قرآني·Qurani
اردو

الجنائز

153 احادیث · #3089–3241

حدیث 3129 — سنن أبي داود 21:41
صحیحصحیحصحیح Bukhari (3979، 3980، 3981) Sahih Muslim (932)
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، وَأَبِي، مُعَاوِيَةَ - الْمَعْنَى - عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ وَهِلَ - تَعْنِي ابْنَ عُمَرَ - إِنَّمَا مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى قَبْرٍ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ صَاحِبَ هَذَا لَيُعَذَّبُ وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَرَأَتْ ‏{‏ وَلاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ‏}‏ قَالَ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ عَلَى قَبْرِ يَهُودِيٍّ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب دیا جاتا ہے“ ۱؎، ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اس بات کا ذکر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا گیا تو انہوں نے کہا: ان سے یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھول ہوئی ہے، سچ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قبر کے پاس سے گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس قبر والے کو تو عذاب ہو رہا ہے اور اس کے گھر والے ہیں کہ اس پر رو رہے ہیں“، پھر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے آیت «ولا تزر وازرة وزر أخرى» ”کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا“ (سورۃ الإسراء: ۱۵) پڑھی۔ ابومعاویہ کی روایت میں «على قبر» کے بجائے «على قبر يهودي» ہے، یعنی ایک یہودی کے قبر کے پاس سے گزر ہوا۔
حدیث 3130 — سنن أبي داود 21:42
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى وَهُوَ ثَقِيلٌ فَذَهَبَتِ امْرَأَتُهُ لِتَبْكِي أَوْ تَهُمَّ بِهِ فَقَالَ لَهَا أَبُو مُوسَى أَمَا سَمِعْتِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ بَلَى ‏.‏ قَالَ فَسَكَتَتْ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو مُوسَى - قَالَ يَزِيدُ - لَقِيتُ الْمَرْأَةَ فَقُلْتُ لَهَا مَا قَوْلُ أَبِي مُوسَى لَكِ أَمَا سَمِعْتِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ سَكَتِّ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ وَمَنْ سَلَقَ وَمَنْ خَرَقَ ‏"‏ ‏.‏
یزید بن اوس کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیمار تھے میں ان کے پاس ( عیادت کے لیے ) گیا تو ان کی اہلیہ رونے لگیں یا رونا چاہا، تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں سنا ہے؟ وہ بولیں: کیوں نہیں، ضرور سنا ہے، تو وہ چپ ہو گئیں، یزید کہتے ہیں: جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ وفات پا گئے تو میں ان کی اہلیہ سے ملا اور ان سے پوچھا کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے قول: کیا تم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں سنا ہے پھر آپ چپ ہو گئیں کا کیا مطلب تھا؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو ( میت کے غم میں ) اپنا سر منڈوائے، جو چلا کر روئے پیٹے، اور جو کپڑے پھاڑے وہ ہم میں سے نہیں ۱؎۔
حدیث 3131 — سنن أبي داود 21:43
صحیحصحیححسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، - عَامِلٌ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَلَى الرَّبَذَةِ حَدَّثَنِي أَسِيدُ بْنُ أَبِي أَسِيدٍ، عَنِ امْرَأَةٍ، مِنَ الْمُبَايِعَاتِ قَالَتْ كَانَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَعْرُوفِ الَّذِي أَخَذَ عَلَيْنَا أَنْ لاَ نَعْصِيَهُ فِيهِ أَنْ لاَ نَخْمِشَ وَجْهًا وَلاَ نَدْعُوَ وَيْلاً وَلاَ نَشُقَّ جَيْبًا وَأَنْ لاَ نَنْشُرَ شَعْرًا ‏.‏
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے والی عورتوں میں سے ایک عورت کہتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن بھلی باتوں کا ہم سے عہد لیا تھا کہ ان میں ہم آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے وہ یہ تھیں کہ ہم ( کسی کے مرنے پر ) نہ منہ نوچیں گے، نہ تباہی و بربادی کو پکاریں گے، نہ کپڑے پھاڑیں گے اور نہ بال بکھیریں گے۔
حدیث 3132 — سنن أبي داود 21:44
حسنحسنحسن Lighairihiحسن
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اصْنَعُوا لآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا فَإِنَّهُ قَدْ أَتَاهُمْ أَمْرٌ شَغَلَهُمْ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو کیونکہ ان پر ایک ایسا امر ( حادثہ و سانحہ ) پیش آ گیا ہے جس نے انہیں اس کا موقع نہیں دیا ہے ۱؎ ۔
حدیث 3133 — سنن أبي داود 21:45
حسنحسنضعیف
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ رُمِيَ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فِي صَدْرِهِ أَوْ فِي حَلْقِهِ فَمَاتَ فَأُدْرِجَ فِي ثِيَابِهِ كَمَا هُوَ - قَالَ - وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک شخص سینے یا حلق میں تیر لگنے سے مر گیا تو اسی طرح اپنے کپڑوں میں لپیٹا گیا جیسے وہ تھا، اس وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔
حدیث 3134 — سنن أبي داود 21:46
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقَتْلَى أُحُدٍ أَنْ يُنْزَعَ عَنْهُمُ الْحَدِيدُ وَالْجُلُودُ وَأَنْ يُدْفَنُوا بِدِمَائِهِمْ وَثِيَابِهِمْ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے مقتولین ( شہداء ) کے بارے میں حکم دیا کہ ان کی زرہیں اور پوستینیں ان سے اتار لی جائیں، اور انہیں ان کے خون اور کپڑوں سمیت دفن کر دیا جائے۔
حدیث 3135 — سنن أبي داود 21:47
حسنحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، - وَهَذَا لَفْظُهُ - أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ أَنَّ شُهَدَاءَ أُحُدٍ لَمْ يُغَسَّلُوا وَدُفِنُوا بِدِمَائِهِمْ وَلَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِمْ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ شہدائے احد کو غسل نہیں دیا گیا وہ اپنے خون سمیت دفن کئے گئے اور نہ ہی ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی۔
حدیث 3136 — سنن أبي داود 21:48
حسنحسنضعیف
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحُبَابِ - ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ، - يَعْنِي الْمَرْوَانِيَّ - عَنْ أُسَامَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، - الْمَعْنَى - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ عَلَى حَمْزَةَ وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ فَقَالَ ‏"‏ لَوْلاَ أَنْ تَجِدَ صَفِيَّةُ فِي نَفْسِهَا لَتَرَكْتُهُ حَتَّى تَأْكُلَهُ الْعَافِيَةُ حَتَّى يُحْشَرَ مِنْ بُطُونِهَا ‏"‏ ‏.‏ وَقَلَّتِ الثِّيَابُ وَكَثُرَتِ الْقَتْلَى فَكَانَ الرَّجُلُ وَالرَّجُلاَنِ وَالثَّلاَثَةُ يُكَفَّنُونَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ - زَادَ قُتَيْبَةُ - ثُمَّ يُدْفَنُونَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْأَلُ ‏"‏ أَيُّهُمْ أَكْثَرُهُمْ قُرْآنًا ‏"‏ ‏.‏ فَيُقَدِّمُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( غزوہ احد میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حمزہ ( حمزہ بن عبدالمطلب ) رضی اللہ عنہ کی لاش کے قریب سے گزرے، ان کا مثلہ کر دیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا: اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ صفیہ ( حمزہ کی بہن ) اپنے دل میں کچھ محسوس کریں گی تو میں انہیں یوں ہی چھوڑ دیتا، پرندے کھا جاتے، پھر وہ حشر کے دن ان کے پیٹوں سے نکلتے ۔ اس وقت کپڑوں کی قلت تھی اور شہیدوں کی کثرت، ( حال یہ تھا ) کہ ایک کپڑے میں ایک ایک، دو دو، تین تین شخص کفنائے جاتے تھے۱؎۔ قتیبہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ: پھر وہ ایک ہی قبر میں دفن کئے جاتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے کہ ان میں قرآن کس کو زیادہ یاد ہے؟ تو جسے زیادہ یاد ہوتا اسے قبلہ کی جانب آگے رکھتے۔
حدیث 3137 — سنن أبي داود 21:49
حسنحسنضعیف
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِحَمْزَةَ وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الشُّهَدَاءِ غَيْرِهِ ‏.‏
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، دیکھا کہ ان کا مثلہ کر دیا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ کسی اور کی نماز جنازہ نہیں پڑھی ۱؎۔
حدیث 3138 — سنن أبي داود 21:50
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (1343)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ، أَنَّ اللَّيْثَ، حَدَّثَهُمْ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ وَيَقُولُ ‏"‏ أَيُّهُمَا أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمَا قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ وَقَالَ ‏"‏ أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلاَءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ وَلَمْ يُغَسَّلُوا ‏.‏
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد کے مقتولین میں سے دو دو آدمیوں کو ایک ساتھ دفن کرتے تھے اور پوچھتے تھے کہ ان میں قرآن کس کو زیادہ یاد ہے؟ تو جس کے بارے میں اشارہ کر دیا جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے قبر میں ( لٹانے میں ) آگے کرتے اور فرماتے: میں ان سب پر قیامت کے دن گواہ رہوں گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے خون سمیت دفنانے کا حکم دیا، اور انہیں غسل نہیں دیا۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔