قرآني·Qurani
اردو

الترجل

55 احادیث · #4159–4213

حدیث 4199 — سنن أبي داود 35:41
صحیحصحیحصحیح Bukhari (5892، 5893) Sahih Muslim (259)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِإِحْفَاءِ الشَّوَارِبِ وَإِعْفَاءِ اللِّحَى ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھوں کے خوب کترنے، اور داڑھیوں کے بڑھانے کا حکم دیا ہے۔
حدیث 4200 — سنن أبي داود 35:42
صحیحصحیحضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ الدَّقِيقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ وَقَّتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَلْقَ الْعَانَةِ وَتَقْلِيمَ الأَظْفَارِ وَقَصَّ الشَّارِبِ وَنَتْفَ الإِبْطِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا مَرَّةً ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ أَنَسٍ لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ وُقِّتَ لَنَا وَهَذَا أَصَحُّ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیر ناف کے بال مونڈنے، ناخن کاٹنے، مونچھیں تراشنے اور بغل کے بال اکھاڑنے کی چالیس دن میں ایک بار کی تحدید فرما دی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے جعفر بن سلیمان نے ابوعمران سے اور انہوں نے انس سے روایت کیا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے اور اس میں «وقَّتَ لنا» کے بجائے «وُقِّتَ لنا» بصیغہ مجہول ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
حدیث 4201 — سنن أبي داود 35:43
ضعیف Isnaadضعیف Isnaadضعیفضعیف
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ وَقَرَأَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ عَلَى أَبِي الزُّبَيْرِ وَرَوَاهُ أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا نُعْفِي السِّبَالَ إِلاَّ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ الاِسْتِحْدَادُ حَلْقُ الْعَانَةِ ‏.‏
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم حج و عمرہ کے سوا ہمیشہ داڑھیوں کو لٹکتا رہنے دیتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «استحداد» کے معنی زیر ناف مونڈنے کے ہیں۔
حدیث 4202 — سنن أبي داود 35:44
حسن Sahihحسن SahihIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - الْمَعْنَى - عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَنْتِفُوا الشَّيْبَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَشِيبُ شَيْبَةً فِي الإِسْلاَمِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَنْ سُفْيَانَ ‏"‏ إِلاَّ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ فِي حَدِيثِ يَحْيَى ‏"‏ إِلاَّ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفید بال نہ اکھیڑو، اس لیے کہ جس مسلمان کا کوئی بال حالت اسلام میں سفید ہوا ہو ( سفیان کی روایت میں ہے ) تو وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہو گا ( اور یحییٰ کی روایت میں ہے ) اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھے گا اور اس سے ایک گناہ مٹا دے گا ۔
حدیث 4203 — سنن أبي داود 35:45
صحیحصحیحصحیح Bukhari (5899) Sahih Muslim (2103)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لاَ يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود و نصاریٰ اپنی داڑھیاں نہیں رنگتے ہیں، لہٰذا تم ان کی مخالفت کرو ، یعنی انہیں خضاب سے رنگا کرو۔
حدیث 4204 — سنن أبي داود 35:46
صحیحصحیحصحیح Muslim (2102)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيَاضًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ غَيِّرُوا هَذَا بِشَىْءٍ وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ ‏"‏ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ( ابوبکر رضی اللہ عنہ کے والد ) ابوقحافہ کو لایا گیا، ان کا سر اور ان کی داڑھی ثغامہ ( نامی سفید رنگ کے پودے ) کے مانند سفید تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کسی چیز سے بدل دو اور سیاہی سے بچو ۔
حدیث 4205 — سنن أبي داود 35:47
صحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ أَحْسَنَ مَا غُيِّرَ بِهِ هَذَا الشَّيْبُ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ ‏"‏ ‏.‏
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے اچھی چیز جس سے اس بڑھاپے ( بال کی سفیدی ) کو بدلا جائے حناء ( مہندی ) اور کتم ( وسمہ ) ہے ۔
حدیث 4206 — سنن أبي داود 35:48
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ إِيَادٍ - قَالَ حَدَّثَنَا إِيَادٌ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا هُوَ ذُو وَفْرَةٍ بِهَا رَدْعُ حِنَّاءَ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ ‏.‏
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا تو دیکھا کہ آپ کے سر کے بال کان کی لو تک ہیں، ان میں مہندی لگی ہوئی ہے، اور آپ کے جسم مبارک پر سبز رنگ کی دو چادریں ہیں۔
حدیث 4207 — سنن أبي داود 35:49
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبْجَرَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، فِي هَذَا الْخَبَرِ قَالَ فَقَالَ لَهُ أَبِي أَرِنِي هَذَا الَّذِي بِظَهْرِكَ فَإِنِّي رَجُلٌ طَبِيبٌ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُ الطَّبِيبُ بَلْ أَنْتَ رَجُلٌ رَفِيقٌ طَبِيبُهَا الَّذِي خَلَقَهَا ‏"‏ ‏.‏
اس سند سے ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں مروی ہے کہ میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے آپ اپنی وہ چیز دکھائیں جو آپ کی پشت پر ہے کیونکہ میں طبیب ہوں، آپ نے فرمایا: طبیب تو اللہ ہے، بلکہ تو رفیق ہے ( مریض کو تسکین اور دلاسے دیتا ہے ) طبیب تو وہی ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے ۔
حدیث 4208 — سنن أبي داود 35:50
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنَا وَأَبِي فَقَالَ لِرَجُلٍ أَوْ لأَبِيهِ ‏"‏ مَنْ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ تَجْنِي عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ قَدْ لَطَخَ لِحْيَتَهُ بِالْحِنَّاءِ ‏.‏
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے ایک شخص سے یا میرے والد سے پوچھا: یہ کون ہے؟ وہ بولے: میرا بیٹا ہے، آپ نے فرمایا: یہ تمہارا بوجھ نہیں اٹھائے گا، تم جو کرو گے اس کی باز پرس تم سے ہو گی، آپ نے اپنی داڑھی میں مہندی لگا رکھی تھی ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔