قرآني·Qurani
اردو

الأدب

502 احادیث · #4773–5274

حدیث 4963 — سنن أبي داود 43:191
حسن Sahihحسن SahihIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رضى الله عنه ضَرَبَ ابْنًا لَهُ تَكَنَّى أَبَا عِيسَى وَأَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ تَكَنَّى بِأَبِي عِيسَى فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَمَا يَكْفِيكَ أَنْ تُكَنَّى بِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَنَّانِي فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ وَإِنَّا فِي جَلْجَلَتِنَا فَلَمْ يَزَلْ يُكْنَى بِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ حَتَّى هَلَكَ ‏.‏
اسلم کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک بیٹے کو مارا جس نے اپنی کنیت ابوعیسیٰ رکھی تھی اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بھی ابوعیسیٰ کنیت رکھی تھی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ تم ابوعبداللہ کنیت اختیار کرو؟ ۱؎وہ بولے: میری یہ کنیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی رکھی ہے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تو اگلے پچھلے سب گناہ بخش دئیے گئے تھے، اور ہم تو اپنی ہی طرح کے چند لوگوں میں سے ایک ہیں ۲؎ چنانچہ وہ ہمیشہ ابوعبداللہ کی کنیت سے پکارے جاتے رہے، یہاں تک کہ انتقال فرما گئے۔
حدیث 4964 — سنن أبي داود 43:192
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (2151)
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا ح، وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، - وَسَمَّاهُ ابْنُ مَحْبُوبٍ الْجَعْدَ - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ ‏ "‏ يَا بُنَىَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يُثْنِي عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ مَحْبُوبٍ وَيَقُولُ كَثِيرُ الْحَدِيثِ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے میرے بیٹے! ۔
حدیث 4965 — سنن أبي داود 43:193
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (6188) Sahih Muslim (2134)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلاَ تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ وَسَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرٍ وَسُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ عَنْ جَابِرٍ وَابْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ نَحْوَهُمْ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ رکھو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوصالح نے ابوہریرہ سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اسی طرح ابوسفیان، سالم بن ابی الجعد، سلیمان یشکری اور ابن منکدر وغیرہ کی روایتیں بھی ہیں جو جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں، اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت بھی اسی طرح ہے ( یعنی اس میں بھی یہی ہے کہ میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو ) ۔
حدیث 4966 — سنن أبي داود 43:194
MunkarMunkarحسن
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ تَسَمَّى بِاسْمِي فَلاَ يَكْتَنِي بِكُنْيَتِي وَمَنْ تَكَنَّى بِكُنْيَتِي فَلاَ يَتَسَمَّى بِاسْمِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى بِهَذَا الْمَعْنَى ابْنُ عَجْلاَنَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَرُوِيَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مُخْتَلِفًا عَلَى الرِّوَايَتَيْنِ وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ اخْتُلِفَ فِيهِ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ جُرَيْجٍ عَلَى مَا قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ وَرَوَاهُ مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَلَى مَا قَالَ ابْنُ سِيرِينَ وَاخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى مُوسَى بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَيْضًا عَلَى الْقَوْلَيْنِ اخْتَلَفَ فِيهِ حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ وَابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ‏.‏
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو میرا نام رکھے، وہ میری کنیت نہ رکھے، اور جو میری کنیت رکھے، وہ میرا نام نہ رکھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی مفہوم کی حدیث ابن عجلان نے اپنے والد سے، اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، اور ابوزرعہ کی روایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان دونوں روایتوں سے مختلف روایت کی گئی ہے، اور اسی طرح عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ کی روایت جسے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں بھی کچھ اختلاف ہے، اسے ثوری اور ابن جریج نے ابو الزبیر کی طرح روایت کیا ہے، اور اسے معقل بن عبیداللہ نے ابن سیرین کی طرح روایت کیا ہے، اور جسے موسیٰ بن یسار نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں بھی اختلاف کیا گیا ہے، حماد بن خالد اور ابن ابی فدیک کے دو مختلف قول ہیں ۱؎۔
حدیث 4967 — سنن أبي داود 43:195
صحیحصحیحIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ مُنْذِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَحِمَهُ اللَّهُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ وُلِدَ لِي مِنْ بَعْدِكَ وَلَدٌ أُسَمِّيهِ بِاسْمِكَ وَأُكْنِيهِ بِكُنْيَتِكَ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ أَبُو بَكْرٍ قُلْتُ قَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ کے بعد میرے بیٹا پیدا ہو تو میں اس کا نام اور اس کی کنیت آپ کے نام اور آپ کی کنیت پر رکھوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں ۔
حدیث 4968 — سنن أبي داود 43:196
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْحَجَبِيُّ، عَنْ جَدَّتِهِ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ وَلَدْتُ غُلاَمًا فَسَمَّيْتُهُ مُحَمَّدًا وَكَنَّيْتُهُ أَبَا الْقَاسِمِ فَذُكِرَ لِي أَنَّكَ تَكْرَهُ ذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ مَا الَّذِي أَحَلَّ اسْمِي وَحَرَّمَ كُنْيَتِي ‏"‏ ‏.‏ أَوْ ‏"‏ مَا الَّذِي حَرَّمَ كُنْيَتِي وَأَحَلَّ اسْمِي ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: اللہ کے رسول! میرے ایک لڑکا پیدا ہوا ہے، میں نے اس کا نام محمد اور اس کی کنیت ابوالقاسم رکھ دی ہے، تو مجھے بتایا گیا کہ آپ اسے ناپسند کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: کیا سبب ہے کہ میرا نام رکھنا درست ہے اور کنیت رکھنا نا درست یا یوں فرمایا: کیا سبب ہے کہ میری کنیت رکھنا نا درست ہے اور نام رکھنا درست؟ ۱؎ ۔
حدیث 4969 — سنن أبي داود 43:197
صحیحصحیحIsnaad Sahih Sahih Bukhari (847)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْخُلُ عَلَيْنَا وَلِي أَخٌ صَغِيرٌ يُكْنَى أَبَا عُمَيْرٍ وَكَانَ لَهُ نُغَرٌ يَلْعَبُ بِهِ فَمَاتَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ فَرَآهُ حَزِينًا فَقَالَ ‏"‏ مَا شَأْنُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا مَاتَ نُغَرُهُ فَقَالَ ‏"‏ يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ‏"‏ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں آتے تھے، اور میرا ایک چھوٹا بھائی تھا جس کی کنیت ابوعمیر تھی، اس کے پاس ایک چڑیا تھی، وہ اس سے کھیلتا تھا، وہ مر گئی، پھر ایک دن اچانک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے تو اسے رنجیدہ و غمگین دیکھ کر فرمایا: کیا بات ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اس کی چڑیا مر گئی، تو آپ نے فرمایا: اے ابوعمیر! کیا ہوا نغیر ( چڑیا ) کو؟ ۔
حدیث 4970 — سنن أبي داود 43:198
صحیحصحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ صَوَاحِبِي لَهُنَّ كُنًى ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ فَاكْتَنِي بِابْنِكِ عَبْدِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي ابْنَ أُخْتِهَا قَالَ مُسَدَّدٌ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ فَكَانَتْ تُكَنَّى بِأُمِّ عَبْدِ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَكَذَا قَالَ قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ وَمَعْمَرٌ جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ نَحْوَهُ وَرَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ وَكَذَلِكَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَمَسْلَمَةُ بْنُ قَعْنَبٍ عَنْ هِشَامٍ كَمَا قَالَ أَبُو أُسَامَةَ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری تمام سہیلیوں کی کنیتیں ہیں، آپ نے فرمایا: تو تم اپنے بیٹے یعنی اپنے بھانجے عبداللہ کے ساتھ کنیت رکھ لو مسدد کی روایت میں ( عبداللہ کے بجائے ) عبداللہ بن زبیر ہے، عروہ کہتے ہیں: چنانچہ ان کی کنیت ام عبداللہ تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: قران بن تمام اور معمر دونوں نے ہشام سے اسی طرح روایت کی ہے، اور ابواسامہ نے ہشام سے اور ہشام نے عباد بن حمزہ سے اسے روایت کیا ہے، اور اسی طرح اسے حماد بن سلمہ اور مسلمہ بن قعنب نے ہشام سے روایت کیا ہے جیسا کہ ابواسامہ نے کہا ہے۔
حدیث 4971 — سنن أبي داود 43:199
ضعیفضعیفVery Daifضعیف
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ، - إِمَامُ مَسْجِدِ حِمْصٍ - حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ ضُبَارَةَ بْنِ مَالِكٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدٍ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ كَبُرَتْ خِيَانَةً أَنْ تُحَدِّثَ أَخَاكَ حَدِيثًا هُوَ لَكَ بِهِ مُصَدِّقٌ وَأَنْتَ لَهُ بِهِ كَاذِبٌ ‏"‏ ‏.‏
سفیان بن اسید حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: یہ بہت بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے بھائی سے ایسی بات بیان کرو جسے وہ تو سچ جانے اور تم خود اس سے جھوٹ کہو۔
حدیث 4972 — سنن أبي داود 43:200
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ لأَبِي عَبْدِ اللَّهِ أَوْ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لأَبِي مَسْعُودٍ مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي ‏"‏ زَعَمُوا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ زَعَمُوا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ هَذَا حُذَيْفَةُ ‏.‏
ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ابوعبداللہ (حذیفہ) رضی اللہ عنہ سے یا ابوعبداللہ نے ابومسعود سے کہا نے «زعموا» کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا فرماتے سنا؟ وہ بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: «زعموا» ( لوگوں نے گمان کیا ) آدمی کی بہت بری سواری ہے ۱؎۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔