عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۱؎، اور جو مر گیا اور وہ شراب پیتا تھا اور اس کا عادی تھا تو وہ آخرت میں اسے نہیں پئے گا ( یعنی جنت کی شراب سے محروم رہے گا ) ۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے، اور جس نے کوئی نشہ آور چیز استعمال کی تو اس کی چالیس روز کی نماز کم کر دی جائے گی، اگر اس نے اللہ سے توبہ کر لی تو اللہ اسے معاف کر دے گا اور اگر چوتھی بار پھر اس نے پی تو اللہ کے لیے یہ روا ہو جاتا ہے کہ اسے «طینہ الخبال» پلائے عرض کیا گیا: «طینہ الخبال» کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: جہنمیوں کی پیپ ہے، اور جس شخص نے کسی کمسن لڑکے کو جسے حلال و حرام کی تمیز نہ ہو شراب پلائی تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور جہنمیوں کی پیپ پلائے گا ۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی شراب کا حکم پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ہر شراب جو نشہ آور ہو حرام ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یزید بن عبدربہ جرجسی پر اس روایت کو یوں پڑھا: آپ سے محمد بن حرب نے بیان کیا انہوں نے زبیدی سے اور زبیدی نے زہری سے یہی حدیث اسی سند سے روایت کی، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ بتع شہد کی شراب کو کہتے ہیں، اہل یمن اسے پیتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے ہوئے سنا: «لا إله إلا الله» جرجسی کیا ہی معتبر شخص تھا، اہل حمص میں اس کی نظیر نہیں تھی۔
دیلم حمیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ سرد علاقے میں رہتے ہیں اور سخت محنت و مشقت کے کام کرتے ہیں، ہم لوگ اس گیہوں سے شراب بنا کر اس سے اپنے کاموں کے لیے طاقت حاصل کرتے ہیں اور اپنے ملک کی سردیوں سے اپنا بچاؤ کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ نشہ آور ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا: ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو اس سے بچو ۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: لوگ اسے نہیں چھوڑ سکتے، آپ نے فرمایا: اگر وہ اسے نہ چھوڑیں تو تم ان سے لڑائی کرو ۔
حدیث 3684 — سنن أبي داود 27:16
صحیحصحیحIsnaad Sahih Sahih Bukhari (6124، 4344) Sahih Muslim (1733 After 2001)
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی شراب کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: وہ بتع ہے میں نے کہا: جو اور مکئی سے بھی شراب بنائی جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مزر ہے پھر آپ نے فرمایا: اپنی قوم کو بتا دو کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب، جوا، کوبہ ( چوسر یا ڈھولک ) اور غبیراء سے منع کیا، اور فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن سلام ابو عبید نے کہا ہے: غبیراء ایسی شراب ہے جو مکئی سے بنائی جاتی ہے حبشہ کے لوگ اسے بناتے ہیں۔
حدیث 3686 — سنن أبي داود 27:18
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيِّ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ وَمُفَتِّرٍ .
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نشہ آور چیز اور ہر «مفتر» ( فتور پیدا کرنے اور سستی لانے والی ) چیز سے منع فرمایا ہے۔
حدیث 3687 — سنن أبي داود 27:19
صحیحصحیحIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، - يَعْنِي ابْنَ مَيْمُونٍ - حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، - قَالَ مُوسَى هُوَ عَمْرُو بْنُ سَلْمٍ الأَنْصَارِيُّ - عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَمَا أَسْكَرَ مِنْهُ الْفَرْقُ فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ " .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جو چیز فرق ۱؎ بھر نشہ لاتی ہے اس کا ایک چلو بھی حرام ہے ۔
مالک بن ابی مریم کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن غنم ہمارے پاس آئے تو ہم نے ان سے طلاء ۱؎ کا ذکر کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے لیکن اس کا نام شراب کے علاوہ کچھ اور رکھ لیں گے ۲؎ ۔