قرآني·Qurani
اردو

الحدود

143 احادیث · #4351–4493

حدیث 4461 — سنن أبي داود 40:111
ضعیفضعیفضعیفحسن
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الدِّرْهَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ وَإِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْهُ فَهِيَ حُرَّةٌ وَمِثْلُهَا مِنْ مَالِهِ لِسَيِّدَتِهَا ‏.‏
سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں مگر اس میں ہے کہ اگر اس نے اس کی بات بخوشی مان لی ہو، تو وہ لونڈی اور اسی جیسی ایک اور لونڈی خاوند کے مال سے اس کی مالکن کو دلائی جائے گی۔
حدیث 4462 — سنن أبي داود 40:112
حسن Sahihحسن SahihIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ وَجَدْتُمُوهُ يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مِثْلَهُ وَرَوَاهُ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ وَرَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے قوم لوط کا عمل ( اغلام بازی ) کرتے ہوئے پاؤ تو کرنے والے اور جس کے ساتھ کیا گیا ہے دونوں کو قتل کر دو ۔
حدیث 4463 — سنن أبي داود 40:113
صحیح Isnaad Mauqufصحیح Isnaad MauqufIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ خُثَيْمٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، وَمُجَاهِدًا، يُحَدِّثَانِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي الْبِكْرِ يُوجَدُ عَلَى اللُّوطِيَّةِ قَالَ يُرْجَمُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدِيثُ عَاصِمٍ يُضَعِّفُ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کنوارے کے بارے میں جو اغلام بازی میں پکڑا جائے مروی ہے کہ اسے سنگسار کر دیا جائے گا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عاصم والی روایت عمرو بن ابی عمرو والی روایت کی تضعیف کرتی ہے
حدیث 4464 — سنن أبي داود 40:114
حسن Sahihحسن SahihIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَتَى بَهِيمَةً فَاقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوهَا مَعَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ لَهُ مَا شَأْنُ الْبَهِيمَةِ قَالَ مَا أُرَاهُ إِلاَّ قَالَ ذَلِكَ أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يُؤْكَلَ لَحْمُهَا وَقَدْ عُمِلَ بِهَا ذَلِكَ الْعَمَلُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَيْسَ هَذَا بِالْقَوِيِّ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی جانور سے جماع کرے اسے قتل کر دو، اور اس کے ساتھ اس جانور کو بھی قتل کر دو ۔ عکرمہ کہتے ہیں: میں نے ابن عباس سے پوچھا: اس چوپایہ کا کیا جرم ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ نے یہ صرف اس وجہ سے فرمایا کہ ایسے جانور کے گوشت کھانے کو آپ نے برا جانا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے۔
حدیث 4465 — سنن أبي داود 40:115
حسنحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، أَنَّ شَرِيكًا، وَأَبَا الأَحْوَصِ، وَأَبَا، بَكْرِ بْنَ عَيَّاشٍ حَدَّثُوهُمْ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَيْسَ عَلَى الَّذِي يَأْتِي الْبَهِيمَةَ حَدٌّ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَذَا قَالَ عَطَاءٌ وَقَالَ الْحَكَمُ أَرَى أَنْ يُجْلَدَ وَلاَ يَبْلُغَ بِهِ الْحَدَّ ‏.‏ وَقَالَ الْحَسَنُ هُوَ بِمَنْزِلَةِ الزَّانِي ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدِيثُ عَاصِمٍ يُضَعِّفُ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جو چوپائے سے جماع کرے اس پر حد نہیں ہے، ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عطاء نے کہا ہے۔ اور حکم کہتے ہیں: میری رائے یہ ہے کہ اسے کوڑے مارے جائیں، لیکن اتنے کوڑے جو حد سے کم ہوں۔ اور حسن کہتے ہیں: وہ زانی ہی کے درجہ میں ہے یعنی اس کی وہی سزا ہو گی جو زانی کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عاصم کی حدیث عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کی تضعیف کر رہی ہے ۱؎۔
حدیث 4466 — سنن أبي داود 40:116
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَجُلاً أَتَاهُ فَأَقَرَّ عِنْدَهُ أَنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ سَمَّاهَا لَهُ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمَرْأَةِ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَأَنْكَرَتْ أَنْ تَكُونَ زَنَتْ فَجَلَدَهُ الْحَدَّ وَتَرَكَهَا ‏.‏
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر یہ اعتراف کیا کہ اس نے ایک عورت سے جس کا اس نے نام لیا زنا کیا ہے، تو آپ نے اس عورت کو بلوایا، اور اس سے اس بارے میں پوچھا، اس نے انکار کیا، تو آپ نے حد میں صرف مرد کو کوڑے مارے، اور عورت کو چھوڑ دیا۔
حدیث 4467 — سنن أبي داود 40:117
MunkarMunkarضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ الْبُرْدِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ فَيَّاضٍ الأَبْنَاوِيِّ، عَنْ خَلاَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ بَكْرِ بْنِ لَيْثٍ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَقَرَّ أَنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَجَلَدَهُ مِائَةً وَكَانَ بِكْرًا ثُمَّ سَأَلَهُ الْبَيِّنَةَ عَلَى الْمَرْأَةِ فَقَالَتْ كَذَبَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَجَلَدَهُ حَدَّ الْفِرْيَةِ ثَمَانِينَ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ بکر بن لیث کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر چار بار اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت سے زنا کیا ہے تو آپ نے اسے سو کوڑے لگائے، وہ کنوارا تھا، پھر اس سے عورت کے خلاف گواہی طلب کی تو عورت نے کہا: قسم اللہ کی وہ جھوٹا ہے، اللہ کے رسول! تو اس پر آپ نے بہتان کے بھی اسی ( ۸۰ ) کوڑے لگائے۔
حدیث 4468 — سنن أبي داود 40:118
حسن Sahihحسن Sahihصحیح Bukhari (526) Sahih Muslim (2763)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالأَسْوَدِ، قَالاَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي عَالَجْتُ امْرَأَةً مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ فَأَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ أَنْ أَمَسَّهَا فَأَنَا هَذَا فَأَقِمْ عَلَىَّ مَا شِئْتَ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ قَدْ سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْكَ لَوْ سَتَرْتَ عَلَى نَفْسِكَ ‏.‏ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ فَأَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً فَدَعَاهُ فَتَلاَ عَلَيْهِ ‏{‏ وَأَقِمِ الصَّلاَةَ طَرَفَىِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ ‏}‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَهُ خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ كَافَّةً فَقَالَ ‏"‏ بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: مدینہ کے آخری کنارے کی ایک عورت سے میں لطف اندوز ہوا، لیکن جماع نہیں کیا، تو اب میں حاضر ہوں میرے اوپر جو چاہیئے حد قائم کیجئے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ نے تیری پردہ پوشی کی تھی تو تو خود بھی پردہ پوشی کرتا تو بہتر ہوتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، تو وہ شخص چلا گیا، پھر اس کے پیچھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بھیجا، وہ اسے بلا کر لایا تو آپ نے اس پر یہ آیت تلاوت فرمائی «وأقم الصلاة طرفى النهار وزلفا من الليل» دن کے دونوں سروں میں نماز قائم کرو اور رات کی کچھ ساعتوں میں بھی ۔ ( ھود: ۱۱۴ ) ۱؎ تو ان میں سے ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا یہ اسی کے لیے خاص ہے، یا سارے لوگوں کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سارے لوگوں کے لیے ہے ۔
حدیث 4469 — سنن أبي داود 40:119
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (2153، 2154) Sahih Muslim (1703)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنِ الأَمَةِ إِذَا زَنَتْ وَلَمْ تُحْصَنْ قَالَ ‏ "‏ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَبِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ لاَ أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ وَالضَّفِيرُ الْحَبْلُ ‏.‏
ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ لونڈی جب زنا کرے اور وہ شادی شدہ نہ ہو ( تو اس کا کیا حکم ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے پھر کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے پھر کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے بیچ دو، گو ایک رسی ہی کے عوض میں ہو ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: مجھے اچھی طرح معلوم نہیں کہ یہ آپ نے تیسری بار میں فرمایا: یا چوتھی بار میں اور «ضفیر» کے معنی رسی کے ہیں۔
حدیث 4470 — سنن أبي داود 40:120
صحیحصحیحصحیح Muslim (1703)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيَحُدَّهَا وَلاَ يُعَيِّرْهَا ثَلاَثَ مِرَارٍ فَإِنْ عَادَتْ فِي الرَّابِعَةِ فَلْيَجْلِدْهَا وَلْيَبِعْهَا بِضَفِيرٍ أَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعْرٍ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے تو اس پر حد قائم کرنا چاہیئے، یہ نہیں کہ اسے ڈانٹ ڈپٹ کر چھوڑ دے، ایسا وہ تین بار کرے، پھر اگر وہ چوتھی بار بھی زنا کرے تو چاہیئے کہ ایک رسی کے عوض یا بال کی رسی کے عوض اسے بیچ دے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔