قرآني·Qurani
اردو

البيوع

90 احادیث · #3326–3415

حدیث 3396 — سنن أبي داود 23:71
ضعیفصحیحصحیحصحیح Muslim (1548)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ كَتَبَ إِلَىَّ يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ أَنِّي سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، بِمَعْنَى إِسْنَادِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَحَدِيثِهِ ‏.‏
ایوب کہتے ہیں: یعلیٰ بن حکیم نے مجھے لکھا کہ میں نے سلیمان بن یسار سے عبیداللہ کی سند اور ان کی حدیث کے ہم معنی حدیث سنی ہے۔
حدیث 3397 — سنن أبي داود 23:72
حسنحسن LighairihiصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَنَا أَبُو رَافِعٍ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَمْرٍ كَانَ يَرْفَقُ بِنَا وَطَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ أَرْفَقُ بِنَا نَهَانَا أَنْ يَزْرَعَ أَحَدُنَا إِلاَّ أَرْضًا يَمْلِكُ رَقَبَتَهَا أَوْ مَنِيحَةً يَمْنَحُهَا رَجُلٌ ‏.‏
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہمارے پاس ابورافع رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کام سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے سود مند تھا، لیکن اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی فرماں برداری ہمارے لیے اس سے بھی زیادہ سود مند ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زراعت کرنے سے روک دیا ہے مگر ایسی زمین میں جس کے رقبہ و حدود کے ہم خود مالک ہوں یا جسے کوئی ہمیں ( بلامعاوضہ و شرط ) دیدے۔
حدیث 3398 — سنن أبي داود 23:73
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ ظُهَيْرٍ، قَالَ جَاءَنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ يَنْهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ، كَانَ لَكُمْ نَافِعًا وَطَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْفَعُ لَكُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَاكُمْ عَنِ الْحَقْلِ وَقَالَ ‏ "‏ مَنِ اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ أَوْ لِيَدَعْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَكَذَا رَوَاهُ شُعْبَةُ وَمُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهَلٍ عَنْ مَنْصُورٍ ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ أُسَيْدُ ابْنُ أَخِي رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ‏.‏
اسید بن ظہیر کہتے ہیں ہمارے پاس رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو ایک ایسے کام سے منع فرما رہے ہیں جس میں تمہارا فائدہ تھا، لیکن اللہ کی اطاعت اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ سود مند ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو «حقل» سے یعنی مزارعت سے روکتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنی زمین سے بے نیاز ہو یعنی جوتنے بونے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ اپنی زمین اپنے کسی بھائی کو ( مفت ) دیدے یا اسے یوں ہی چھوڑے رکھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح سے شعبہ اور مفضل بن مہلہل نے منصور سے روایت کیا ہے شعبہ کہتے ہیں: اسید رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہیں۔
حدیث 3399 — سنن أبي داود 23:74
صحیح Isnaadصحیح IsnaadصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ، قَالَ بَعَثَنِي عَمِّي أَنَا وَغُلاَمًا، لَهُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ فَقُلْنَا لَهُ شَىْءٌ بَلَغَنَا عَنْكَ فِي الْمُزَارَعَةِ ‏.‏ قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ لاَ يَرَى بِهَا بَأْسًا حَتَّى بَلَغَهُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ حَدِيثٌ فَأَتَاهُ فَأَخْبَرَهُ رَافِعٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَى بَنِي حَارِثَةَ فَرَأَى زَرْعًا فِي أَرْضِ ظُهَيْرٍ فَقَالَ ‏"‏ مَا أَحْسَنَ زَرْعَ ظُهَيْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لَيْسَ لِظُهَيْرٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ أَرْضُ ظُهَيْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا بَلَى وَلَكِنَّهُ زَرْعُ فُلاَنٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَخُذُوا زَرْعَكُمْ وَرُدُّوا عَلَيْهِ النَّفَقَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ رَافِعٌ فَأَخَذْنَا زَرْعَنَا وَرَدَدْنَا إِلَيْهِ النَّفَقَةَ ‏.‏ قَالَ سَعِيدٌ أَفْقِرْ أَخَاكَ أَوْ أَكْرِهِ بِالدَّرَاهِمِ ‏.‏
ابوجعفر خطمی کہتے ہیں میرے چچا نے مجھے اور اپنے ایک غلام کو سعید بن مسیب کے پاس بھیجا، تو ہم نے ان سے کہا: مزارعت کے سلسلے میں آپ کے واسطہ سے ہمیں ایک خبر ملی ہے، انہوں نے کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مزارعت میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے تھے، یہاں تک کہ انہیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما کی حدیث پہنچی تو وہ ( براہ راست ) ان کے پاس معلوم کرنے پہنچ گئے، رافع رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو حارثہ کے پاس آئے تو وہاں ظہیر کی زمین میں کھیتی دیکھی، تو فرمایا: ( ماشاء اللہ ) ظہیر کی کھیتی کتنی اچھی ہے لوگوں نے کہا: یہ ظہیر کی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا یہ زمین ظہیر کی نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں زمین تو ظہیر کی ہے لیکن کھیتی فلاں کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا کھیت لے لو اور کھیتی کرنے والے کو اس کے اخراجات اور مزدوری دے دو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ( یہ سن کر ) ہم نے اپنا کھیت لے لیا اور جس نے جوتا بویا تھا اس کا نفقہ ( اخراجات و محنتانہ ) اسے دے دیا۔ سعید بن مسیب نے کہا: ( اب دو صورتیں ہیں ) یا تو اپنے بھائی کو زمین زراعت کے لیے عاریۃً دے دو ( اس سے پیداوار کا کوئی حصہ وغیرہ نہ مانگو ) یا پھر درہم کے عوض زمین کو کرایہ پر دو ( یعنی نقد روپیہ اس سے طے کر لو ) ۔
حدیث 3400 — سنن أبي داود 23:75
صحیحصحیحIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا طَارِقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَقَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا يَزْرَعُ ثَلاَثَةٌ رَجُلٌ لَهُ أَرْضٌ فَهُوَ يَزْرَعُهَا وَرَجُلٌ مُنِحَ أَرْضًا فَهُوَ يَزْرَعُ مَا مُنِحَ وَرَجُلٌ اسْتَكْرَى أَرْضًا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ ‏"‏ ‏.‏
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع کیا ہے ۱؎ اور فرمایا: زراعت تین طرح کے لوگ کرتے ہیں ( ۱ ) ایک وہ شخص جس کی اپنی ذاتی زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرتا ہے، ( ۲ ) دوسرا وہ شخص جسے عاریۃً ( بلامعاوضہ ) زمین دے دی گئی ہو تو وہ دی ہوئی زمین میں کھیتی کرتا ہے، ( ۳ ) تیسرا وہ شخص جس نے سونا چاندی ( نقد ) دے کر زمین کرایہ پر لی ہو ۔
حدیث 3401 — سنن أبي داود 23:76
ShadhShadhضعیفضعیف
قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَرَأْتُ عَلَى سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيِّ قُلْتُ لَهُ حَدَّثَكُمُ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدٍ أَبِي شُجَاعٍ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ سَهْلِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ إِنِّي لَيَتِيمٌ فِي حِجْرِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَحَجَجْتُ مَعَهُ فَجَاءَهُ أَخِي عِمْرَانُ بْنُ سَهْلٍ فَقَالَ أَكْرَيْنَا أَرْضَنَا فُلاَنَةَ بِمِائَتَىْ دِرْهَمٍ فَقَالَ دَعْهُ فَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ ‏.‏
عثمان بن سہل بن رافع بن خدیج کہتے ہیں میں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے زیر پرورش ایک یتیم تھا، میں نے ان کے ساتھ حج کیا تو میرے بھائی عمران بن سہل ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: ہم نے اپنی زمین دو سو درہم کے بدلے فلاں شخص کو کرایہ پر دی ہے، تو انہوں نے ( رافع نے ) کہا: اسے چھوڑ دو ( یعنی یہ معاملہ ختم کر لو ) کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث 3402 — سنن أبي داود 23:77
ضعیف Isnaadضعیف Isnaadضعیفضعیف
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا بُكَيْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ - عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، أَنَّهُ زَرَعَ أَرْضًا فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَسْقِيهَا فَسَأَلَهُ ‏"‏ لِمَنِ الزَّرْعُ وَلِمَنِ الأَرْضُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ زَرْعِي بِبَذْرِي وَعَمَلِي لِيَ الشَّطْرُ وَلِبَنِي فُلاَنٍ الشَّطْرُ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَرْبَيْتُمَا فَرُدَّ الأَرْضَ عَلَى أَهْلِهَا وَخُذْ نَفَقَتَكَ ‏"‏ ‏.‏
ابن ابی نعم سے روایت ہے کہ مجھ سے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے ایک زمین میں کھیتی کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا اور وہ اس میں پانی دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: کھیتی کس کی ہے اور زمین کس کی؟ تو انہوں کہا: میری کھیتی میرے بیج سے ہے اور محنت بھی میری ہے نصف پیداوار مجھے ملے گی اور نصف پیداوار فلاں شخص کو ( جو زمین کا مالک ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں نے ربا کیا ( یعنی یہ عقد ناجائز ہے ) زمین اس کے مالک کو لوٹا دو، اور تم اپنے خرچ اور اپنی محنت کی اجرت لے لو ۔
حدیث 3403 — سنن أبي داود 23:78
صحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَىْءٌ وَلَهُ نَفَقَتُهُ ‏"‏ ‏.‏
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دوسرے لوگوں کی زمین میں بغیر ان کی اجازت کے کاشت کی تو اسے کاشت میں سے کچھ نہیں ملے گا صرف اس کا خرچ ملے گا ۔
حدیث 3404 — سنن أبي داود 23:79
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (1536 After 1543)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ حَمَّادًا، وَعَبْدَ الْوَارِثِ، حَدَّثَاهُمْ كُلُّهُمْ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، - قَالَ عَنْ حَمَّادٍ، وَسَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ، ثُمَّ اتَّفَقُوا - عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَالْمُعَاوَمَةِ - قَالَ عَنْ حَمَّادٍ وَقَالَ أَحَدُهُمَا وَالْمُعَاوَمَةِ وَقَالَ الآخَرُ بَيْعِ السِّنِينَ ثُمَّ اتَّفَقُوا - وَعَنِ الثُّنْيَا وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ ۱؎ مزابنہ ۲؎ مخابرہ اور معاومہ ۳؎ سے منع فرمایا ہے۔ مسدد کی روایت میں «عن حماد» ہے اور ابوزبیر اور سعید بن میناء دونوں میں سے ایک نے معاومہ کہا اور دوسرے نے «بيع السنين»کہا ہے پھر دونوں راوی متفق ہیں اور استثناء کرنے ۴؎ سے منع فرمایا ہے، اور عرایا ۵؎ کی اجازت دی ہے۔
حدیث 3405 — سنن أبي داود 23:80
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ، عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَعَنِ الثُّنْيَا إِلاَّ أَنْ يُعْلَمَ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ ( درخت پر لگے ہوئے پھل کو خشک پھل سے بیچنے ) سے اور محاقلہ ( کھیت میں لگی ہوئی فصل کو غلہ سے اندازہ کر کے بیچنے ) سے اور غیر متعین اور غیر معلوم مقدار کے استثناء سے روکا ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔