قرآني·Qurani
اردو

الأدب

502 احادیث · #4773–5274

حدیث 5253 — سنن أبي داود 43:481
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (3298، 3312، 3313) Sahih Muslim (2233)
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي لُبَابَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَخْطِفَانِ الْبَصَرَ وَيَطْرَحَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَاءِ ‏.‏
ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو مارنے سے روکا ہے جو گھروں میں ہوتے ہیں مگر یہ کہ دو منہ والا ہو، یا دم کٹا ہو ( یہ دونوں بہت خطرناک ہیں ) کیونکہ یہ دونوں نگاہ کو اچک لیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ میں جو ( بچہ ) ہوتا ہے اسے گرا دیتے ہیں۔
حدیث 5254 — سنن أبي داود 43:482
صحیح Isnaadصحیح Isnaadصحیحصحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، وَجَدَ بَعْدَ ذَلِكَ - يَعْنِي بَعْدَ مَا حَدَّثَهُ أَبُو لُبَابَةَ - حَيَّةً فِي دَارِهِ فَأَمَرَ بِهَا فَأُخْرِجَتْ يَعْنِي إِلَى الْبَقِيعِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے لبابہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سننے کے بعد ایک سانپ اپنے گھر میں پایا، تو اسے ( باہر کرنے کا ) حکم دیا تو وہ بقیع کی طرف بھگا دیا گیا۔
حدیث 5255 — سنن أبي داود 43:483
حسن Isnaadحسن Isnaadحسنصحیح Muslim (2233)
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، عَنْ نَافِعٍ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ نَافِعٌ ثُمَّ رَأَيْتُهَا بَعْدُ فِي بَيْتِهِ ‏.‏
اسامہ نے نافع سے یہی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے نافع نے کہا: پھر اس کے بعد میں نے اسے ان کے گھر میں دیکھا۔
حدیث 5256 — سنن أبي داود 43:484
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ، انْطَلَقَ هُوَ وَصَاحِبٌ لَهُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ يَعُودَانِهِ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ فَلَقِينَا صَاحِبًا لَنَا وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِ فَأَقْبَلْنَا نَحْنُ فَجَلَسْنَا فِي الْمَسْجِدِ فَجَاءَ فَأَخْبَرَنَا أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الْهَوَامَّ مِنَ الْجِنِّ فَمَنْ رَأَى فِي بَيْتِهِ شَيْئًا فَلْيُحَرِّجْ عَلَيْهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَإِنْ عَادَ فَلْيَقْتُلْهُ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ ‏"‏ ‏.‏
محمد بن ابو یحییٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ وہ اور ان کے ایک ساتھی دونوں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے پھر وہاں سے واپس ہوئے تو اپنے ایک اور ساتھی سے ملے، وہ بھی ان کے پاس جانا چاہتے تھے ( وہ ان کے پاس چلے گئے ) اور ہم آ کر مسجد میں بیٹھ گئے پھر وہ ہمارے پاس ( مسجد ) میں آ گئے اور ہمیں بتایا کہ انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بعض سانپ جن ہوتے ہیں جو اپنے گھر میں بعض زہریلے کیڑے ( سانپ وغیرہ ) دیکھے تو اسے تین مرتبہ تنبیہ کرے ( کہ دیکھ تو پھر نظر نہ آ، ورنہ تنگی و پریشانی سے دو چار ہو گا، اس تنبیہ کے بعد بھی ) پھر نظر آئے تو اسے قتل کر دے، کیونکہ وہ شیطان ہے ( جیسے شیطان شرارت سے باز نہیں آتا، ایسے ہی یہ بھی سمجھانے کا اثر نہیں لیتا، ایسی صورت میں اسے مار دینے میں کوئی حرج نہیں ہے ) ۔
حدیث 5257 — سنن أبي داود 43:485
حسن Sahihحسن Sahihصحیح Muslim (2236)
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ صَيْفِيٍّ أَبِي سَعِيدٍ، مَوْلَى الأَنْصَارِ عَنْ أَبِي السَّائِبِ، قَالَ أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ، عِنْدَهُ سَمِعْتُ تَحْتَ، سَرِيرِهِ تَحْرِيكَ شَىْءٍ فَنَظَرْتُ فَإِذَا حَيَّةٌ فَقُمْتُ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ مَا لَكَ فَقُلْتُ حَيَّةٌ هَا هُنَا ‏.‏ قَالَ فَتُرِيدُ مَاذَا قُلْتُ أَقْتُلُهَا ‏.‏ فَأَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي دَارِهِ تِلْقَاءَ بَيْتِهِ فَقَالَ إِنَّ ابْنَ عَمٍّ لِي كَانَ فِي هَذَا الْبَيْتِ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الأَحْزَابِ اسْتَأْذَنَ إِلَى أَهْلِهِ وَكَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرْسٍ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَمَرَهُ أَنْ يَذْهَبَ بِسِلاَحِهِ فَأَتَى دَارَهُ فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ قَائِمَةً عَلَى بَابِ الْبَيْتِ فَأَشَارَ إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ فَقَالَتْ لاَ تَعْجَلْ حَتَّى تَنْظُرَ مَا أَخْرَجَنِي ‏.‏ فَدَخَلَ الْبَيْتَ فَإِذَا حَيَّةٌ مُنْكَرَةٌ فَطَعَنَهَا بِالرُّمْحِ ثُمَّ خَرَجَ بِهَا فِي الرُّمْحِ تَرْتَكِضُ قَالَ فَلاَ أَدْرِي أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الرَّجُلُ أَوِ الْحَيَّةُ فَأَتَى قَوْمُهُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرُدَّ صَاحِبَنَا ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ أَسْلَمُوا بِالْمَدِينَةِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ أَحَدًا مِنْهُمْ فَحَذِّرُوهُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ إِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدُ أَنْ تَقْتُلُوهُ فَاقْتُلُوهُ بَعْدَ الثَّلاَثِ ‏"‏ ‏.‏
ابوسائب کہتے ہیں کہ میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اسی دوران کہ میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا ان کی چارپائی کے نیچے مجھے کسی چیز کی سر سراہٹ محسوس ہوئی، میں نے ( جھانک کر ) دیکھا تو ( وہاں ) سانپ موجود تھا، میں اٹھ کھڑا ہوا، ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہوا تمہیں؟ ( کیوں کھڑے ہو گئے ) میں نے کہا: یہاں ایک سانپ ہے، انہوں نے کہا: تمہارا ارادہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میں اسے ماروں گا، تو انہوں نے اپنے گھر میں ایک کوٹھری کی طرف اشارہ کیا اور کہا: میرا ایک چچا زاد بھائی اس گھر میں رہتا تھا، غزوہ احزاب کے موقع پر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اہل کے پاس جانے کی اجازت مانگی، اس کی ابھی نئی نئی شادی ہوئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی اور حکم دیا کہ وہ اپنے ہتھیار کے ساتھ جائے، وہ اپنے گھر آیا تو اپنی بیوی کو کمرے کے دروازے پر کھڑا پایا، تو اس کی طرف نیزہ لہرایا ( چلو اندر چلو، یہاں کیسے کھڑی ہو ) بیوی نے کہا، جلدی نہ کرو، پہلے یہ دیکھو کہ کس چیز نے مجھے باہر آنے پر مجبور کیا، وہ کمرے میں داخل ہوا تو ایک خوفناک سانپ دیکھا تو اسے نیزہ گھونپ دیا، اور نیزے میں چبھوئے ہوئے اسے لے کر باہر آیا، وہ تڑپ رہا تھا، ابوسعید کہتے ہیں، تو میں نہیں جان سکا کہ کون پہلے مرا آدمی یا سانپ؟ ( گویا چبھو کر باہر لانے کے دوران سانپ نے اسے ڈس لیا تھا، یا وہ سانپ جن تھا اور جنوں نے انتقاماً اس کا گلا گھونٹ دیا تھا ) تو اس کی قوم کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ ہمارے آدمی ( ساتھی ) کو لوٹا دے، ( زندہ کر دے ) آپ نے فرمایا: اپنے آدمی کے لیے مغفرت کی دعا کرو ( اب زندگی ملنے سے رہی ) پھر آپ نے فرمایا: مدینہ میں جنوں کی ایک جماعت مسلمان ہوئی ہے، تم ان میں سے جب کسی کو دیکھو ( سانپ وغیرہ موذی جانوروں کی صورت میں ) تو انہیں تین مرتبہ ڈراؤ کہ اب نہ نکلنا ورنہ مارے جاؤ گے، اس تنبیہ کے باوجود اگر وہ غائب نہ ہو اور تمہیں اس کا مار ڈالنا ہی مناسب معلوم ہو تو تین بار کی تنبیہ کے بعد اسے مار ڈالو ۔
حدیث 5258 — سنن أبي داود 43:486
حسن Sahihحسن Sahihصحیحصحیح Muslim (2236)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ مُخْتَصَرًا قَالَ ‏ "‏ فَلْيُؤْذِنْهُ ثَلاَثًا فَإِنْ بَدَا لَهُ بَعْدُ فَلْيَقْتُلْهُ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ ‏"‏ ‏.‏
اس سند سے ابن عجلان سے یہی حدیث مختصراً مروی ہے، اس میں ہے کہ اسے ( سانپ کو ) تین بار آگاہ کر دو، ( اگر جن وغیرہ ہو تو چلے جاؤ ) پھر اس کے بعد اگر وہ تمہیں نظر آئے تو اسے مار ڈالو کیونکہ وہ شیطان ہے۔
حدیث 5259 — سنن أبي داود 43:487
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (2236)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ صَيْفِيٍّ، مَوْلَى ابْنِ أَفْلَحَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو السَّائِبِ، مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَأَتَمَّ مِنْهُ قَالَ ‏ "‏ فَآذِنُوهُ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ ‏"‏ ‏.‏
ہشام بن زہرہ کے غلام ابوسائب نے خبر دی ہے کہ وہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، پھر راوی نے اسی جیسی اور اس سے زیادہ کامل حدیث ذکر کی اس میں ہے: اسے تین دن تک آگاہ کرو اگر اس کے بعد بھی وہ تمہیں نظر آئے تو اسے مار ڈالو کیونکہ وہ شیطان ہے ۔
حدیث 5260 — سنن أبي داود 43:488
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنْ حَيَّاتِ الْبُيُوتِ فَقَالَ ‏ "‏ إِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُنَّ شَيْئًا فِي مَسَاكِنِكُمْ فَقُولُوا أَنْشُدُكُنَّ الْعَهْدَ الَّذِي أَخَذَ عَلَيْكُنَّ نُوحٌ أَنْشُدُكُنَّ الْعَهْدَ الَّذِي أَخَذَ عَلَيْكُنَّ سُلَيْمَانُ أَنْ لاَ تُؤْذُونَا فَإِنْ عُدْنَ فَاقْتُلُوهُنَّ ‏"‏ ‏.‏
ابولیلیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھروں میں نکلنے والے سانپوں کے متعلق دریافت کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: جب تم ان میں سے کسی کو اپنے گھر میں دیکھو تو کہو: میں تمہیں وہ عہد یاد دلاتا ہوں جو تم سے نوح علیہ السلام نے لیا تھا، وہ عہد یاد دلاتا ہوں جو تم سے سلیمان علیہ السلام نے لیا تھا کہ تم ہمیں تکلیف نہیں پہنچاؤ گے اس یاددہانی کے باوجود اگر وہ دوبارہ ظاہر ہوں تو ان کو مار ڈالو ۔
حدیث 5261 — سنن أبي داود 43:489
صحیح Muqufصحیح Muqufضعیف
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ كُلَّهَا إِلاَّ الْجَانَّ الأَبْيَضَ الَّذِي كَأَنَّهُ قَضِيبُ فِضَّةٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ فَقَالَ لِي إِنْسَانٌ الْجَانُّ لاَ يَنْعَرِجُ فِي مِشْيَتِهِ فَإِذَا كَانَ هَذَا صَحِيحًا كَانَتْ عَلاَمَةً فِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏.‏
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سبھی سانپوں کو مارو سوائے اس سانپ کے جو سفید ہوتا ہے چاندی کی چھڑی کی طرح ( یعنی سفید سانپ کو نہ مارو ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: تو ایک آدمی نے مجھ سے کہا: جن اپنی چال میں مڑتا نہیں اگر وہ سیدھا چل رہا ہو تو یہی اس کی پہچان ہے، إن شاء اللہ۔
حدیث 5262 — سنن أبي داود 43:490
صحیحصحیحصحیح Muslim (2238)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا ‏.‏
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا ہے، اور اسے «فويسق» ( چھوٹا فاسق ) کہا ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔