قرآني·Qurani
اردو

الجهاد

311 احادیث · #2477–2787

حدیث 2687 — سنن أبي داود 15:211
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنِ ابْنِ تِعْلَى، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَأُتِيَ بِأَرْبَعَةِ أَعْلاَجٍ مِنَ الْعَدُوِّ فَأَمَرَ بِهِمْ فَقُتِلُوا صَبْرًا ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ لَنَا غَيْرُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ بِالنَّبْلِ صَبْرًا فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنْ قَتْلِ الصَّبْرِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَتْ دَجَاجَةٌ مَا صَبَرْتُهَا ‏.‏ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَأَعْتَقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ ‏.‏
ابن تعلی کہتے ہیں کہ ہم نے عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید کے ساتھ جہاد کیا تو ان کے سامنے عجمی کافروں میں سے چار طاقتور اور ہٹے کٹے کافر لائے گئے انہوں نے ان کے متعلق حکم دیا تو وہ باندھ کر قتل کر دیئے گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہم سے سعید بن منصور کے سوا اور لوگوں نے ابن وہب سے یہی حدیث یوں روایت کی ہے کہ پکڑ کر نشانہ بنا کر تیروں سے مار ڈالے گئے، تو یہ خبر ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح مارنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر مرغی بھی ہو تو میں اس کو اس طرح روک کر نہ ماروں، یہ خبر عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید کو پہنچی تو انہوں نے ( اپنی اس غلطی کی تلافی کے لیے ) چار غلام آزاد کئے۔
حدیث 2688 — سنن أبي داود 15:212
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (1808)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ ثَمَانِينَ، رَجُلاً مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابِهِ مِنْ جِبَالِ التَّنْعِيمِ عِنْدَ صَلاَةِ الْفَجْرِ لِيَقْتُلُوهُمْ فَأَخَذَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَلَمًا فَأَعْتَقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ ‏}‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ ‏.‏
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مکہ والوں میں سے اسی آدمی جبل تنعیم سے نماز فجر کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو قتل کرنے کے لیے اترے تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کسی مزاحمت کے بغیر گرفتار کر لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد کر دیا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وهو الذي كف أيديهم عنكم وأيديكم عنهم ببطن مكة» إلى آخر الآية ( سورۃ الفتح: ۲۴ ) اللہ ہی نے ان کا ہاتھ تم سے اور تمہارا ہاتھ ان سے وادی مکہ میں روک دیا ۔
حدیث 2689 — سنن أبي داود 15:213
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (3139)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأُسَارَى بَدْرٍ ‏ "‏ لَوْ كَانَ مُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا ثُمَّ كَلَّمَنِي فِي هَؤُلاَءِ النَّتْنَى لأَطْلَقْتُهُمْ لَهُ ‏"‏ ‏.‏
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں سے فرمایا: اگر مطعم بن عدی ۱؎ زندہ ہوتے اور ان ناپاک قیدیوں کے سلسلے میں مجھ سے سفارش کرتے تو میں ان کی خاطر انہیں چھوڑ دیتا ۔
حدیث 2690 — سنن أبي داود 15:214
حسن Sahihحسن Sahihصحیح Muslim (1763)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ فَأَخَذَ - يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - الْفِدَاءَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الأَرْضِ ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ ‏}‏ مِنَ الْفِدَاءِ ثُمَّ أَحَلَّ لَهُمُ اللَّهُ الْغَنَائِمَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يُسْأَلُ عَنِ اسْمِ أَبِي نُوحٍ فَقَالَ أَيْشٍ تَصْنَعُ بِاسْمِهِ اسْمُهُ اسْمٌ شَنِيعٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ اسْمُ أَبِي نُوحٍ قُرَادٌ وَالصَّحِيحُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَزْوَانَ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب غزوہ بدر ہوا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں سے فدیہ لیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: «ما كان لنبي أن يكون له أسرى حتى يثخن في الأرض» سے «مسكم فيما أخذتم» تک نبی کے لیے مناسب نہیں کہ ان کے قیدی باقی اور زندہ رہیں جب تک کہ زمین میں ان ( کافروں کا ) اچھی طرح خون نہ بہا لیں، تم دنیا کے مال و اسباب چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے، اللہ بڑا غالب اور بڑی حکمت والا ہے، اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کے سبب سے تمہیں بڑی سزا پہنچتی ( سورۃ الأنفال: ۶۷-۶۸ ) پھر اللہ نے ان کے لیے غنائم کو حلال کر دیا۔
حدیث 2691 — سنن أبي داود 15:215
صحیحصحیحIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ الْعَيْشِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْعَنْبَسِ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَعَلَ فِدَاءَ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ يَوْمَ بَدْرٍ أَرْبَعَمِائَةٍ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن جاہلیت کے لوگوں کا فدیہ فی آدمی چار سو مقرر کیا۔
حدیث 2692 — سنن أبي داود 15:216
حسنحسنحسنحسن
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا بَعَثَ أَهْلُ مَكَّةَ فِي فِدَاءِ أَسْرَاهُمْ بَعَثَتْ زَيْنَبُ فِي فِدَاءِ أَبِي الْعَاصِ بِمَالٍ وَبَعَثَتْ فِيهِ بِقِلاَدَةٍ لَهَا كَانَتْ عِنْدَ خَدِيجَةَ أَدْخَلَتْهَا بِهَا عَلَى أَبِي الْعَاصِ ‏.‏ قَالَتْ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَقَّ لَهَا رِقَّةً شَدِيدَةً وَقَالَ ‏"‏ إِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُطْلِقُوا لَهَا أَسِيرَهَا وَتَرُدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا نَعَمْ ‏.‏ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخَذَ عَلَيْهِ أَوْ وَعَدَهُ أَنْ يُخَلِّيَ سَبِيلَ زَيْنَبَ إِلَيْهِ وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَرَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ ‏"‏ كُونَا بِبَطْنِ يَأْجِجَ حَتَّى تَمُرَّ بِكُمَا زَيْنَبُ فَتَصْحَبَاهَا حَتَّى تَأْتِيَا بِهَا ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب اہل مکہ نے اپنے اپنے قیدیوں کے فدیے بھیجے تو اس وقت زینب رضی اللہ عنہا نے ابوالعاص رضی اللہ عنہ ۱؎ کے فدیہ میں کچھ مال بھیجا اور اس مال میں اپنا ایک ہار بھیجا جو خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تھا، انہوں نے یہ ہار زینب کو ابوالعاص سے نکاح کے موقع پر رخصتی کے وقت دیا تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہار کو دیکھا تو آپ پر سخت رقت طاری ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم مناسب سمجھو تو ان کی خاطر و دلداری میں ان کا قیدی چھوڑ دو، اور ان کا مال انہیں لوٹا دو ، لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑتے وقت یہ عہد لے لیا کہ وہ زینب رضی اللہ عنہا کو میرے پاس آنے سے نہ روکیں گے، پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور انصار میں سے ایک شخص کو بھیجا، اور فرمایا: تم دونوں بطن یأجج میں رہنا یہاں تک کہ زینب تم دونوں کے پاس سے گزریں تو ان کو ساتھ لے کر آنا ۲؎ ۔
حدیث 2693 — سنن أبي داود 15:217
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (2307، 2308)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا عَمِّي، - يَعْنِي سَعِيدَ بْنَ الْحَكَمِ - قَالَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ وَذَكَرَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ مَرْوَانَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَعِي مَنْ تَرَوْنَ وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَىَّ أَصْدَقُهُ فَاخْتَارُوا إِمَّا السَّبْىَ وَإِمَّا الْمَالَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا نَخْتَارُ سَبْيَنَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ هَؤُلاَءِ جَاءُوا تَائِبِينَ وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ النَّاسُ قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّا لاَ نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ فَأَخْبَرُوهُمْ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا ‏.‏
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ عروہ بن زبیر نے ذکر کیا کہ انہیں مروان اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفد ہوازن مسلمان ہو کر آیا اور اس نے آپ سے درخواست کی کہ آپ ان کے مال انہیں واپس لوٹا دیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: میرے ساتھ جو ہیں انہیں تم دیکھ رہے ہو، اور میرے نزدیک سب سے عمدہ بات سچی بات ہے تم یا تو قیدیوں ( کی واپسی ) اختیار کر لو یا مال ، انہوں نے کہا: ہم اپنے قیدیوں کو اختیار کریں گے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اس کے بعد فرمایا: تمہارے یہ بھائی ( شرک سے ) توبہ کر کے آئے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ ان کے قیدیوں کو واپس لوٹا دوں، لہٰذا تم میں سے جو شخص اپنی خوشی سے واپس لوٹا سکتا ہو تو وہ واپس لوٹا دے، اور جو شخص اپنا حصہ لینے پر مصر ہے تو پہلا مال غنیمت جو اللہ ہم کو دے ہم اس میں سے اس کا عوض دیں تو وہ ایسا ہی کر لے ، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے انہیں بخوشی واپس لوٹا دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ہم نہیں جانتے کہ تم میں سے کس نے اجازت دی، اور کس نے نہیں دی؟ لہٰذا تم واپس جاؤ یہاں تک کہ تمہارے سردار معاملہ کی تفصیل ہمارے پاس لے کر آئیں ، لوگ لوٹ گئے، اور ان سے ان کے سرداروں نے بات کی تو انہوں نے اپنے سرداروں کو بتایا کہ انہوں نے خوشی خوشی اجازت دی ہے۔
حدیث 2694 — سنن أبي داود 15:218
حسنحسنحسنحسن
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ رُدُّوا عَلَيْهِمْ نِسَاءَهُمْ وَأَبْنَاءَهُمْ فَمَنْ مَسَكَ بِشَىْءٍ مِنْ هَذَا الْفَىْءِ فَإِنَّ لَهُ بِهِ عَلَيْنَا سِتَّ فَرَائِضَ مِنْ أَوَّلِ شَىْءٍ يُفِيئُهُ اللَّهُ عَلَيْنَا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ دَنَا - يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - مِنْ بَعِيرٍ فَأَخَذَ وَبَرَةً مِنْ سَنَامِهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَيْسَ لِي مِنَ الْفَىْءِ شَىْءٌ وَلاَ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَرَفَعَ أُصْبُعَيْهِ ‏"‏ إِلاَّ الْخُمُسَ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ فَأَدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمِخْيَطَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ رَجُلٌ فِي يَدِهِ كُبَّةٌ مِنْ شَعْرٍ فَقَالَ أَخَذْتُ هَذِهِ لأُصْلِحَ بِهَا بَرْذَعَةً لِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَمَّا إِذْ بَلَغَتْ مَا أَرَى فَلاَ أَرَبَ لِي فِيهَا ‏.‏ وَنَبَذَهَا ‏.‏
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اسی قصہ کی روایت میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی عورتوں اور بچوں کو واپس لوٹا دو، اور جو کوئی اس مال غنیمت سے اپنا حصہ باقی رکھنا چاہے تو ہم اس کو اس پہلے مال غنیمت سے جو اللہ ہمیں دے گا چھ اونٹ دیں گے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹ کے قریب آئے اور اس کی کوہان سے ایک بال لیا پھر فرمایا: لوگو! میرے لیے اس مال غنیمت سے کچھ بھی حلال نہیں ہے ، اور اپنی دونوں انگلیاں اٹھا کر کہا: یہاں تک کہ یہ ( بال ) بھی حلال نہیں سوائے خمس ( پانچواں حصہ ) کے، اور خمس بھی تمہارے ہی اوپر لوٹا دیا جاتا ہے، لہٰذا تم سوئی اور دھاگا بھی ادا کر دو ( یعنی بیت المال میں جمع کر دو ) ، ایک شخص کھڑا ہو اس کے ہاتھ میں بالوں کا ایک گچھا تھا، اس نے کہا: میں نے اس کو پالان کے نیچے کی کملی درست کرنے کے لیے لیا تھا؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہا میرا اور بنی عبدالمطلب کا حصہ تو وہ تمہارے لیے ہے ، تو اس نے کہا: جب معاملہ اتنا اہم ہے تو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اور اس نے اسے ( غنیمت کے مال میں ) پھینک دیا ۱؎۔
حدیث 2695 — سنن أبي داود 15:219
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (3065)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا غَلَبَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلاَثًا ‏.‏ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى إِذَا غَلَبَ قَوْمًا أَحَبَّ أَنْ يُقِيمَ بِعَرْصَتِهِمْ ثَلاَثًا ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ يَطْعَنُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ لأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ قَدِيمِ حَدِيثِ سَعِيدٍ لأَنَّهُ تَغَيَّرَ سَنَةَ خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ وَلَمْ يُخْرِجْ هَذَا الْحَدِيثَ إِلاَّ بِأَخَرَةٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ يُقَالُ إِنَّ وَكِيعًا حَمَلَ عَنْهُ فِي تَغَيُّرِهِ ‏.‏
ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر غالب آتے تو میدان جنگ میں تین رات قیام کرتے۔ ابن مثنیٰ کا بیان ہے: جب کسی قوم پر غالب آتے تو میدان جنگ میں جو ان کی سر زمین میں پڑتا تین رات قیام کرنا پسند فرماتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کہ یحییٰ بن سعید اس حدیث میں طعن کرتے تھے کیونکہ یہ سعید ( سعید ابن ابی عروبہ ) کی پہلے کی حدیثوں میں سے نہیں ہے، اس لیے کہ ۱۴۵ ہجری میں ان کے حافظہ میں تغیر پیدا ہو گیا تھا، اور یہ حدیث بھی آخری عمر کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ وکیع نے ان سے ان کے زمانہ تغیر میں ہی حدیث حاصل کی ہے ۱؎۔
حدیث 2696 — سنن أبي داود 15:220
حسنحسنحسن Lighairihiضعیف
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ فَرَّقَ بَيْنَ جَارِيَةٍ وَوَلَدِهَا فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ وَرَدَّ الْبَيْعَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَمَيْمُونٌ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيًّا قُتِلَ بِالْجَمَاجِمِ وَالْجَمَاجِمُ سَنَةُ ثَلاَثٍ وَثَمَانِينَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَالْحَرَّةُ سَنَةُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ وَقُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ سَنَةَ ثَلاَثٍ وَسَبْعِينَ ‏.‏
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک لونڈی اور اس کے بچے کے درمیان جدائی کرا دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا، اور بیع کو رد کر دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میمون نے علی رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے، میمون جنگ جماجم میں قتل کئے گئے، اور جماجم ۸۳ ہجری میں ہوئی ہے، نیز واقعہ حرہ ( ۶۳ ہجری ) میں پیش آیا، اور ابن زبیر ( ۷۳ ہجری ) میں قتل ہوئے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔