قرآني·Qurani
اردو

الأدب

502 احادیث · #4773–5274

حدیث 5073 — سنن أبي داود 43:301
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، وَإِسْمَاعِيلُ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَنْبَسَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَنَّامٍ الْبَيَاضِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ اللَّهُمَّ مَا أَصْبَحَ بِي مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنْكَ وَحْدَكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ فَلَكَ الْحَمْدُ وَلَكَ الشُّكْرُ ‏.‏ فَقَدْ أَدَّى شُكْرَ يَوْمِهِ وَمَنْ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ حِينَ يُمْسِي فَقَدْ أَدَّى شُكْرَ لَيْلَتِهِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن غنام بیاضی انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح کے وقت یہ دعا پڑھی «اللهم ما أصبح بي من نعمة فمنك وحدك لا شريك لك فلك الحمد ولك الشكر» اے اللہ! صبح کو جو نعمتیں میرے پاس ہیں وہ تیری ہی دی ہوئی ہیں، تو اکیلا ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں ہے، تو ہی ہر طرح کی تعریف کا مستحق ہے، اور میں تیرا ہی شکر گزار ہوں تو اس نے اس دن کا شکر ادا کر دیا اور جس نے شام کے وقت ایسا ہی کہا تو اس نے اس رات کا شکر ادا کر دیا۔
حدیث 5074 — سنن أبي داود 43:302
صحیحصحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - الْمَعْنَى - حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ مُسْلِمٍ الْفَزَارِيُّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَعُ هَؤُلاَءِ الدَّعَوَاتِ حِينَ يُمْسِي وَحِينَ يُصْبِحُ ‏"‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَاىَ وَأَهْلِي وَمَالِي اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِي ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ عُثْمَانُ ‏"‏ عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَىَّ وَمِنْ خَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي وَمِنْ فَوْقِي وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي الْخَسْفَ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح اور شام کرتے تو ان دعاؤں کا پڑھنا نہیں چھوڑتے تھے«اللهم إني أسألك العافية في الدنيا والآخرة اللهم إني أسألك العفو والعافية في ديني ودنياى وأهلي ومالي اللهم استر عورتي» ( عثمان کی روایت میں «عوراتي» ہے ) «عوراتي وآمن روعاتي اللهم احفظني من بين يدى ومن خلفي وعن يميني وعن شمالي ومن فوقي وأعوذ بعظمتك أن أغتال من تحتي» اے للہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت میں عافیت کا طالب ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے عفو و درگزر کی، اپنے دین و دنیا، اہل و عیال، مال میں بہتری و درستگی کی درخواست کرتا ہوں، اے اللہ! ہماری ستر پوشی فرما۔ اے اللہ! ہماری شرمگاہوں کی حفاظت فرما، اور ہمیں خوف و خطرات سے مامون و محفوظ رکھ، اے اللہ! تو ہماری حفاظت فرما آگے سے، اور پیچھے سے، دائیں اور بائیں سے، اوپر سے، اور میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں اچانک اپنے نیچے سے پکڑ لیا جاؤں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وکیع کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ زمین میں دھنسا نہ دیا جاؤں۔
حدیث 5075 — سنن أبي داود 43:303
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ سَالِمًا الْفَرَّاءَ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّهُ حَدَّثَتْهُ وَكَانَتْ، تَخْدِمُ بَعْضَ بَنَاتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ بِنْتَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم حَدَّثَتْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُعَلِّمُهَا فَيَقُولُ ‏ "‏ قُولِي حِينَ تُصْبِحِينَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ لاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَىْءٍ عِلْمًا فَإِنَّهُ مَنْ قَالَهُنَّ حِينَ يُصْبِحُ حُفِظَ حَتَّى يُمْسِيَ وَمَنْ قَالَهُنَّ حِينَ يُمْسِي حُفِظَ حَتَّى يُصْبِحَ ‏"‏ ‏.‏
بنی ہاشم کے غلام عبدالحمید بیان کرتے ہیں کہ ان کی ماں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیٹی کی خدمت میں رہا کرتی تھیں انہیں بتایا کہ ان کی صاحبزادی نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سکھاتے تھے کہ جب تم صبح کرو تو کہو «سبحان الله وبحمده لا قوة إلا بالله ما شاء الله كان وما لم يشأ لم يكن أعلم أن الله على كل شىء قدير وأن الله قد أحاط بكل شىء علما» میں اللہ کی پاکی بیان کرتا، اور اس کی تعریف کرتا ہوں، کسی میں طاقت نہیں سوائے اللہ کے، جو اللہ چاہے گا وہی ہو گا، اور جو وہ نہیں چاہے وہ نہیں ہو گا، میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اور اللہ اپنے علم سے ہر چیز کو محیط ہے جو شخص ان کلمات کو صبح کے وقت کہے گا اس کی ( اللہ کی طرف سے ) شام تک حفاظت کی جائے گی، اور جو شام کے وقت کہے گا اس کی صبح تک۔
حدیث 5076 — سنن أبي داود 43:304
Very DaifVery Daifضعیف
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنَا ح، وَحَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ النَّجَّارِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، - قَالَ الرَّبِيعُ ابْنُ الْبَيْلَمَانِيِّ - عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ ‏{‏ فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ * وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ ‏}‏ إِلَى ‏{‏ وَكَذَلِكَ تُخْرَجُونَ ‏}‏ أَدْرَكَ مَا فَاتَهُ فِي يَوْمِهِ ذَلِكَ وَمَنْ قَالَهُنَّ حِينَ يُمْسِي أَدْرَكَ مَا فَاتَهُ فِي لَيْلَتِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الرَّبِيعُ عَنِ اللَّيْثِ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت «فسبحان الله حين تمسون وحين تصبحون، وله الحمد في السموات والأرض وعشيا وحين تظهرون» سے لے کر «وكذلك تخرجون» تک کہے تو اس دن کے ثواب میں جو کمی رہ گئی ہو گی اس کی تلافی ہو جائے گی، اور جو شخص شام کو ان کلمات کو کہے تو اس رات میں اس کی نیکیوں و بھلائیوں میں جو کمی رہ گئی ہو گی اس کی تلافی ہو جائے گی۔
حدیث 5077 — سنن أبي داود 43:305
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، وَوُهَيْبٌ، نَحْوَهُ عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَائِشٍ، - وَقَالَ حَمَّادٌ عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ، - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ كَانَ لَهُ عِدْلُ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَكُتِبَ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَحُطَّ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ وَكَانَ فِي حِرْزٍ مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ وَإِنْ قَالَهَا إِذَا أَمْسَى كَانَ لَهُ مِثْلُ ذَلِكَ حَتَّى يُصْبِحَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فِي حَدِيثِ حَمَّادٍ فَرَأَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيمَا يَرَى النَّائِمُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا عَيَّاشٍ يُحَدِّثُ عَنْكَ بِكَذَا وَكَذَا قَالَ ‏"‏ صَدَقَ أَبُو عَيَّاشٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ وَمُوسَى الزَّمْعِيُّ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَائِشٍ ‏.‏
ابوعیاش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» کہے تو اسے اولاد اسماعیل میں سے ایک گردن آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا، اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، دس برائیاں مٹا دی جائیں گی، اس کے دس درجے بلند کر دئیے جائیں گے، اور وہ شام تک شیطان کے شر سے محفوظ رہے گا، اور اگر شام کے وقت کہے تو صبح تک اس کے ساتھ یہی معاملہ ہو گا۔ حماد کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( خواب میں ) دیکھا جیسے سونے والا دیکھتا ہے تو اس نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوعیاش آپ سے ایسی ایسی حدیث روایت کرتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ابوعیاش صحیح کہہ رہے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اسماعیل بن جعفر، موسی زمعی اور عبداللہ بن جعفر نے سہیل بن أبی صالح سے سہیل نے اپنے والد سے اور ابوصالح نے ابن عائش سے روایت کیا ہے۔
حدیث 5078 — سنن أبي داود 43:306
ضعیفضعیفحسنحسن
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ مُسْلِمٍ، - يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ - قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَصْبَحْتُ أُشْهِدُكَ وَأُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ وَمَلاَئِكَتَكَ وَجَمِيعَ خَلْقِكَ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ وَحْدَكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ إِلاَّ غُفِرَ لَهُ مَا أَصَابَ فِي يَوْمِهِ ذَلِكَ مِنْ ذَنْبٍ وَإِنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي غُفِرَ لَهُ مَا أَصَابَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ ‏"‏ ‏.‏
مسلم بن زیاد کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح کے وقت «اللهم إني أصبحت أشهدك وأشهد حملة عرشك وملائكتك وجميع خلقك أنك أنت الله لا إله إلا أنت وحدك لا شريك لك وأن محمدا عبدك ورسولك» اے اللہ! میں نے صبح کی میں تجھے اور تیرے عرش کے اٹھانے والوں کو تیرے فرشتوں کو اور تیری تمام مخلوقات کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں کہا تو اس دن اس سے جتنے بھی گناہ سرزد ہوئے ہوں گے، سب معاف کر دیے جائیں گے، اور جس کسی نے ان کلمات کو شام کے وقت کہا تو اس رات میں اس سے جتنے گناہ سرزد ہوئے ہوں گے سب معاف کر دئیے جائیں گے۔
حدیث 5079 — سنن أبي داود 43:307
ضعیفضعیفضعیفحسن
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو النَّضْرِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْفِلَسْطِينِيُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَسَّانَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُسْلِمٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، مُسْلِمِ بْنِ الْحَارِثِ التَّمِيمِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ أَسَرَّ إِلَيْهِ فَقَالَ ‏ "‏ إِذَا انْصَرَفْتَ مِنْ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ فَقُلِ اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ ‏.‏ سَبْعَ مَرَّاتٍ فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ ثُمَّ مِتَّ فِي لَيْلَتِكَ كُتِبَ لَكَ جِوَارٌ مِنْهَا وَإِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَقُلْ كَذَلِكَ فَإِنَّكَ إِنْ مِتَّ فِي يَوْمِكَ كُتِبَ لَكَ جِوَارٌ مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏ أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ عَنِ الْحَارِثِ أَنَّهُ قَالَ أَسَرَّهَا إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَحْنُ نَخُصُّ بِهَا إِخْوَانَنَا ‏.‏
مسلم بن حارث تمیمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چپکے سے ان سے کہا: جب تم مغرب سے فارغ ہو جاؤ تو سات مرتبہ کہو «اللهم أجرني من النار» اے اللہ مجھے جہنم سے بچا لے اگر تم نے یہ دعا پڑھ لی اور اسی رات میں تمہارا انتقال ہو گیا، تو تمہارے لیے جہنم سے پناہ لکھ دی جائے گی، اور جب تم فجر پڑھ کر فارغ ہو اور ایسے ہی ( یعنی سات مرتبہ «اللهم أجرني من النار» ) کہو اور پھر اسی دن میں تمہارا انتقال ہو جائے تو تمہارے لیے جہنم سے پناہ لکھ دی جائے گی۔ محمد بن شعیب کہتے ہیں کہ مجھے ابوسعید نے بتایا وہ حارث سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات مجھے چپکے سے بتائی ہے، اس لیے ہم اسے اپنے خاص بھائیوں ہی سے بیان کرتے ہیں ( ہر شخص سے نہیں کہتے، یا ہم اس دعا کو اپنے خاندان والوں کے لیے خاص سمجھتے ہیں ) ۔
حدیث 5080 — سنن أبي داود 43:308
ضعیفضعیفحسن
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، قَالُوا حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَسَّانَ الْكِنَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ مُسْلِمٍ التَّمِيمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَحْوَهُ إِلَى قَوْلِهِ ‏"‏ جِوَارٌ مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ فِيهِمَا ‏"‏ قَبْلَ أَنْ تُكَلِّمَ أَحَدًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ فِيهِ إِنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ وَقَالَ عَلِيٌّ وَابْنُ الْمُصَفَّى بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَرِيَّةٍ فَلَمَّا بَلَغْنَا الْمُغَارَ اسْتَحْثَثْتُ فَرَسِي فَسَبَقْتُ أَصْحَابِي وَتَلَقَّانِي الْحَىُّ بِالرَّنِينِ فَقُلْتُ لَهُمْ قُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ تُحْرَزُوا فَقَالُوهَا فَلاَمَنِي أَصْحَابِي وَقَالُوا حَرَمْتَنَا الْغَنِيمَةَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرُوهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ فَدَعَانِي فَحَسَّنَ لِي مَا صَنَعْتُ وَقَالَ ‏"‏ أَمَا إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَتَبَ لَكَ مِنْ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ كَذَا وَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَأَنَا نَسِيتُ الثَّوَابَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَا إِنِّي سَأَكْتُبُ لَكَ بِالْوَصَاةِ بَعْدِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَفَعَلَ وَخَتَمَ عَلَيْهِ فَدَفَعَهُ إِلَىَّ وَقَالَ لِي ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَاهُمْ وَقَالَ ابْنُ الْمُصَفَّى قَالَ سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ الْحَارِثِ التَّمِيمِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ‏.‏
حارث بن مسلم تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا جیسے اوپر گزرا «كتب لك جوار منها» تک مگر اس میں دونوں میں اتنا اضافہ ہے کہ: یہ دعا کسی سے بات کرنے سے پہلے پڑھے۔ اور علی اور ابن مصفٰی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا پھر جب ہم اس جگہ کے قریب پہنچے جہاں ہمیں چھاپہ مارنا اور حملہ کرنا تھا، تو میں نے اپنے گھوڑے کو تیزی سے آگے بڑھایا اور اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گیا، بستی والے ( ہمیں دیکھ کر ) چیخنے چلانے لگے، میں نے ان سے کہا: «لا إله إلا الله» کہہ دو ( ایمان لے آؤ ) تو بچ جاؤ گے، تو انہوں نے «لا إله إلا الله» کہہ دیا، میرے ساتھی مجھے ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے: تو نے ہمیں غنیمت سے محروم کر دیا، جب وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو ان لوگوں نے میں نے جو کیا تھا اس سے آپ کو باخبر کیا، تو آپ نے مجھے بلایا اور میرے کام کی تعریف کی اور فرمایا: سن! اللہ نے تمہیں اس بستی کے ہر ہر فرد کے بدلے اتنا اتنا ثواب دیا ہے ( عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں ثواب بھول گیا ) ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تیرے لیے ایک وصیت نامہ لکھ دیتا ہوں ( وہ میرے بعد تیرے کام آئے گا ) ، پھر آپ نے لکھا، اس پر اپنی مہر ثبت کی اور مجھے دے دیا اور فرمایا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔
حدیث 5081 — سنن أبي داود 43:309
MawduMawduIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ مُسْلِمٍ الدِّمَشْقِيُّ، - وَكَانَ مِنْ ثِقَاتِ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الْمُتَعَبِّدِينَ - قَالَ حَدَّثَنَا مُدْرِكُ بْنُ سَعْدٍ - قَالَ يَزِيدُ شَيْخٌ ثِقَةٌ - عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضى الله عنه قَالَ مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى حَسْبِيَ اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ سَبْعَ مَرَّاتٍ كَفَاهُ اللَّهُ مَا أَهَمَّهُ صَادِقًا كَانَ بِهَا أَوْ كَاذِبًا ‏.‏
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو شخص صبح کے وقت اور شام کے وقت سات مرتبہ «حسبي الله لا إله إلا هو عليه توكلت وهو رب العرش العظيم» کافی ہے مجھے اللہ، صرف وہی معبود برحق ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے، وہی عرش عظیم کا رب ہے کہے تو اللہ اس کی پریشانیوں سے اسے کافی ہو گا چاہے ان کے کہنے میں وہ سچا ہو یا جھوٹا۔
حدیث 5082 — سنن أبي داود 43:310
حسنحسنحسن SahihIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي أَسِيدٍ الْبَرَّادِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ خَرَجْنَا فِي لَيْلَةِ مَطَرٍ وَظُلْمَةٍ شَدِيدَةٍ نَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيُصَلِّيَ لَنَا فَأَدْرَكْنَاهُ فَقَالَ ‏"‏ أَصَلَّيْتُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا فَقَالَ ‏"‏ قُلْ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ قُلْ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ قُلْ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَقُولُ قَالَ ‏"‏ ‏{‏ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ‏}‏ وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ حِينَ تُمْسِي وَحِينَ تُصْبِحُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ تَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بارش کی ایک سخت اندھیری رات میں نماز پڑھانے کے لیے تلاش کرنے نکلے، تو ہم نے آپ کو پا لیا، آپ نے فرمایا: کیا تم لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کوئی جواب نہیں دیا، آپ نے فرمایا: کچھ کہو اس پر بھی ہم نے کچھ نہیں کہا، آپ نے پھر فرمایا: کچھ کہو ( پھر بھی ) ہم نے کچھ نہیں کہا، پھر آپ نے فرمایا: کچھ تو کہو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: «قل هو الله أحد» اور معوذتین تین مرتبہ صبح کے وقت، اور تین مرتبہ شام کے وقت کہہ لیا کرو تو یہ تمہیں ( ہر طرح کی پریشانیوں سے بچاؤ کے لیے ) کافی ہوں گی۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔