قرآني·Qurani
اردو

الأطعمة

119 احادیث · #3736–3854

حدیث 3846 — سنن أبي داود 28:111
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (2557) Sahih Muslim (1663)
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا صَنَعَ لأَحَدِكُمْ خَادِمُهُ طَعَامًا ثُمَّ جَاءَهُ بِهِ وَقَدْ وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ لِيَأْكُلَ فَإِنْ كَانَ الطَّعَامُ مَشْفُوهًا فَلْيَضَعْ فِي يَدِهِ مِنْهُ أَكْلَةً أَوْ أَكْلَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کسی کے لیے اس کا خادم کھانا بنائے پھر اسے اس کے پاس لے کر آئے اور اس نے اس کے بنانے میں گرمی اور دھواں برداشت کیا ہے تو چاہیئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھائے تاکہ وہ بھی کھائے، اور یہ معلوم ہے کہ اگر کھانا تھوڑا ہو تو اس کے ہاتھ پر ایک یا دو لقمہ ہی رکھ دے ۔
حدیث 3847 — سنن أبي داود 28:112
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (5456) Sahih Muslim (2031)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَمْسَحَنَّ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اپنا ہاتھ اس وقت تک رومال سے نہ پونچھے جب تک کہ اسے خود چاٹ نہ لے یا کسی کو چٹا نہ دے ۔
حدیث 3848 — سنن أبي داود 28:113
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (2032)
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْكُلُ بِثَلاَثِ أَصَابِعَ وَلاَ يَمْسَحُ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا ‏.‏
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین انگلیوں سے کھاتے تھے اور اپنا ہاتھ جب تک چاٹ نہ لیتے پونچھتے نہیں تھے۔
حدیث 3849 — سنن أبي داود 28:114
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (5458)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا رُفِعَتِ الْمَائِدَةُ قَالَ ‏ "‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلاَ مُوَدَّعٍ وَلاَ مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبُّنَا ‏"‏ ‏.‏
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب دستر خوان اٹھایا جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے «الحمد لله كثيرا طيبا مباركا فيه غير مكفي ولا مودع ولا مستغنى عنه ربنا» اللہ تعالیٰ کے لیے بہت سارا صاف ستھرا بابرکت شکر ہے، ایسا شکر نہیں جو ایک بار کفایت کرے اور چھوڑ دیا جائے اور اس کی حاجت نہ رہے اے ہمارے رب تو حمد کے لائق ہے ۔
حدیث 3850 — سنن أبي داود 28:115
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الْوَاسِطِيِّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ غَيْرِهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ ‏ "‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ ‏"‏ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ کہتے: «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين» تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور مسلمان بنایا ۔
حدیث 3851 — سنن أبي داود 28:116
صحیحصحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ قَالَ ‏ "‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَ وَسَقَى وَسَوَّغَهُ وَجَعَلَ لَهُ مَخْرَجًا ‏"‏ ‏.‏
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کھاتے یا پیتے تو کہتے: «الحمد لله الذي أطعم وسقى، وسوغه، وجعل له مخرجا» ہر طرح کی تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں کھلایا، پلایا، اسے خوشگوار بنایا اور اس کے نکلنے کی راہ بنائی ۔
حدیث 3852 — سنن أبي داود 28:117
صحیحصحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ نَامَ وَفِي يَدِهِ غَمَرٌ وَلَمْ يَغْسِلْهُ فَأَصَابَهُ شَىْءٌ فَلاَ يَلُومَنَّ إِلاَّ نَفْسَهُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سو جائے اور اس کے ہاتھ میں گندگی اور چکنائی ہو اور وہ اسے نہ دھوئے پھر اس کو کوئی نقصان پہنچے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے ۔
حدیث 3853 — سنن أبي داود 28:118
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ الدَّالاَنِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَنَعَ أَبُو الْهَيْثَمِ بْنُ التَّيْهَانِ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم طَعَامًا فَدَعَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابَهُ فَلَمَّا فَرَغُوا قَالَ ‏"‏ أَثِيبُوا أَخَاكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا إِثَابَتُهُ قَالَ ‏"‏ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا دُخِلَ بَيْتُهُ فَأُكِلَ طَعَامُهُ وَشُرِبَ شَرَابُهُ فَدَعَوْا لَهُ فَذَلِكَ إِثَابَتُهُ ‏"‏ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ابوالہیثم بن تیہان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا بنایا پھر آپ کو اور صحابہ کرام کو بلایا، جب یہ لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: تم لوگ اپنے بھائی کا بدلہ چکاؤ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کا کیا بدلہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص کسی کے گھر جائے اور وہاں اسے کھلایا اور پلایا جائے اور وہ اس کے لیے دعا کرے تو یہی اس کا بدلہ ہے ۔
حدیث 3854 — سنن أبي داود 28:119
صحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَاءَ إِلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَجَاءَ بِخُبْزٍ وَزَيْتٍ فَأَكَلَ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلاَئِكَةُ ‏"‏ ‏.‏
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ آپ کی خدمت میں روٹی اور تیل لے کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھایا پھر آپ نے یہ دعا پڑھی: «أفطر عندكم الصائمون وأكل طعامكم الأبرار وصلت عليكم الملائكة» تمہارے پاس روزے دار افطار کیا کریں، نیک لوگ تمہارا کھانا کھائیں، اور تمہارے لیے دعائیں کریں ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔