حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ أَبِي عُذْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ دُخُولِ الْحَمَّامَاتِ ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ أَنْ يَدْخُلُوهَا فِي الْمَيَازِرِ .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمامات ( غسل خانوں ) میں داخل ہونے سے منع فرمایا، پھر آپ نے مردوں کو تہبند باندھ کر جانے کی رخصت دی۔
ابوالملیح کہتے ہیں اہل شام کی کچھ عورتیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں تو انہوں نے ان سے پوچھا: تم کہاں کی ہو؟ ان سب نے کہا: ہم اہل شام سے تعلق رکھتی ہیں، یہ سن کر وہ بولیں: شاید تم اس علاقہ کی ہو جہاں کی عورتیں بھی غسل خانوں میں داخل ہوتی ہیں، ان سب نے کہا: ہاں، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو بھی عورت اپنے کپڑے اپنے گھر کے علاوہ کہیں اور اتارتی ہے تو وہ اپنے پردے کو جو اس کے اور اللہ کے درمیان ہے پھاڑ دیتی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ جریر کی روایت ہے جو زیادہ کامل ہے اور جریر نے ابوالملیح کا ذکر نہیں کیا ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب عجم کی سر زمین تمہارے لیے فتح کر دی جائے گی اور اس میں تمہیں ایسے گھر ملیں گے جنہیں حمام کہا جائے گا تو اس میں مرد بغیر تہ بند کے داخل نہ ہوں اور عورتوں کو ان میں جانے سے روکو سوائے بیمار یا زچہ کے ۔
حدیث 4012 — سنن أبي داود 33:4
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ الْعَرْزَمِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ يَعْلَى، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يَغْتَسِلُ بِالْبَرَازِ بِلاَ إِزَارٍ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَيِيٌّ سِتِّيرٌ يُحِبُّ الْحَيَاءَ وَالسَّتْرَ فَإِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَتِرْ " .
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بغیر تہ بند کے ( میدان میں ) نہاتے دیکھا تو آپ منبر پر چڑھے اور اللہ کی حمد و ثنا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ حیاء دار ہے پردہ پوشی کرنے والا ہے اور حیاء اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے لہٰذا جب تم میں سے کوئی نہائے تو ستر کو چھپا لے ۔
زرعہ بن عبدالرحمٰن بن جرہد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں جرہد اصحاب صفہ میں سے تھے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس بیٹھے اور میری ران کھلی ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ ران ستر ہے ( اس کو چھپانا چاہیئے ) ۔
حدیث 4015 — سنن أبي داود 33:7
Very DaifVery Daifضعیف
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أُخْبِرْتُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَكْشِفْ فَخِذَكَ وَلاَ تَنْظُرْ إِلَى فَخِذِ حَىٍّ وَلاَ مَيِّتٍ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا الْحَدِيثُ فِيهِ نَكَارَةٌ .
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی ران نہ کھولو اور کسی زندہ یا مردہ کی ران کو نہ دیکھو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں نکارت ہے۔
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک بھاری پتھر اٹھائے ہوئے چل رہا تھا کہ اسی دوران میرا کپڑا ( تہبند میرے جسم سے کھل کر ) گر پڑا تو مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا کپڑا اٹھا کر باندھ لو اور ننگے نہ چلو ۔
معاویہ بن حکیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنا ستر کس سے چھپائیں اور کس سے نہ چھپائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ستر سب سے چھپاؤ سوائے اپنی بیوی اور اپنی لونڈیوں کے وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب لوگ ملے جلے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم سے ہو سکے کہ تمہارا ستر کوئی نہ دیکھے تو اسے کوئی نہ دیکھے وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی تنہا خالی جگہ میں ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کے بہ نسبت اللہ زیادہ حقدار ہے کہ اس سے شرم کی جائے ۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی مرد کسی مرد کے ستر کو نہ دیکھے اور کوئی عورت کسی عورت کے ستر کو نہ دیکھے اور نہ کوئی مرد کسی مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے اور نہ کوئی عورت کسی عورت کے کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے ۔