خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں نے خیبر کا غزوہ کیا، تو یہود آ کر شکایت کرنے لگے کہ لوگوں نے ان کے باڑوں کی طرف بہت جلدی کی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! جو کافر تم سے عہد کر لیں ان کے اموال تمہارے لیے جائز نہیں ہیں سوائے ان کے جو جائز طریقے سے ہوں اور تمہارے لیے گھریلو گدھے، گھوڑے، خچر، ہر دانت والے درندے اور ہر پنجہ والے پرندے حرام ہیں ۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کی قیمت سے منع فرمایا۔ ابن عبدالملک کی روایت میں بلی کھانے سے اور اس کی قیمت کھانے سے کے الفاظ ہیں۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن گھریلو گدھے کے گوشت کھانے سے منع فرمایا، اور ہمیں گھوڑے کا گوشت کھانے کا حکم دیا۔ عمرو کہتے ہیں: ابوالشعثاء کو میں نے اس حدیث سے باخبر کیا تو انہوں نے کہا: حکم غفاری بھی ہم سے یہی کہتے تھے اور اس «بحر» ( عالم ) نے اس حدیث کا انکار کیا ہے ان کی مراد ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تھی ۱؎۔
غالب بن ابجر کہتے ہیں ہمیں قحط سالی لاحق ہوئی اور ہمارے پاس گدھوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا جسے ہم اپنے اہل و عیال کو کھلاتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھریلو گدھوں کے گوشت کو حرام کر چکے تھے، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کو قحط سالی نے آ پکڑا ہے اور ہمارے پاس سوائے موٹے گدھوں کے کوئی مال نہیں جسے ہم اپنے اہل و عیال کو کھلا سکیں اور آپ گھریلو گدھوں کے گوشت کو حرام کر چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے اہل و عیال کو اپنے موٹے گدھے کھلاؤ میں نے انہیں گاؤں گاؤں گھومنے کی وجہ سے حرام کیا ہے یعنی نجاست خور گدھوں کو حرام کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرحمٰن سے مراد ابن معقل ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو شعبہ نے عبیدابوالحسن سے، عبید نے عبدالرحمٰن بن معقل سے عبدالرحمٰن بن معقل نے عبدالرحمٰن بن بشر سے انہوں نے مزینہ کے چند لوگوں سے روایت کیا کہ مزینہ کے سردار ابجر یا ابن ابجر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا۔
ابن معقل مزینہ کے دو آدمیوں سے روایت کرتے ہیں اور ان میں سے ایک شخص دوسرے سے روایت کرتا ہے ایک کا نام عبداللہ بن عمرو بن عویم اور دوسرے کا نام غالب بن أبجر ہے۔ مسعر کہتے ہیں: میرا خیال ہے غالب ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس بات ( قحط والے معاملے ) کو لے کر آئے تھے۔
حدیث 3811 — سنن أبي داود 28:76
حسن Sahihحسن SahihحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ وَعَنِ الْجَلاَّلَةِ عَنْ رُكُوبِهَا وَأَكْلِ لَحْمِهَا .
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کے گوشت سے اور نجاست خور جانور کی سواری کرنے اور اس کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔
حدیث 3812 — سنن أبي داود 28:77
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (5495) Sahih Muslim (1952)
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى، وَسَأَلْتُهُ، عَنِ الْجَرَادِ، فَقَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سِتَّ أَوْ سَبْعَ غَزَوَاتٍ فَكُنَّا نَأْكُلُهُ مَعَهُ .
ابویعفور کہتے ہیں میں نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا اور میں نے ان سے ٹڈی کے متعلق پوچھا تھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ یا سات غزوات کئے اور ہم اسے آپ کے ساتھ کھایا کرتے تھے۔
حدیث 3813 — سنن أبي داود 28:78
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الزِّبْرِقَانِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْجَرَادِ فَقَالَ " أَكْثَرُ جُنُودِ اللَّهِ لاَ آكُلُهُ وَلاَ أُحَرِّمُهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَذْكُرْ سَلْمَانَ .
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ کے بہت سے لشکر ہیں، نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ اسے حرام کرتا ہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے معتمر نے اپنے والد سلیمان سے، سلیمان نے ابوعثمان سے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، انہوں نے سلمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے ( یعنی مرسلاً روایت کی ہے ) ۔
حدیث 3814 — سنن أبي داود 28:79
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ الْجَزَّارِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ فَقَالَ مِثْلَهُ فَقَالَ " أَكْثَرُ جُنْدِ اللَّهِ " . قَالَ عَلِيٌّ اسْمُهُ فَائِدٌ يَعْنِي أَبَا الْعَوَّامِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَذْكُرْ سَلْمَانَ .
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے ایسے ہی فرمایا: اللہ کے بہت سے لشکر ہیں ۔ علی کہتے ہیں: ان کا یعنی ابوالعوام کا نام فائد ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حماد بن سلمہ نے ابوالعوام سے ابوالعوام نے ابوعثمان سے اور ابوعثمان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا اور سلمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمندر جس مچھلی کو باہر ڈال دے یا جس سے سمندر کا پانی سکڑ جائے تو اسے کھاؤ، اور جو اس میں مر کر اوپر آ جائے تو اسے مت کھاؤ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو سفیان ثوری، ایوب اور حماد نے ابو الزبیر سے روایت کیا ہے، اور اسے جابر پر موقوف قرار دیا ہے اور یہ حدیث ایک ضعیف سند سے بھی مروی ہے جو اس طرح ہے: «عن ابن أبي ذئب عن أبي الزبير عن جابر عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم» ۔