قرآني·Qurani
اردو

الحدود

143 احادیث · #4351–4493

حدیث 4481 — سنن أبي داود 40:131
صحیحصحیحصحیح Muslim (1707)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنِ الدَّانَاجِ، عَنْ حُضَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ، عَنْ عَلِيٍّ، رضى الله عنه قَالَ جَلَدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْخَمْرِ وَأَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ وَكَمَّلَهَا عُمَرُ ثَمَانِينَ وَكُلٌّ سُنَّةٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ الأَصْمَعِيُّ وَلِّ حَارَّهَا مَنْ تَوَلَّى قَارَّهَا وَلِّ شَدِيدَهَا مَنْ تَوَلَّى هَيِّنَهَا ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا كَانَ سَيِّدَ قَوْمِهِ حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ أَبُو سَاسَانَ ‏.‏
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شراب میں چالیس کوڑے ہی مارے، اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے پورے کئے، اور یہ سب سنت ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اصمعی کہتے ہیں: «من تولى قارها ول شديدها من تولى هينها» کے معنی یہ ہیں جو خلافت کی آسانیوں کا ذمہ دار رہا ہے اسی کو اس کی دشواریوں کا ذمہ دار رہنا چاہیئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اپنی قوم کے سردار تھے یعنی حضین بن منذر ابوساسان۔
حدیث 4482 — سنن أبي داود 40:132
حسن Sahihحسن SahihIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ذَكْوَانَ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا شَرِبُوا الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُمْ ثُمَّ إِنْ شَرِبُوا فَاجْلِدُوهُمْ ثُمَّ إِنْ شَرِبُوا فَاجْلِدُوهُمْ ثُمَّ إِنْ شَرِبُوا فَاقْتُلُوهُمْ ‏"‏ ‏.‏
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ شراب پئیں تو انہیں کوڑے لگاؤ، پھر پئیں تو پھر کوڑے لگاؤ، پھر پئیں تو پھر کوڑے لگاؤ، پھر پئیں تو انہیں قتل کر دو ۔
حدیث 4483 — سنن أبي داود 40:133
ضعیف Isnaadضعیف Isnaadضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ بِهَذَا الْمَعْنَى قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ فِي الْخَامِسَةِ ‏ "‏ إِنْ شَرِبَهَا فَاقْتُلُوهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَا فِي حَدِيثِ أَبِي غُطَيْفٍ فِي الْخَامِسَةِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی فرمایا ہے، اس میں یہ ہے کہ میرا خیال ہے کہ پانچویں بار میں فرمایا: پھر اگر وہ پئے تو اسے قتل کر دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ابوغطیف کی روایت میں پانچویں بار کا ذکر ہے۔
حدیث 4484 — سنن أبي داود 40:134
حسن Sahihحسن SahihIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ ثُمَّ إِنْ سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ ثُمَّ إِنْ سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ فَاقْتُلُوهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَا حَدِيثُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ فَاقْتُلُوهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَا حَدِيثُ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنْ شَرِبُوا الرَّابِعَةَ فَاقْتُلُوهُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَكَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكَذَا حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالشَّرِيدِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَفِي حَدِيثِ الْجَدَلِيِّ عَنْ مُعَاوِيَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ فَإِنْ عَادَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شرابی جب نشہ سے مست ہو جائے تو اسے کوڑے مارو، پھر اگر نشہ سے مست ہو جائے تو اسے پھر کوڑے مارو، پھر اگر نشہ سے مست ہو جائے تو اسے پھر کوڑے مارو، اور اگر چوتھی بار پھر ایسا ہی کرے تو اسے قتل کر دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عمر بن ابی سلمہ کی روایت ہے جسے وہ اپنے والد سے اور ابوسلمہ ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ کوئی شراب پئے تو اسے کوڑے لگاؤ، اور اگر چوتھی بار پھر ویسے ہی کرے تو اسے قتل کر دو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح سہیل کی حدیث ہے جسے وہ ابوصالح سے اور ابوصالح ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ اگر وہ چوتھی دفعہ پئے تو اسے قتل کر دو ۔ اور اسی طرح ابن ابی نعم کی روایت بھی ہے جسے وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور ابن عمر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ اور اسی طرح عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اور شرید رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت بھی ہے، اور جدلی کی روایت میں ہے جسے وہ معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ تیسری یا چوتھی بار پھر کرے تو اسے قتل کر دو ۔
حدیث 4485 — سنن أبي داود 40:135
ضعیفضعیفصحیحصحیح
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنَا عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ ‏"‏ ‏.‏ فَأُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ فَجَلَدَهُ ثُمَّ أُتِيَ بِهِ فَجَلَدَهُ ثُمَّ أُتِيَ بِهِ فَجَلَدَهُ ثُمَّ أُتِيَ بِهِ فَجَلَدَهُ وَرَفَعَ الْقَتْلَ فَكَانَتْ رُخْصَةً ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ حَدَّثَ الزُّهْرِيُّ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَعِنْدَهُ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ وَمُخَوَّلُ بْنُ رَاشِدٍ فَقَالَ لَهُمَا كُونَا وَافِدَىْ أَهْلِ الْعِرَاقِ بِهَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الشَّرِيدُ بْنُ سُوَيْدٍ وَشُرَحْبِيلُ بْنُ أَوْسٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَبُو غُطَيْفٍ الْكِنْدِيُّ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏
قبیصہ بن ذؤیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شراب پئے تو اسے کوڑے لگاؤ، اگر پھر پئے تو پھر کوڑے لگاؤ، اگر پھر پئے تو پھر کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ تیسری یا چوتھی دفعہ پئے تو اسے قتل کر دو تو ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی، تو آپ نے اسے کوڑے لگائے، پھر اسے لایا گیا، آپ نے پھر اسے کوڑے لگائے، پھر اسے لایا گیا، تو آپ نے اسے کوڑے لگائے، پھر لایا گیا تو پھر آپ نے کوڑے ہی لگائے، اور قتل کا حکم اٹھا دیا اور رخصت ہو گئی۔ سفیان کہتے ہیں: زہری نے اس حدیث کو بیان کیا اور ان کے پاس منصور بن معتمر اور مخول بن راشد موجود تھے تو انہوں نے ان دونوں سے کہا: تم دونوں اہل عراق کے لیے یہ حدیث یہاں سے تحفے میں لیتے جانا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو شرید بن سوید، شرحبیل بن اوس، عبداللہ بن عمرو، عبداللہ بن عمر، ابوغطیف کندی اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے ابوہریرہ سے روایت کیا ہے۔
حدیث 4486 — سنن أبي داود 40:136
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيٍّ، رضى الله عنه قَالَ لاَ أَدِي - أَوْ مَا كُنْتُ لأَدِيَ - مَنْ أَقَمْتُ عَلَيْهِ حَدًّا إِلاَّ شَارِبَ الْخَمْرِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَسُنَّ فِيهِ شَيْئًا إِنَّمَا هُوَ شَىْءٌ قُلْنَاهُ نَحْنُ ‏.‏
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں جس پر حد قائم کروں اور وہ مر جائے تو میں اس کی دیت نہیں دوں گا، یا میں اس کی دیت دینے والا نہیں سوائے شراب پینے والے کے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے والے کی کوئی حد مقرر نہیں کی ہے، یہ تو ایک ایسی چیز ہے جسے ہم نے خود مقرر کی ہے۔
حدیث 4487 — سنن أبي داود 40:137
حسن Sahihحسن SahihIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ الْمِصْرِيُّ ابْنُ أَخِي، رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ، قَالَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الآنَ وَهُوَ فِي الرِّحَالِ يَلْتَمِسُ رَحْلَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَقَالَ لِلنَّاسِ ‏ "‏ اضْرِبُوهُ ‏"‏ ‏.‏ فَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِالنِّعَالِ وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِالْعَصَا وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِالْمِيتَخَةِ - قَالَ ابْنُ وَهْبٍ الْجَرِيدَةُ الرَّطْبَةُ - ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تُرَابًا مِنَ الأَرْضِ فَرَمَى بِهِ فِي وَجْهِهِ ‏.‏
عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ گویا میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں آپ کجاؤں کے درمیان میں کھڑے تھے، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا کجاوہ ڈھونڈ رہے تھے، آپ اسی حالت میں تھے کہ اتنے میں ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا: اسے مارو ، تو کسی نے جوتے سے، کسی نے چھڑی سے، اور کسی نے کھجور کی ٹہنی سے اسے مارا ( ابن وہب کہتے ہیں ) «ميتخة» کے معنی کھجور کی تر ٹہنی کے ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین سے مٹی لی اور اس کے چہرے پر ڈال دی۔
حدیث 4488 — سنن أبي داود 40:138
صحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، قَالَ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ خَالِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ عُقَيْلٍ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَزْهَرِ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِشَارِبٍ وَهُوَ بِحُنَيْنٍ فَحَثَى فِي وَجْهِهِ التُّرَابَ ثُمَّ أَمَرَ أَصْحَابَهُ فَضَرَبُوهُ بِنِعَالِهِمْ وَمَا كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ حَتَّى قَالَ لَهُمُ ‏ "‏ ارْفَعُوا ‏"‏ ‏.‏ فَرَفَعُوا فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ جَلَدَ أَبُو بَكْرٍ فِي الْخَمْرِ أَرْبَعِينَ ثُمَّ جَلَدَ عُمَرُ أَرْبَعِينَ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ ثُمَّ جَلَدَ ثَمَانِينَ فِي آخِرِ خِلاَفَتِهِ ثُمَّ جَلَدَ عُثْمَانُ الْحَدَّيْنِ كِلَيْهِمَا ثَمَانِينَ وَأَرْبَعِينَ ثُمَّ أَثْبَتَ مُعَاوِيَةُ الْحَدَّ ثَمَانِينَ ‏.‏
عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شرابی لایا گیا، اور آپ حنین میں تھے، آپ نے اس کے منہ پر خاک ڈال دی، پھر اپنے اصحاب کو حکم دیا تو انہوں نے اسے اپنے جوتوں سے، اور جو چیزیں ان کے ہاتھوں میں تھیں ان سے مارا، یہاں تک کہ آپ فرمانے لگے: بس کرو، بس کرو تب لوگوں نے اسے چھوڑا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو آپ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی شراب کی حد میں چالیس کوڑے مارتے رہے، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی خلافت کے شروع میں چالیس کوڑے ہی مارے، پھر خلافت کے اخیر میں انہوں نے اسی کوڑے مارے، پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے کبھی اسی کوڑے اور کبھی چالیس کوڑے مارے، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑوں کی تعیین کر دی۔
حدیث 4489 — سنن أبي داود 40:139
حسنحسنحسنحسن
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَدَاةَ الْفَتْحِ وَأَنَا غُلاَمٌ شَابٌّ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ يَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَأُتِيَ بِشَارِبٍ فَأَمَرَهُمْ فَضَرَبُوهُ بِمَا فِي أَيْدِيهِمْ فَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِالسَّوْطِ وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِعَصًا وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِنَعْلِهِ وَحَثَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم التُّرَابَ فَلَمَّا كَانَ أَبُو بَكْرٍ أُتِيَ بِشَارِبٍ فَسَأَلَهُمْ عَنْ ضَرْبِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الَّذِي ضَرَبَهُ فَحَزَرُوهُ أَرْبَعِينَ فَضَرَبَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ كَتَبَ إِلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ إِنَّ النَّاسَ قَدِ انْهَمَكُوا فِي الشُّرْبِ وَتَحَاقَرُوا الْحَدَّ وَالْعُقُوبَةَ ‏.‏ قَالَ هُمْ عِنْدَكَ فَسَلْهُمْ ‏.‏ وَعِنْدَهُ الْمُهَاجِرُونَ الأَوَّلُونَ فَسَأَلَهُمْ فَأَجْمَعُوا عَلَى أَنْ يَضْرِبَ ثَمَانِينَ ‏.‏ قَالَ وَقَالَ عَلِيٌّ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا شَرِبَ افْتَرَى فَأَرَى أَنْ يَجْعَلَهُ كَحَدِّ الْفِرْيَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَدْخَلَ عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ بَيْنَ الزُّهْرِيِّ وَبَيْنَ ابْنِ الأَزْهَرِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَزْهَرِ عَنْ أَبِيهِ ‏.‏
عبدالرحمٰن بن ازہر کہتے ہیں کہ میں نے فتح مکہ کے دوسرے دن صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا میں ایک کمسن لڑکا تھا، لوگوں میں گھس کر آیا جایا کرتا تھا، آپ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیام گاہ ڈھونڈ رہے تھے کہ اتنے میں ایک شرابی لایا گیا، آپ نے اسے مارنے کا حکم دیا، تو لوگوں کے ہاتھوں میں جو چیز بھی تھی اسی سے انہوں نے اس کی پٹائی کی، کسی نے اسے کوڑے سے، کسی نے لاٹھی سے، کسی نے جوتے سے پیٹا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے منہ پر مٹی ڈال دی، پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو ان کے پاس ایک شرابی لایا گیا تو انہوں نے لوگوں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مار کے متعلق دریافت کیا جسے آپ نے مارا تھا تو لوگوں نے اس کا اندازہ لگایا کہ یہ چالیس کوڑے رہے ہوں گے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی حد چالیس کوڑے مقرر کر دی، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو خالد بن ولید نے انہیں لکھا کہ لوگ کثرت سے شراب پینے لگے ہیں اور اس کی حد اور سزا کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور لکھا کہ لوگ آپ کے پاس ہیں ان سے پوچھ لیں، اس وقت ان کے پاس مہاجرین اولین موجود تھے، آپ نے ان سے پوچھا تو سب کا اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ اسی کوڑے مارے جائیں، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: آدمی جب شراب پیتا ہے تو بہتان باندھتا ہے اس لیے میری رائے یہ ہے کہ اس کی حد بہتان کی حد کر دی جائے۔
حدیث 4490 — سنن أبي داود 40:140
حسنحسنحسن Lighairihiضعیف
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، - يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ - حَدَّثَنَا الشُّعَيْثِيُّ، عَنْ زُفَرَ بْنِ وَثِيمَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُسْتَقَادَ فِي الْمَسْجِدِ وَأَنْ تُنْشَدَ فِيهِ الأَشْعَارُ وَأَنْ تُقَامَ فِيهِ الْحُدُودُ ‏.‏
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قصاص لینے، اشعار پڑھنے اور حد قائم کرنے سے منع فرمایا ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔