حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ، ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ - زَادَ عُثْمَانُ - وَالْحَصَاةِ .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکہ کی بیع سے روکا ہے۔ عثمان راوی نے اس حدیث میں«والحصاة» کا لفظ بڑھایا ہے یعنی کنکری پھینک کر بھی بیع کرنے سے روکا ہے ۱؎۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی بیع سے اور دو قسم کے پہناؤں سے روکا ہے، رہے دو بیع تو وہ ملامسہ ۱؎ اور منابذہ ۲؎ ہیں، اور رہے دونوں پہناوے تو ایک اشتمال صماء ۳؎ ہے اور دوسرا احتباء ہے، اور احتباء یہ ہے کہ ایک کپڑا اوڑھ کے گوٹ مار کر اس طرح سے بیٹھے کہ شرمگاہ کھلی رہے، یا شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ رہے۔
اس سند سے بھی بواسطہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ اشتمال صماء یہ ہے کہ ایک کپڑا سارے بدن پر لپیٹ لے، اور کپڑے کے دونوں کنارے اپنے بائیں کندھے پر ڈال لے، اور اس کا داہنا پہلو کھلا رہے، اور منابذہ یہ ہے کہ بائع یہ کہے کہ جب میں یہ کپڑا تیری طرف پھینک دوں تو بیع لازم ہو جائے گی، اور ملامسہ یہ ہے کہ ہاتھ سے چھو لے نہ اسے کھولے اور نہ الٹ پلٹ کر دیکھے تو جب اس نے چھو لیا تو بیع لازم ہو گئی۔
حدیث 3379 — سنن أبي داود 23:54
صحیحصحیحصحیح Bukhari (5820) Sahih Muslim (1512)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ وَعَبْدِ الرَّزَّاقِ جَمِيعًا .
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ مجھے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے خبر دی ہے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا، آگے سفیان و عبدالرزاق کی حدیث کے ہم معنی حدیث مذکور ہے۔
حدیث 3380 — سنن أبي داود 23:55
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (2143) Sahih Muslim (1514)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «حبل الحبلة» ( بچے کے بچہ ) کی بیع سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حدیث 3381 — سنن أبي داود 23:56
صحیحصحیحصحیح Bukhari (3843) Sahih Muslim (1514)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ وَقَالَ حَبَلُ الْحَبَلَةِ أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ بَطْنَهَا ثُمَّ تَحْمِلُ الَّتِي نُتِجَتْ .
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے «حبل الحبلة» یہ ہے کہ اونٹنی اپنے پیٹ کا بچہ جنے پھر بچہ جو پیدا ہوا تھا حاملہ ہو جائے۔
بنو تمیم کے ایک شیخ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں کہ علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا، یا فرمایا: عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا، جو کاٹ کھانے والا ہو گا، مالدار اپنے مال کو دانتوں سے پکڑے رہے گا ( کسی کو نہ دے گا ) حالانکہ اسے ایسا حکم نہیں دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «ولا تنسوا الفضل بينكم» اللہ کے فضل بخشش و انعام کو نہ بھولو یعنی مال کو خرچ کرو ( سورۃ البقرہ: ۲۳۸ ) مجبور و پریشاں حال اپنا مال بیچیں گے حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لاچار و مجبور کا مال خریدنے سے اور دھوکے کی بیع سے روکا ہے، اور پھل کے پکنے سے پہلے اسے بیچنے سے روکا ہے ۱؎۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں دو شریکوں کا تیسرا ہوں جب تک کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے ساتھ خیانت نہ کرے، اور جب کوئی اپنے ساتھی کے ساتھ خیانت کرتا ہے تو میں ان کے درمیان سے ہٹ جاتا ہوں ۔
عروہ بن ابی الجعد بارقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قربانی کا جانور یا بکری خریدنے کے لیے ایک دینار دیا تو انہوں نے دو بکریاں خریدیں، پھر ایک بکری ایک دینار میں بیچ دی، اور ایک دینار اور ایک بکری لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان کی خرید و فروخت میں برکت کی دعا فرمائی ( اس دعا کے بعد ) ان کا حال یہ ہو گیا تھا کہ اگر وہ مٹی بھی خرید لیتے تو اس میں بھی نفع کما لیتے۔