انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھتے «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وكفانا وآوانا فكم ممن لا كافي له ولا مئوي» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو کھلایا اور پلایا، دشمن کے شر سے بچایا، ہم کو پناہ دی، کتنے بندے تو ایسے ہیں جنہیں نہ کوئی بچانے والا ہے، اور نہ کوئی پناہ دینے والا ہے ۔
ابوالازہر انماری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں جب اپنی خواب گاہ پر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: «بسم الله وضعت جنبي اللهم اغفر لي ذنبي وأخسئ شيطاني وفك رهاني واجعلني في الندي الأعلى» اللہ کے نام پر میں نے اپنے پہلو کو ڈال دیا ( یعنی لیٹ گیا ) اے اللہ میرے گناہ بخش دے، میرے شیطان کو دھتکار دے، مجھے گروی سے آزاد کر دے اور مجھے اونچی مجلس میں کر دے، ( یعنی ملائکہ، انبیاء و صلحاء کی مجلس میں ) ۔
حدیث 5055 — سنن أبي داود 43:283
صحیحصحیححسنحسن
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِنَوْفَلٍ " اقْرَأْ { قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ } ثُمَّ نَمْ عَلَى خَاتِمَتِهَا فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ " .
نوفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: «قل يا أيها الكافرون» پڑھو ( یعنی پوری سورۃ ) اور پھر اسے ختم کر کے سو جاؤ، کیونکہ یہ سورۃ شرک سے براءت ہے ۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب اپنے بچھونے پر سونے آتے تو اپنی ہتھیلیوں کو ملاتے پھر ان میں پھونکتے اور ان میں «قل هو الله أحد» «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» پڑھتے، پھر ان کو جہاں تک وہ پہنچ سکتیں اپنے بدن پر پھیرتے، اپنے سر، چہرے اور جسم کے اگلے حصے سے پھیرنا شروع کرتے، ایسا آپ تین بار کرتے۔
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے «المسبحات» ۱؎ پڑھتے تھے، اور فرماتے تھے: ان میں ایک آیت ایسی ہے جو ہزار آیتوں سے افضل ہے ۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی خواب گاہ میں آتے تو کہتے: «الحمد لله الذي كفاني وآواني وأطعمني وسقاني والذي من على فأفضل والذي أعطاني فأجزل الحمد لله على كل حال اللهم رب كل شىء ومليكه وإله كل شىء أعوذ بك من النار» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے ہر آفت سے بچایا اور ٹھکانا عطا کیا، اور جس نے مجھے کھلایا، اور پلایا اور جس نے مجھ پر احسان کیا اور بڑا احسان کیا، اور جس نے مجھے دیا، اور بہت دیا، اللہ کے لیے ہر حال میں حمد و شکر ہے، اے اللہ! اے ہر چیز کو پالنے والے اور ہر چیز کے مالک! اے ہر چیز کے حقیقی معبود! میں تیری پناہ چاہتا ہوں آگ سے ۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی جگہ لیٹے اور اس میں اللہ کو یاد نہ کرے تو قیامت کے دن اسے حسرت و ندامت ہو گی، اور جو شخص ایسی جگہ بیٹھے جس میں اللہ کو یاد نہ کرے تو قیامت کے دن اسے حسرت و ندامت ہو گی ۔
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نیند سے بیدار ہوا اور بیدار ہوتے ہی اس نے«لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» کہا پھر دعا کی «رب اغفر لي» کہ اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے ( ولید کی روایت میں ہے، اور دعا کی ) تو اس کی دعا قبول کی جائے گی، اور اگر وہ اٹھا اور وضو کیا، پھر نماز پڑھی تو اس کی نماز مقبول ہو گی ۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نیند سے جب بیدار ہوتے یہ دعا پڑھتے: «لا إله إلا أنت سبحانك اللهم أستغفرك لذنبي وأسألك رحمتك اللهم زدني علما ولا تزغ قلبي بعد إذ هديتني وهب لي من لدنك رحمة إنك أنت الوهاب» تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے، پاک و برتر ہے تیری ذات، اے پروردگار! میں تجھ سے اپنے گناہ کی معافی چاہتا ہوں، تیری رحمت کا خواستگار ہوں، اے اللہ! میرے علم میں اضافہ فرما، اور ہدایت مل جانے کے بعد میرے دل کو کجی سے محفوظ رکھ، مجھے اپنی رحمت سے نواز، بیشک تو بڑا نواز نے والا ہے ۔
حدیث 5062 — سنن أبي داود 43:290
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (5361) Sahih Muslim (2727)
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چکی پیسنے سے اپنے ہاتھ میں پہنچنے والی تکلیف کی شکایت لے کر گئیں، اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی لائے گئے تو وہ آپ کے پاس لونڈی مانگنے آئیں، لیکن آپ نہ ملے تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتا کر چلی آئیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو بتایا ( کہ فاطمہ آئی تھیں ایک خادمہ مانگ رہی تھیں ) یہ سن کر آپ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم سونے کے لیے اپنی خواب گاہ میں لیٹ چکے تھے، ہم اٹھنے لگے تو آپ نے فرمایا: اپنی اپنی جگہ پر رہو ( اٹھنا ضروری نہیں ) چنانچہ آپ آ کر ہمارے بیچ میں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ میں نے آپ کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی، آپ نے فرمایا: کیا میں تم دونوں کو اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں جو تم نے مانگی ہے، جب تم سونے چلو تو ( ۳۳ ) بار سبحان اللہ کہو، ( ۳۳ ) بار الحمدللہ کہو، اور ( ۳۴ ) بار اللہ اکبر کہو، یہ تم دونوں کے لیے خادم سے بہتر ہے ۔