قرآني·Qurani
اردو

الأشربة

67 احادیث · #3669–3735

حدیث 3699 — سنن أبي داود 27:31
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (5592)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الأَوْعِيَةِ قَالَ قَالَتِ الأَنْصَارُ إِنَّهُ لاَ بُدَّ لَنَا ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ فَلاَ إِذًا ‏"‏ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا تو انصار کے لوگوں نے آپ سے عرض کیا: وہ تو ہمارے لیے بہت ضروری ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب ممانعت نہیں رہی ( تمہیں ان کی اجازت ہے ) ۔
حدیث 3700 — سنن أبي داود 27:32
صحیحصحیحصحیح Bukhari (5593) Sahih Muslim (2000)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الأَوْعِيَةَ الدُّبَّاءَ وَالْحَنْتَمَ وَالْمُزَفَّتَ وَالنَّقِيرَ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ إِنَّهُ لاَ ظُرُوفَ لَنَا ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ اشْرَبُوا مَا حَلَّ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، حنتم، مزفت، اور نقیر کے برتنوں کا ذکر کیا ۱؎ تو ایک دیہاتی نے عرض کیا: ہمارے پاس تو اور کوئی برتن ہی نہیں رہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا جو حلال ہوا سے پیو ۔
حدیث 3701 — سنن أبي داود 27:33
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، - يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، بِإِسْنَادِهِ قَالَ ‏ "‏ اجْتَنِبُوا مَا أَسْكَرَ ‏"‏ ‏.‏
شریک سے اسی سند سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نشہ آور چیز سے بچو ۔
حدیث 3702 — سنن أبي داود 27:34
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (1998)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سِقَاءٍ فَإِذَا لَمْ يَجِدُوا سِقَاءً نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چمڑے کے برتن میں نبیذ تیار کی جاتی تھی اور اگر وہ چمڑے کا برتن نہیں پاتے تو پتھر کے برتن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ تیار کی جاتی۔
حدیث 3703 — سنن أبي داود 27:35
صحیحصحیحصحیح Bukhari (5601) Sahih Muslim (1986)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُنْتَبَذَ الزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا وَنَهَى أَنْ يُنْتَبَذَ الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کشمش اور کھجور کو ایک ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا، نیز کچی اور پکی کھجور ملا کر نبیذ بنا نے سے منع فرمایا۔
حدیث 3704 — سنن أبي داود 27:36
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (5602) Sahih Muslim (1988)
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ نَهَى عَنْ خَلِيطِ الزَّبِيبِ، وَالتَّمْرِ، وَعَنْ خَلِيطِ الْبُسْرِ، وَالتَّمْرِ، وَعَنْ خَلِيطِ الزَّهْوِ، وَالرُّطَبِ، وَقَالَ، ‏ "‏ انْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ عَلَى حِدَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کشمش اور کھجور ملا کر اور پکی اور کچی کھجور ملا کر اور اسی طرح ایسی کھجور جس میں سرخی یا زردی ظاہر ہونے لگی ہو اور تازی پکی کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع کیا، اور آپ نے فرمایا: ہر ایک کی الگ الگ نبیذ بناؤ ۔
حدیث 3705 — سنن أبي داود 27:37
صحیحصحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، - عَنْ رَجُلٍ، - قَالَ حَفْصٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَهَى عَنِ الْبَلَحِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ ‏.‏
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی کھجور کو پکی ہوئی کھجور کے ساتھ اور کشمش کو کھجور کے ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث 3706 — سنن أبي داود 27:38
ضعیف Isnaadضعیف Isnaadضعیف
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُمَارَةَ، حَدَّثَتْنِي رَيْطَةُ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَتْ سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ مَا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنْهُ قَالَتْ كَانَ يَنْهَانَا أَنْ نَعْجُمَ النَّوَى طَبْخًا أَوْ نَخْلِطَ الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ ‏.‏
کبشہ بنت ابی مریم کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ان چیزوں کے متعلق پوچھا جن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منع کرتے تھے، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کھجور کو زیادہ پکانے سے جس سے اس کی گٹھلی ضائع ہو جائے، اور کشمش کے ساتھ کھجور ملا کر نبیذ بنانے سے منع کرتے تھے۔
حدیث 3707 — سنن أبي داود 27:39
ضعیف Isnaadضعیف Isnaadضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ امْرَأَةٍ، مِنْ بَنِي أَسَدٍ عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُنْبَذُ لَهُ زَبِيبٌ فَيُلْقِي فِيهِ تَمْرًا وَتَمْرٌ فَيُلْقِي فِيهِ الزَّبِيبَ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمکش کی نبیذ بنائی جاتی تو اس میں کھجور ڈال دی جاتی اور جب کھجور کی نبیذ بنائی جاتی تو اس میں انگور ڈال دیا جاتا۔
حدیث 3708 — سنن أبي داود 27:40
ضعیف Isnaadضعیف Isnaadضعیف
حَدَّثَنَا زَيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ، حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْحِمَّانِيُّ، حَدَّثَتْنِي صَفِيَّةُ بِنْتُ عَطِيَّةَ، قَالَتْ دَخَلْتُ مَعَ نِسْوَةٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلْنَاهَا عَنِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ فَقَالَتْ كُنْتُ آخُذُ قَبْضَةً مِنْ تَمْرٍ وَقَبْضَةً مِنْ زَبِيبٍ فَأُلْقِيهِ فِي إِنَاءٍ فَأَمْرُسُهُ ثُمَّ أَسْقِيهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
صفیہ بنت عطیہ کہتی ہیں میں عبدالقیس کی چند عورتوں کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، اور ہم نے آپ سے کھجور اور کشمش ملا کر ( نبیذ تیار کرنے کے سلسلے میں ) پوچھا، آپ نے کہا: میں ایک مٹھی کھجور اور ایک مٹھی کشمش لیتی اور اسے ایک برتن میں ڈال دیتی، پھر اس کو ہاتھ سے مل دیتی پھر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پلاتی۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔