قرآني·Qurani
اردو

الترجل

55 احادیث · #4159–4213

حدیث 4179 — سنن أبي داود 35:21
صحیحصحیحصحیح Muslim (2101)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَاهُمْ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ التَّزَعْفُرِ لِلرِّجَالِ وَقَالَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ ‏.‏
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو زعفران لگانے سے منع فرمایا ہے۔ اور اسماعیل کی روایت میں«عن التزعفر للرجال» کے بجائے «أن يتزعفرالرجل» ہے۔
حدیث 4180 — سنن أبي داود 35:22
حسنحسنضعیف
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُوَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ ثَلاَثَةٌ لاَ تَقْرَبُهُمُ الْمَلاَئِكَةُ جِيفَةُ الْكَافِرِ وَالْمُتَضَمِّخُ بِالْخَلُوقِ وَالْجُنُبُ إِلاَّ أَنْ يَتَوَضَّأَ ‏"‏ ‏.‏
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آدمی ایسے ہیں کہ فرشتے ان کے قریب نہیں جاتے: ایک کافر کی لاش کے پاس، دوسرے جو زعفران میں لت پت ہو اور تیسرے جنبی ( ناپاک ) إلا یہ کہ وہ وضو کر لے ۔
حدیث 4181 — سنن أبي داود 35:23
MunkarMunkarضعیفضعیف
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ لَمَّا فَتَحَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ جَعَلَ أَهْلُ مَكَّةَ يَأْتُونَهُ بِصِبْيَانِهِمْ فَيَدْعُو لَهُمْ بِالْبَرَكَةِ وَيَمْسَحُ رُءُوسَهُمْ قَالَ فَجِيءَ بِي إِلَيْهِ وَأَنَا مُخَلَّقٌ فَلَمْ يَمَسَّنِي مِنْ أَجْلِ الْخَلُوقِ ‏.‏
ولید بن عقبہ کہتے ہیں کہ جب اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو ابن مکہ اپنے بچوں کو لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے برکت کی دعا فرماتے اور ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے، مجھے بھی آپ کی خدمت میں لایا گیا، لیکن مجھے خلوق لگا ہوا تھا اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہاتھ نہیں لگایا۔
حدیث 4182 — سنن أبي داود 35:24
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ - وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَلَّمَا يُوَاجِهُ رَجُلاً فِي وَجْهِهِ بِشَىْءٍ يَكْرَهُهُ - فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ ‏ "‏ لَوْ أَمَرْتُمْ هَذَا أَنْ يَغْسِلَ هَذَا عَنْهُ ‏"‏ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس پر ( زعفران کی ) زردی کا نشان تھا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بہت کم کسی ایسے شخص کا سامنا فرماتے جس کے چہرہ پہ کوئی ایسی چیز ہوتی جسے آپ ناپسند فرماتے، چنانچہ جب وہ چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کاش تم لوگ اسے حکم دیتے کہ وہ اسے اپنے سے دھو ڈالے ۔
حدیث 4183 — سنن أبي داود 35:25
صحیحصحیحصحیح Bukhari (3551) Sahih Muslim (2337)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَادَ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لَهُ شَعْرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَا رَوَاهُ إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ وَقَالَ شُعْبَةُ يَبْلُغُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ ‏.‏
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی شخص کو جو کان کی لو سے نیچے بال رکھے ہو اور سرخ جوڑے میں ملبوس ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا ( محمد بن سلیمان کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ ) آپ کے بال دونوں شانوں سے لگ رہے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے اسرائیل نے ابواسحاق سے روایت کیا ہے کہ وہ بال آپ کے دونوں شانوں سے لگ رہے تھے اور شعبہ کہتے ہیں: وہ آپ کے دونوں کانوں کی لو تک پہنچ رہے تھے ۔
حدیث 4184 — سنن أبي داود 35:26
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَهُ شَعْرٌ يَبْلُغُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ ‏.‏
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال آپ کے دونوں کانوں کی لو تک پہنچتے تھے۔
حدیث 4185 — سنن أبي داود 35:27
صحیحصحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ ‏.‏
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال آپ کے دونوں کانوں کی لو تک پہنچتے تھے۔
حدیث 4186 — سنن أبي داود 35:28
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (2338)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال آپ کے آدھے کانوں تک رہتے تھے۔
حدیث 4187 — سنن أبي داود 35:29
حسن Sahihحسن Sahihصحیح LighairihiIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوْقَ الْوَفْرَةِ وَدُونَ الْجُمَّةِ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال «وفرہ» ۱؎ سے بڑے اور «جمہ» ۲؎ سے چھوٹے تھے۔
حدیث 4188 — سنن أبي داود 35:30
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (5917) Sahih Muslim (2336)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ - يَعْنِي - يَسْدِلُونَ أَشْعَارَهُمْ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تُعْجِبُهُ مُوَافَقَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ بِهِ فَسَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَاصِيَتَهُ ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اہل کتاب اپنے بالوں کا «سدل» کرتے یعنی انہیں لٹکا ہوا چھوڑ دیتے تھے، اور مشرکین اپنے سروں میں مانگ نکالتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جن باتوں میں کوئی حکم نہ ملتا اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے اسی لیے آپ اپنی پیشانی کے بالوں کو لٹکا چھوڑ دیتے تھے پھر بعد میں آپ مانگ نکالنے لگے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔