قرآني·Qurani
اردو

الأدب

502 احادیث · #4773–5274

حدیث 5183 — سنن أبي داود 43:411
صحیح Isnaadصحیح Isnaadصحیحصحیح
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ لأَبِي مُوسَى إِنِّي لَمْ أَتَّهِمْكَ وَلَكِنَّ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَدِيدٌ ‏.‏
اس سند سے بھی ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے، اس میں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ابوموسیٰ سے کہا: میں تم پر ( جھوٹی حدیث بیان کرنے کا ) اتہام نہیں لگاتا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرنے کا معاملہ سخت ہے ۱؎۔
حدیث 5184 — سنن أبي داود 43:412
صحیح Isnaadصحیح Isnaadصحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ غَيْرِ، وَاحِدٍ، مِنْ عُلَمَائِهِمْ فِي هَذَا فَقَالَ عُمَرُ لأَبِي مُوسَى أَمَا إِنِّي لَمْ أَتَّهِمْكَ وَلَكِنْ خَشِيتُ أَنْ يَتَقَوَّلَ النَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
ربیعہ بن ابوعبدالرحمٰن اور دوسرے بہت سے علماء سے اس سلسلہ میں مروی ہے عمر رضی اللہ عنہ نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے تمہیں جھوٹا نہیں سمجھا لیکن میں ڈرا کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کر کے جھوٹی حدیثیں نہ بیان کرنے لگیں۔
حدیث 5185 — سنن أبي داود 43:413
ضعیف Isnaadضعیف Isnaadضعیفضعیف
حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَبُو مَرْوَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - الْمَعْنَى - قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ زَارَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَنْزِلِنَا فَقَالَ ‏"‏ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ فَرَدَّ سَعْدٌ رَدًّا خَفِيًّا ‏.‏ قَالَ قَيْسٌ فَقُلْتُ أَلاَ تَأْذَنُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ ذَرْهُ يُكْثِرْ عَلَيْنَا مِنَ السَّلاَمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ فَرَدَّ سَعْدٌ رَدًّا خَفِيًّا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ تَسْلِيمَكَ وَأَرُدُّ عَلَيْكَ رَدًّا خَفِيًّا لِتُكْثِرَ عَلَيْنَا مِنَ السَّلاَمِ ‏.‏ قَالَ فَانْصَرَفَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ لَهُ سَعْدٌ بِغِسْلٍ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ نَاوَلَهُ مِلْحَفَةً مَصْبُوغَةً بِزَعْفَرَانٍ أَوْ وَرْسٍ فَاشْتَمَلَ بِهَا ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ ‏"‏ اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ عَلَى آلِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ أَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الطَّعَامِ فَلَمَّا أَرَادَ الاِنْصِرَافَ قَرَّبَ لَهُ سَعْدٌ حِمَارًا قَدْ وَطَّأَ عَلَيْهِ بِقَطِيفَةٍ فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ سَعْدٌ يَا قَيْسُ اصْحَبْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ قَيْسٌ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ارْكَبْ ‏"‏ ‏.‏ فَأَبَيْتُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ وَإِمَّا أَنْ تَنْصَرِفَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَانْصَرَفْتُ ‏.‏ قَالَ هِشَامٌ أَبُو مَرْوَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ وَابْنُ سَمَاعَةَ عَنِ الأَوْزَاعِيِّ مُرْسَلاً وَلَمْ يَذْكُرَا قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ ‏.‏
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر ملاقات کے لیے تشریف لائے ( باہر رک کر ) السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا، سعد رضی اللہ عنہ نے دھیرے سے سلام کا جواب دیا، قیس کہتے ہیں: میں نے ( سعد سے ) کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندر تشریف لانے کی اجازت کیوں نہیں دیتے؟ سعد نے کہا چھوڑو ( جلدی نہ کرو ) ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلامتی کی دعا زیادہ کر لینے دو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا، سعد نے پھر دھیرے سے سلام کا جواب دیا، پھر تیسری بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ ( اور جواب نہ سن کر ) لوٹ پڑے، تو سعد نے لپک کر آپ کا پیچھا کیا اور آپ کو پا لیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ کا سلام سنتے تھے، اور دھیرے سے آپ کے سلام کا جواب دیتے تھے، خواہش یہ تھی کہ اس طرح آپ کی سلامتی کی دعا ہمیں زیادہ حاصل ہو جائے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد کے ساتھ لوٹ آئے، اور اپنے گھر والوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے لیے ( پانی وغیرہ کی فراہمی و تیاری ) کا حکم دیا، تو آپ نے غسل فرمایا، پھر سعد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زعفران یا ورس میں رنگی ہوئی ایک چادر دی جسے آپ نے لپیٹ لیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، آپ دعا فرما رہے تھے: اے اللہ! سعد بن عبادہ کی اولاد پر اپنی برکت و رحمت نازل فرما پھر آپ نے کھانا کھایا، اور جب آپ نے واپسی کا ارادہ کیا تو سعد نے ایک گدھا پیش کیا جس پر چادر ڈال دی گئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو گئے، تو سعد نے کہا: اے قیس! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا، قیس کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم بھی سوار ہو جاؤ تو میں نے انکار کیا، آپ نے فرمایا: سوار ہو جاؤ ورنہ واپس جاؤ ۔ قیس کہتے ہیں: میں لوٹ آیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عمر بن عبدالواحد اور ابن سماعۃ نے اوزاعی سے مرسلاً روایت کیا ہے اور ان دونوں نے اس میں قیس بن سعد کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدیث 5186 — سنن أبي داود 43:414
صحیحصحیححسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، - فِي آخَرِينَ - قَالُوا حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَتَى بَابَ قَوْمٍ لَمْ يَسْتَقْبِلِ الْبَابَ مِنْ تِلْقَاءِ وَجْهِهِ وَلَكِنْ مِنْ رُكْنِهِ الأَيْمَنِ أَوِ الأَيْسَرِ وَيَقُولُ ‏ "‏ السَّلاَمُ عَلَيْكُمُ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَذَلِكَ أَنَّ الدُّورَ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا يَوْمَئِذٍ سُتُورٌ ‏.‏
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے دروازے پر آتے تو دروازہ کے سامنے منہ کر کے نہ کھڑے ہوتے بلکہ دروازے کے چوکھٹ کے دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے، اور کہتے: السلام علیکم، السلام علیکم یہ ان دنوں کی بات ہے جب گھروں میں دروازوں پر پردے نہیں تھے۔
حدیث 5187 — سنن أبي داود 43:415
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (6250) Sahih Muslim (2155)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي دَيْنِ أَبِيهِ فَدَقَقْتُ الْبَابَ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ أَنَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَنَا أَنَا ‏"‏ ‏.‏ كَأَنَّهُ كَرِهَهُ ‏.‏
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے والد کے قرضے کے سلسلے میں گفتگو کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، تو میں نے دروازہ کھٹکھٹایا، آپ نے پوچھا: کون ہے؟ میں نے کہا: میں ہوں آپ نے فرمایا: میں، میں ( کیا؟ ) گویا کہ آپ نے ( اس طرح غیر واضح جواب دینے ) کو برا جانا۔
حدیث 5188 — سنن أبي داود 43:416
حسن Isnaadحسن IsnaadIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، - يَعْنِي الْمَقَابِرِيَّ - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى دَخَلْتُ حَائِطًا فَقَالَ لِي ‏"‏ أَمْسِكِ الْبَابَ ‏"‏ ‏.‏ فَضُرِبَ الْبَابُ فَقُلْتُ ‏"‏ مَنْ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي حَدِيثَ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيَّ قَالَ فِيهِ فَدَقَّ الْبَابَ ‏.‏
نافع بن عبدالحارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ ایک ( باغ کی ) چہار دیواری میں داخل ہوا، آپ نے مجھ سے فرمایا: دروازہ بند کئے رہنا پھر کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا، میں نے پوچھا: کون ہے؟ اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی ابوموسیٰ اشعری کی حدیث بیان کی ۱؎ اس میں «ضرب الباب» کے بجائے «فدق الباب» کے الفاظ ہیں۔
حدیث 5189 — سنن أبي داود 43:417
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حَبِيبٍ، وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ رَسُولُ الرَّجُلِ إِلَى الرَّجُلِ إِذْنُهُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کو بلا بھیجنا، ہی اس کی جانب سے اس کے لیے اجازت ہے ۔
حدیث 5190 — سنن أبي داود 43:418
صحیحصحیح Lighairihiضعیف
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ فَجَاءَ مَعَ الرَّسُولِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَهُ إِذْنٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ سَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ يَقُولُ قَتَادَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي رَافِعٍ شَيْئًا ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی کھانے کے لیے بلایا جائے اور وہ بلانے والا آنے والے کے ساتھ ہی آ جائے تو یہ اس کے لیے اجازت ہے ( پھر اسے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ) ۔ ابوعلی لؤلؤی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا: کہ قتادہ نے ابورافع سے کچھ نہیں سنا ہے۔
حدیث 5191 — سنن أبي داود 43:419
صحیح Isnaad Mauqufصحیح Isnaad Mauqufضعیف
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، قَالَ حَدَّثَنَا ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، وَابْنُ، عَبْدَةَ - وَهَذَا حَدِيثُهُ - قَالاَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ لَمْ يُؤْمَرْ بِهَا أَكْثَرُ النَّاسِ آيَةُ الإِذْنِ وَإِنِّي لآمُرُ جَارِيَتِي هَذِهِ تَسْتَأْذِنُ عَلَىَّ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَأْمُرُ بِهِ ‏.‏
عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ آیت استیذان پر اکثر لوگوں نے عمل نہیں کیا، لیکن میں نے تو اپنی لونڈی کو بھی حکم دے رکھا ہے کہ اسے بھی میرے پاس آنا ہو تو مجھ سے اجازت طلب کرے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ وہ اس کا ( استیذان کا ) حکم دیتے تھے۔
حدیث 5192 — سنن أبي داود 43:420
حسن Isnaadحسن Isnaadحسن
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ نَفَرًا، مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالُوا يَا ابْنَ عَبَّاسٍ كَيْفَ تَرَى فِي هَذِهِ الآيَةِ الَّتِي أُمِرْنَا فِيهَا بِمَا أُمِرْنَا وَلاَ يَعْمَلُ بِهَا أَحَدٌ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ مِنْ قَبْلِ صَلاَةِ الْفَجْرِ وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُمْ مِنَ الظَّهِيرَةِ وَمِنْ بَعْدِ صَلاَةِ الْعِشَاءِ ثَلاَثُ عَوْرَاتٍ لَكُمْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ وَلاَ عَلَيْهِمْ جُنَاحٌ بَعْدَهُنَّ طَوَّافُونَ عَلَيْكُمْ ‏}‏ قَرَأَ الْقَعْنَبِيُّ إِلَى ‏{‏ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ‏}‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ اللَّهَ حَلِيمٌ رَحِيمٌ بِالْمُؤْمِنِينَ يُحِبُّ السَّتْرَ وَكَانَ النَّاسُ لَيْسَ لِبُيُوتِهِمْ سُتُورٌ وَلاَ حِجَالٌ فَرُبَّمَا دَخَلَ الْخَادِمُ أَوِ الْوَلَدُ أَوْ يَتِيمَةُ الرَّجُلِ وَالرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ فَأَمَرَهُمُ اللَّهُ بِالاِسْتِئْذَانِ فِي تِلْكَ الْعَوْرَاتِ فَجَاءَهُمُ اللَّهُ بِالسُّتُورِ وَالْخَيْرِ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا يَعْمَلُ بِذَلِكَ بَعْدُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدِيثُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَعَطَاءٍ يُفْسِدُ هَذَا ‏.‏
عکرمہ سے روایت ہے کہ عراق کے کچھ لوگوں نے کہا: ابن عباس! اس آیت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس میں ہمیں حکم دیا گیا جو حکم دیا گیا لیکن اس پر کسی نے عمل نہیں کیا، یعنی اللہ تعالیٰ کے قول «يا أيها الذين آمنوا ليستأذنكم الذين ملكت أيمانكم والذين لم يبلغوا الحلم منكم ثلاث مرات من قبل صلاة الفجر وحين تضعون ثيابكم من الظهيرة ومن بعد صلاة العشاء ثلاث عورات لكم ليس عليكم ولا عليهم جناح بعدهن طوافون عليكم» اے ایمان والو! تمہارے غلاموں اور لونڈیوں کو اور تمہارے سیانے لیکن نابالغ بچوں کو تین اوقات میں تمہارے پاس اجازت لے کر ہی آنا چاہیئے نماز فجر سے پہلے، دوپہر کے وقت جب تم کپڑے اتار کر آرام کے لیے لیٹتے ہو، بعد نماز عشاء یہ تینوں وقت پردہ پوشی کے ہیں ان تینوں اوقات کے علاوہ اوقات میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ تم ان کے پاس جاؤ، اور وہ تمہارے پاس آئیں۔ ( النور: ۵۸ ) قعنبی نے آیت «عليم حكيم» تک پڑھی۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ تعالیٰ حلیم ( بردبار ) ہے اور مسلمانوں پر رحیم ( مہربان ) ہے، وہ پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے، ( یہ آیت جب نازل ہوئی ہے تو ) لوگوں کے گھروں پر نہ پردے تھے، اور نہ ہی چلمن ( سرکیاں ) ، کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ کوئی خدمت گار کوئی لڑکا یا کوئی یتیم بچی ایسے وقت میں آ جاتی جب آدمی اپنی بیوی سے صحبت کرتا ہوتا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے پردے کے ان اوقات میں اجازت لینے کا حکم دیا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے پردے دیے اور خیر ( مال ) سے نوازا، اس وقت سے میں نے کسی کو اس آیت پر عمل کرتے نہیں دیکھا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبیداللہ اور عطاء کی حدیث ( جن کا ذکر اس سے پہلے آ چکا ہے ) اس حدیث کی تضعیف کرتی ہے۔ ۳؎ یعنی یہ حدیث ان دونوں احادیث کی ضد ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔