد علی میں سے ) نہیں تھا بلکہ وہ ستارے دیکھا کرتا تھا ۱؎ اور اس نے عدی بن ارطاۃ کے پاس چاند دیکھنے کی گواہی دی تو انہوں نے اس کی گواہی قبول نہیں کی۔
حدیث 4790 — سنن أبي داود 43:18
حسنحسنضعیف
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ فُرَافِصَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَفَعَاهُ جَمِيعًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْمُؤْمِنُ غِرٌّ كَرِيمٌ وَالْفَاجِرُ خِبٌّ لَئِيمٌ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن بھولا بھالا اور شریف ہوتا ہے اور فاجر فسادی اور کمینہ ہوتا ہے ۔
حدیث 4791 — سنن أبي داود 43:19
صحیحصحیحصحیح Bukhari (6054) Sahih Muslim (2591)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ ‏"‏ بِئْسَ رَجُلُ الْعَشِيرَةِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ ائْذَنُوا لَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا دَخَلَ أَلاَنَ لَهُ الْقَوْلَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ وَقَدْ قُلْتَ لَهُ مَا قُلْتَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ شَرَّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ وَدَعَهُ - أَوْ تَرَكَهُ - النَّاسُ لاِتِّقَاءِ فُحْشِهِ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اندر آنے کی ) اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا: اپنے خاندان کا لڑکا یا خاندان کا آدمی برا شخص ہے پھر فرمایا: اسے اجازت دے دو، جب وہ اندر آ گیا تو آپ نے اس سے نرمی سے گفتگو کی، اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے اس سے نرم گفتگو کی حالانکہ آپ اس کے متعلق ایسی ایسی باتیں کہہ چکے تھے، آپ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے برا شخص اللہ کے نزدیک قیامت کے دن وہ ہو گا جس سے لوگوں نے اس کی فحش کلامی سے بچنے کے لیے علیحدگی اختیار کر لی ہو یا اسے چھوڑ دیا ہو ۔
حدیث 4792 — سنن أبي داود 43:20
حسن Sahihحسن SahihحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ رَجُلاً، اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا دَخَلَ انْبَسَطَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَلَّمَهُ فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمَّا اسْتَأْذَنَ قُلْتَ ‏"‏ بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا دَخَلَ انْبَسَطْتَ إِلَيْهِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اندر آنے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا: اپنے کنبے کا برا شخص ہے جب وہ اندر آ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے کشادہ دلی سے ملے اور اس سے باتیں کیں، جب وہ نکل کر چلا گیا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب اس نے اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا: اپنے کنبے کا برا شخص ہے، اور جب وہ اندر آ گیا تو آپ اس سے کشادہ دلی سے ملے آپ نے فرمایا: عائشہ! اللہ تعالیٰ کو فحش گو اور منہ پھٹ شخص پسند نہیں ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔