صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (2810) Sahih Muslim (1904)
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، : أَنَّ أَعْرَابِيًّا، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ : إِنَّ الرَّجُلَ يُقَاتِلُ لِلذِّكْرِ، وَيُقَاتِلُ لِيُحْمَدَ، وَيُقَاتِلُ لِيَغْنَمَ، وَيُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " مَنْ قَاتَلَ حَتَّى تَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ أَعْلَى فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: کوئی شہرت کے لیے جہاد کرتا ہے کوئی جہاد کرتا ہے تاکہ اس کی تعریف کی جائے، کوئی اس لیے جہاد کرتا ہے تاکہ مال غنیمت پائے اور کوئی اس لیے جہاد کرتا ہے تاکہ اس مرتبہ کا اظہار ہو سکے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے صرف اس لیے جہاد کیا تاکہ اللہ کا کلمہ سربلند رہے تو وہی اصل مجاہد ہے ۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے جہاد اور غزوہ کے بارے میں بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ بن عمرو! اگر تم صبر کے ساتھ ثواب کی نیت سے جہاد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں صابر اور محتسب ( ثواب کی نیت رکھنے والا ) بنا کر اٹھائے گا، اور اگر تم ریاکاری اور فخر کے اظہار کے لیے جہاد کرو گے تو اللہ تمہیں ریا کار اور فخر کرنے والا بنا کر اٹھائے گا، اے عبداللہ بن عمرو! تم جس حال میں بھی لڑو یا شہید ہو اللہ تمہیں اسی حال پر اٹھائے گا ۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے بھائی احد کے دن شہید کئے گئے تو اللہ نے ان کی روحوں کو سبز چڑیوں کے پیٹ میں رکھ دیا، جو جنت کی نہروں پر پھرتی ہیں، اس کے میوے کھاتی ہیں اور عرش کے سایہ میں معلق سونے کی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں، جب ان روحوں نے اپنے کھانے، پینے اور سونے کی خوشی حاصل کر لی، تو وہ کہنے لگیں: کون ہے جو ہمارے بھائیوں کو ہمارے بارے میں یہ خبر پہنچا دے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں اور روزی دیئے جاتے ہیں تاکہ وہ جہاد سے بے رغبتی نہ کریں اور لڑائی کے وقت سستی نہ کریں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں تمہاری جانب سے انہیں یہ خبر پہنچائوں گا ، راوی کہتے ہیں: تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا» جو اللہ کے راستے میں شہید کر دئیے گئے انہیں مردہ نہ سمجھو ( سورۃ آل عمران: ۱۶۹ ) اخیر آیت تک نازل فرمائی۔
حسناء بنت معاویہ کے چچا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: جنت میں کون ہو گا؟ آپ نے فرمایا: نبی جنت میں ہوں گے، شہید جنت میں ہوں گے، ( نابالغ ) بچے اور زندہ درگور کئے گئے بچے جنت میں ہوں گے ۔
نمران بن عتبہ ذماری کہتے ہیں: ہم ام الدرداء رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ہم یتیم تھے، انہوں نے کہا: خوش ہو جاؤ کیونکہ میں نے ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شہید کی شفاعت اس کے کنبے کے ستر افراد کے لیے قبول کی جائے گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ( ولید بن رباح کے بجائے ) صحیح رباح بن ولید ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب نجاشی کا انتقال ہو گیا تو ہم کہا کرتے تھے کہ ان کی قبر پر ہمیشہ روشنی دکھائی دیتی ہے۔
حدیث 2524 — سنن أبي داود 15:48
صحیحصحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُبَيِّعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ، قَالَ : آخَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا وَمَاتَ الآخَرُ بَعْدَهُ بِجُمُعَةٍ أَوْ نَحْوِهَا، فَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " مَا قُلْتُمْ " . فَقُلْنَا : دَعَوْنَا لَهُ، وَقُلْنَا : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَأَلْحِقْهُ بِصَاحِبِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " فَأَيْنَ صَلاَتُهُ بَعْدَ صَلاَتِهِ وَصَوْمُهُ بَعْدَ صَوْمِهِ " . شَكَّ شُعْبَةُ فِي صَوْمِهِ : " وَعَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ إِنَّ بَيْنَهُمَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ " .
عبید بن خالد سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں میں بھائی چارہ کرایا، ان میں سے ایک شہید کر دیا گیا اور دوسرے کا اس کے ایک ہفتہ کے بعد، یا اس کے لگ بھگ انتقال ہوا، ہم نے اس پر نماز جنازہ پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے کیا کہا؟ ہم نے جواب دیا: ہم نے اس کے حق میں دعا کی کہ: اللہ اسے بخش دے اور اس کو اس کے ساتھی سے ملا دے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی نمازیں کہاں گئیں، جو اس نے اپنے ساتھی کے ( قتل ہونے کے ) بعد پڑھیں، اس کے روزے کدھر گئے جو اس نے اپنے ساتھی کے بعد رکھے، اس کے اعمال کدھر گئے جو اس نے اپنے ساتھی کے بعد کئے؟ ان دونوں کے درجوں میں ایسے ہی فرق ہے جیسے آسمان و زمین میں فرق ہے ۱؎ شعبہ کو «صومه بعد صومه» اور «عمله بعد عمله» میں شک ہوا ہے۔
ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: عنقریب تم پر شہر کے شہر فتح کئے جائیں گے اور عنقریب ایک بھاری لشکر ہو گا اور اسی میں سے تم پر ٹکڑیاں متعین کی جائیں گی، تو تم میں سے جو شخص اس میں بغیر اجرت کے بھیجے جانے کو ناپسند کرے اور ( جہاد میں جانے سے بچنے کے لیے ) اپنی قوم سے علیحدہ ہو جائے، پھر قبیلوں کو تلاش کرتا پھرے اور اپنے آپ کو ان پر پیش کرے اور کہے کہ: کون مجھے بطور مزدور رکھے گا کہ میں اس کے لشکر میں کام کروں اور وہ میرا خرچ برداشت کرے؟ کون مجھے بطور مزدور رکھے گا کہ میں اس کے لشکر میں کام کروں اور وہ میرا خرچ برداشت کرے؟ خبردار وہ اپنے خون کے آخری قطرہ تک مزدور ہی رہے گا ۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد کرنے والے کو اس کے جہاد کا اجر ملے گا اور مجاہد کو تیار کرنے والے کو تیار کرنے اور غزوہ کرنے دونوں کا اجر ملے گا ۔