قرآني·Qurani
اردو

البيوع

90 احادیث · #3326–3415

حدیث 3376 — سنن أبي داود 23:51
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (1513)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ، ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ - زَادَ عُثْمَانُ - وَالْحَصَاةِ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکہ کی بیع سے روکا ہے۔ عثمان راوی نے اس حدیث میں«والحصاة» کا لفظ بڑھایا ہے یعنی کنکری پھینک کر بھی بیع کرنے سے روکا ہے ۱؎۔
حدیث 3377 — سنن أبي داود 23:52
صحیحصحیحصحیح Bukhari (6284) Sahih Muslim (1512)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، - وَهَذَا لَفْظُهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ أَمَّا الْبَيْعَتَانِ فَالْمُلاَمَسَةُ وَالْمُنَابَذَةُ وَأَمَّا اللِّبْسَتَانِ فَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ كَاشِفًا عَنْ فَرْجِهِ أَوْ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَىْءٌ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی بیع سے اور دو قسم کے پہناؤں سے روکا ہے، رہے دو بیع تو وہ ملامسہ ۱؎ اور منابذہ ۲؎ ہیں، اور رہے دونوں پہناوے تو ایک اشتمال صماء ۳؎ ہے اور دوسرا احتباء ہے، اور احتباء یہ ہے کہ ایک کپڑا اوڑھ کے گوٹ مار کر اس طرح سے بیٹھے کہ شرمگاہ کھلی رہے، یا شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ رہے۔
حدیث 3378 — سنن أبي داود 23:53
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ زَادَ وَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ أَنْ يَشْتَمِلَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ يَضَعُ طَرَفَىِ الثَّوْبِ عَلَى عَاتِقِهِ الأَيْسَرِ وَيُبْرِزُ شِقَّهُ الأَيْمَنَ وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَقُولَ إِذَا نَبَذْتُ إِلَيْكَ هَذَا الثَّوْبَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ وَالْمُلاَمَسَةُ أَنْ يَمَسَّهُ بِيَدِهِ وَلاَ يَنْشُرُهُ وَلاَ يُقَلِّبُهُ فَإِذَا مَسَّهُ وَجَبَ الْبَيْعُ ‏.‏
اس سند سے بھی بواسطہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ اشتمال صماء یہ ہے کہ ایک کپڑا سارے بدن پر لپیٹ لے، اور کپڑے کے دونوں کنارے اپنے بائیں کندھے پر ڈال لے، اور اس کا داہنا پہلو کھلا رہے، اور منابذہ یہ ہے کہ بائع یہ کہے کہ جب میں یہ کپڑا تیری طرف پھینک دوں تو بیع لازم ہو جائے گی، اور ملامسہ یہ ہے کہ ہاتھ سے چھو لے نہ اسے کھولے اور نہ الٹ پلٹ کر دیکھے تو جب اس نے چھو لیا تو بیع لازم ہو گئی۔
حدیث 3379 — سنن أبي داود 23:54
صحیحصحیحصحیح Bukhari (5820) Sahih Muslim (1512)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ وَعَبْدِ الرَّزَّاقِ جَمِيعًا ‏.‏
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ مجھے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے خبر دی ہے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا، آگے سفیان و عبدالرزاق کی حدیث کے ہم معنی حدیث مذکور ہے۔
حدیث 3380 — سنن أبي داود 23:55
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (2143) Sahih Muslim (1514)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «حبل الحبلة» ( بچے کے بچہ ) کی بیع سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حدیث 3381 — سنن أبي داود 23:56
صحیحصحیحصحیح Bukhari (3843) Sahih Muslim (1514)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ وَقَالَ حَبَلُ الْحَبَلَةِ أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ بَطْنَهَا ثُمَّ تَحْمِلُ الَّتِي نُتِجَتْ ‏.‏
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے «حبل الحبلة» یہ ہے کہ اونٹنی اپنے پیٹ کا بچہ جنے پھر بچہ جو پیدا ہوا تھا حاملہ ہو جائے۔
حدیث 3382 — سنن أبي داود 23:57
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا صَالِحُ أَبُو عَامِرٍ، - قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَذَا قَالَ مُحَمَّدٌ - حَدَّثَنَا شَيْخٌ، مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - أَوْ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ قَالَ ابْنُ عِيسَى هَكَذَا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، - قَالَ سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ عَضُوضٌ يَعَضُّ الْمُوسِرُ عَلَى مَا فِي يَدَيْهِ وَلَمْ يُؤْمَرْ بِذَلِكَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏ وَلاَ تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ ‏}‏ وَيُبَايَعُ الْمُضْطَرُّونَ وَقَدْ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الْمُضْطَرِّ وَبَيْعِ الْغَرَرِ وَبَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ أَنْ تُدْرِكَ ‏.‏
بنو تمیم کے ایک شیخ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں کہ علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا، یا فرمایا: عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا، جو کاٹ کھانے والا ہو گا، مالدار اپنے مال کو دانتوں سے پکڑے رہے گا ( کسی کو نہ دے گا ) حالانکہ اسے ایسا حکم نہیں دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «ولا تنسوا الفضل بينكم» اللہ کے فضل بخشش و انعام کو نہ بھولو یعنی مال کو خرچ کرو ( سورۃ البقرہ: ۲۳۸ ) مجبور و پریشاں حال اپنا مال بیچیں گے حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لاچار و مجبور کا مال خریدنے سے اور دھوکے کی بیع سے روکا ہے، اور پھل کے پکنے سے پہلے اسے بیچنے سے روکا ہے ۱؎۔
حدیث 3383 — سنن أبي داود 23:58
ضعیفضعیفضعیفIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَفَعَهُ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ أَنَا ثَالِثُ الشَّرِيكَيْنِ، مَا لَمْ يَخُنْ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فَإِذَا خَانَهُ خَرَجْتُ مِنْ بَيْنِهِمَا ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں دو شریکوں کا تیسرا ہوں جب تک کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے ساتھ خیانت نہ کرے، اور جب کوئی اپنے ساتھی کے ساتھ خیانت کرتا ہے تو میں ان کے درمیان سے ہٹ جاتا ہوں ۔
حدیث 3384 — سنن أبي داود 23:59
صحیحصحیح Bukhari (3642)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، حَدَّثَنِي الْحَىُّ، عَنْ عُرْوَةَ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيِّ - قَالَ أَعْطَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم دِينَارًا يَشْتَرِي بِهِ أُضْحِيَةً أَوْ شَاةً فَاشْتَرَى شَاتَيْنِ فَبَاعَ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ فَأَتَاهُ بِشَاةٍ وَدِينَارٍ فَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ فِي بَيْعِهِ فَكَانَ لَوِ اشْتَرَى تُرَابًا لَرَبِحَ فِيهِ ‏.‏
عروہ بن ابی الجعد بارقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قربانی کا جانور یا بکری خریدنے کے لیے ایک دینار دیا تو انہوں نے دو بکریاں خریدیں، پھر ایک بکری ایک دینار میں بیچ دی، اور ایک دینار اور ایک بکری لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان کی خرید و فروخت میں برکت کی دعا فرمائی ( اس دعا کے بعد ) ان کا حال یہ ہو گیا تھا کہ اگر وہ مٹی بھی خرید لیتے تو اس میں بھی نفع کما لیتے۔
حدیث 3385 — سنن أبي داود 23:60
ضعیفصحیححسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، - هُوَ أَخُو حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ الْبَارِقِيُّ، بِهَذَا الْخَبَرِ وَلَفْظُهُ مُخْتَلِفٌ ‏.‏
اس سند سے بھی عروہ بارقی سے یہی حدیث مروی ہے اور اس کے الفاظ مختلف ہیں۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔