قرآني·Qurani
اردو

الخراج والفيء والإمارة

161 احادیث · #2928–3088

حدیث 3008 — سنن أبي داود 20:81
حسن Isnaadحسن Isnaadصحیح Muslim (1551)
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ لَمَّا افْتُتِحَتْ خَيْبَرُ سَأَلَتْ يَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُقِرَّهُمْ عَلَى أَنْ يَعْمَلُوا عَلَى النِّصْفِ مِمَّا خَرَجَ مِنْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أُقِرُّكُمْ فِيهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا ‏"‏ ‏.‏ فَكَانُوا عَلَى ذَلِكَ وَكَانَ التَّمْرُ يُقْسَمُ عَلَى السُّهْمَانِ مِنْ نِصْفِ خَيْبَرَ وَيَأْخُذُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْخُمُسَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَطْعَمَ كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْ أَزْوَاجِهِ مِنَ الْخُمُسِ مِائَةَ وَسْقٍ تَمْرًا وَعِشْرِينَ وَسْقًا شَعِيرًا فَلَمَّا أَرَادَ عُمَرُ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ أَرْسَلَ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُنَّ مَنْ أَحَبَّ مِنْكُنَّ أَنْ أَقْسِمَ لَهَا نَخْلاً بِخَرْصِهَا مِائَةَ وَسْقٍ فَيَكُونَ لَهَا أَصْلُهَا وَأَرْضُهَا وَمَاؤُهَا وَمِنَ الزَّرْعِ مَزْرَعَةُ خَرْصٍ عِشْرِينَ وَسْقًا فَعَلْنَا وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ نَعْزِلَ الَّذِي لَهَا فِي الْخُمُسِ كَمَا هُوَ فَعَلْنَا ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہوا تو یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ: آپ ہمیں اس شرط پر یہیں رہنے دیں کہ ہم محنت کریں گے اور جو پیداوار ہو گی اس کا نصف ہم لیں گے اور نصف آپ کو دیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا ہم تمہیں اس شرط پر رکھ رہے ہیں کہ جب تک چاہیں گے رکھیں گے،، چنانچہ وہ اسی شرط پر رہے، خیبر کی کھجور کے نصف کے کئی حصے کئے جاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے پانچواں حصہ لیتے، اور اپنی ہر بیوی کو سو وسق کھجور اور بیس وسق جو ( سال بھر میں ) دیتے، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ نے یہود کو نکال دینے کا ارادہ کر لیا تو امہات المؤمنین کو کہلا بھیجا کہ آپ میں سے جس کا جی چاہے کہ میں اس کو اتنے درخت دے دوں جن میں سے سو وسق کھجور نکلیں مع جڑ کھجور اور پانی کے اور اسی طرح کھیتی میں سے اس قدر زمین دے دوں جس میں بیس وسق جو پیدا ہو، تو میں دے دوں اور جو پسند کرے کہ میں خمس میں سے اس کا حصہ نکالا کروں جیسا کہ ہے تو میں ویسا ہی نکالا کروں گا۔
حدیث 3009 — سنن أبي داود 20:82
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (371) Sahih Muslim (1365 After 1427)
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَهُمْ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزَا خَيْبَرَ فَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً فَجَمَعَ السَّبْىَ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر سے جہاد کیا، ہم نے اسے لڑ کر حاصل کیا، پھر قیدی اکٹھا کئے گئے ( تاکہ انہیں مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے ) ۔
حدیث 3010 — سنن أبي داود 20:83
حسن Sahihحسن Sahihحسن
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ نِصْفَيْنِ نِصْفًا لِنَوَائِبِهِ وَحَاجَتِهِ وَنِصْفًا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ قَسَمَهَا بَيْنَهُمْ عَلَى ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا ‏.‏
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو دو برابر حصوں میں تقسیم کیا: ایک حصہ تو اپنی حوائج و ضروریات کے لیے رکھا اور ایک حصہ کے اٹھارہ حصے کر کے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا۔
حدیث 3011 — سنن أبي داود 20:84
صحیح Isnaadصحیح IsnaadIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الأَسْوَدِ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ آدَمَ، حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي شِهَابٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ نَفَرًا، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالُوا فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ فَكَانَ النِّصْفُ سِهَامَ الْمُسْلِمِينَ وَسَهْمَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَزَلَ النِّصْفَ لِلْمُسْلِمِينَ لِمَا يَنُوبُهُ مِنَ الأُمُورِ وَالنَّوَائِبِ ‏.‏
بشیر بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں سے سنا، انہوں نے کہا، پھر راوی نے یہی حدیث ذکر کی اور کہا کہ نصف میں سب مسلمانوں کے حصے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی حصہ تھا اور باقی نصف مسلمانوں کی ضروریات اور مصائب و مشکلات کے لیے رکھا جاتا تھا جو انہیں پیش آتے۔
حدیث 3012 — سنن أبي داود 20:85
صحیح Isnaadصحیح IsnaadIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، مَوْلَى الأَنْصَارِ عَنْ رِجَالٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ قَسَمَهَا عَلَى سِتَّةٍ وَثَلاَثِينَ سَهْمًا جَمَعَ كُلُّ سَهْمٍ مِائَةَ سَهْمٍ فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلِلْمُسْلِمِينَ النِّصْفُ مِنْ ذَلِكَ وَعَزَلَ النِّصْفَ الْبَاقِيَ لِمَنْ نَزَلَ بِهِ مِنَ الْوُفُودِ وَالأُمُورِ وَنَوَائِبِ النَّاسِ ‏.‏
بشیر بن یسار جو انصار کے غلام تھے بعض اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خیبر پر غالب آئے تو آپ نے اسے چھتیس حصوں میں تقسیم فرمایا، ہر ایک حصے میں سو حصے تھے تو اس میں سے نصف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے لیے ہوا اور باقی نصف آنے والے وفود اور دیگر کاموں اور اچانک مسلمانوں کو پیش آنے والے حادثات و مصیبتوں میں خرچ کرنے کے لیے الگ کر کے رکھ دیا۔
حدیث 3013 — سنن أبي داود 20:86
صحیحصحیح Lighairihiحسن
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، - يَعْنِي سُلَيْمَانَ - عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ لَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ قَسَمَهَا عَلَى سِتَّةٍ وَثَلاَثِينَ سَهْمًا جَمَعَ كُلُّ سَهْمٍ مِائَةَ سَهْمٍ فَعَزَلَ نِصْفَهَا لِنَوَائِبِهِ وَمَا يَنْزِلُ بِهِ الْوَطِيحَةَ وَالْكُتَيْبَةَ وَمَا أُحِيزَ مَعَهُمَا وَعَزَلَ النِّصْفَ الآخَرَ فَقَسَمَهُ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ الشَّقَّ وَالنَّطَاةَ وَمَا أُحِيزَ مَعَهُمَا وَكَانَ سَهْمُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيمَا أُحِيزَ مَعَهُمَا ‏.‏
بشیر بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے خیبر اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور غنیمت عطا فرمایا تو آپ نے اس کے ( ۳۶ چھتیس ) حصے کئے اور ہر حصے میں سو حصے رکھے، تو اس کے نصف حصے اپنی ضرورتوں و کاموں کے لیے رکھا اور اسی میں سے وطیحہ وکتیبہ ۱؎ اور ان سے متعلق جائیداد بھی ہے اور دوسرے نصف حصے کو جس میں شق و نطاۃ ۲؎ ہیں اور ان سے متعلق جائیداد بھی شامل تھی الگ کر کے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ ان دونوں گاؤں کے متعلقات میں تھا۔
حدیث 3014 — سنن أبي داود 20:87
صحیحصحیح Lighairihiحسن
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ قَسَمَهَا سِتَّةً وَثَلاَثِينَ سَهْمًا جَمْعًا فَعَزَلَ لِلْمُسْلِمِينَ الشَّطْرَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا يَجْمَعُ كُلُّ سَهْمٍ مِائَةً النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَعَهُمْ لَهُ سَهْمٌ كَسَهْمِ أَحَدِهِمْ وَعَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا وَهُوَ الشَّطْرُ لِنَوَائِبِهِ وَمَا يَنْ��ِلُ بِهِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَكَانَ ذَلِكَ الْوَطِيحَ وَالْكُتَيْبَةَ وَالسُّلاَلِمَ وَتَوَابِعَهَا فَلَمَّا صَارَتِ الأَمْوَالُ بِيَدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالْمُسْلِمِينَ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ عُمَّالٌ يَكْفُونَهُمْ عَمَلَهَا فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْيَهُودَ فَعَامَلَهُمْ ‏.‏
بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اللہ نے خیبر کا مال عطا کیا تو آپ نے اس کے کل چھتیس حصے کئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدھے یعنی اٹھارہ حصے مسلمانوں کے لیے الگ کر دئیے، ہر حصے میں سو حصے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں کے ساتھ تھے آپ کا بھی ویسے ہی ایک حصہ تھا جیسے ان میں سے کسی دوسرے شخص کا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھارہ حصے ( یعنی نصف آخر ) اپنی ضروریات اور مسلمانوں کے امور کے لیے الگ کر دیے، اسی نصف میں وطیح، کتیبہ اور سلالم ( دیہات کے نام ہیں ) اور ان کے متعلقات تھے، جب یہ سب اموال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں آئے تو مسلمانوں کے پاس ان کی دیکھ بھال اور ان میں کام کرنے والے نہیں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو بلا کر ان سے ( بٹائی پر ) معاملہ کر لیا۔
حدیث 3015 — سنن أبي داود 20:88
حسنحسنحسن
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَمِّعِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَعْقُوبَ بْنَ مُجَمِّعٍ، يَذْكُرُ لِي عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ الأَنْصَارِيِّ - وَكَانَ أَحَدَ الْقُرَّاءِ الَّذِينَ قَرَءُوا الْقُرْآنَ - قَالَ قُسِمَتْ خَيْبَرُ عَلَى أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا وَكَانَ الْجَيْشُ أَلْفًا وَخَمْسَمِائَةٍ فِيهِمْ ثَلاَثُمِائَةِ فَارِسٍ فَأَعْطَى الْفَارِسَ سَهْمَيْنِ وَأَعْطَى الرَّاجِلَ سَهْمًا ‏.‏
مجمع بن جاریہ انصاری (جو قرآن کے قاریوں میں سے ایک تھے) کہتے ہیں کہ خیبر ان لوگوں پر تقسیم کیا گیا جو صلح حدیبیہ میں شریک تھے ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو اٹھارہ حصوں میں تقسیم کیا، لشکر کی تعداد ایک ہزار پانچ سو تھی، ان میں تین سو سوار تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواروں کو دو دو حصے دئیے اور پیادوں کو ایک ایک حصہ دیا۔
حدیث 3016 — سنن أبي داود 20:89
ضعیف Isnaadضعیف Isnaadضعیفضعیف
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ آدَمَ - حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَبَعْضِ، وَلَدِ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ قَالُوا بَقِيَتْ بَقِيَّةٌ مِنْ أَهْلِ خَيْبَرَ تَحَصَّنُوا فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَحْقِنَ دِمَاءَهُمْ وَيُسَيِّرَهُمْ فَفَعَلَ فَسَمِعَ بِذَلِكَ أَهْلُ فَدَكَ فَنَزَلُوا عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَاصَّةً لأَنَّهُ لَمْ يُوجِفْ عَلَيْهَا بِخَيْلٍ وَلاَ رِكَابٍ ‏.‏
ابن شہاب زہری، عبداللہ بن ابوبکر اور محمد بن مسلمہ کے بعض لڑکوں سے روایت ہے یہ لوگ کہتے ہیں ( جب خیبر فتح ہو گیا ) خیبر کے کچھ لوگ رہ گئے وہ قلعہ بند ہو گئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کا خون نہ بہایا جائے اور انہیں یہاں سے نکل کر چلے جانے دیا جائے، آپ نے ان کی درخواست قبول کر لی ) یہ خبر فدک والوں نے بھی سنی، تو وہاں کے لوگ بھی اس جیسی شرط پر اترے تو فدک ( اللہ کی جانب سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ( عطیہ ) قرار پایا، اس لیے کہ اس پر اونٹ اور گھوڑے نہیں دوڑائے گئے ۱؎۔
حدیث 3017 — سنن أبي داود 20:90
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم افْتَتَحَ بَعْضَ خَيْبَرَ عَنْوَةً ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا شَاهِدٌ أَخْبَرَكُمُ ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ خَيْبَرَ كَانَ بَعْضُهَا عَنْوَةً وَبَعْضُهَا صُلْحًا وَالْكُتَيْبَةُ أَكْثَرُهَا عَنْوَةً وَفِيهَا صُلْحٌ ‏.‏ قُلْتُ لِمَالِكٍ وَمَا الْكُتَيْبَةُ قَالَ أَرْضُ خَيْبَرَ وَهِيَ أَرْبَعُونَ أَلْفَ عَذْقٍ ‏.‏
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ سعید بن مسیب نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کا کچھ حصہ طاقت سے فتح کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن مسکین پر پڑھا گیا اور میں موجود تھا کہ آپ لوگوں کو ابن وہب نے خبر دی ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے مالک نے بیان کیا ہے وہ ابن شہاب زہری سے روایت کرتے ہیں کہ خیبر کا بعض حصہ زور و طاقت سے حاصل ہوا ہے، اور بعض صلح کے ذریعہ اور کتیبہ ( جو خیبر کا ایک گاؤں ہے ) کا زیادہ حصہ زور و طاقت سے فتح ہوا اور کچھ صلح کے ذریعہ ۔ ابن وہب کہتے ہیں: میں نے مالک سے پوچھا کہ کتیبہ کیا ہے؟ بولے: خیبر کی زمین کا ایک حصہ ہے، اور وہ چالیس ہزار کھجور کے درختوں پر مشتمل تھا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «عَذْق» کھجور کے درخت کو کہتے ہیں، اور «عِذْق» کھجور کے گچھے کی جڑ جو ٹیڑھی ہوتی ہے، اور گچھے کو کاٹنے پر درخت پر خشک ہو کر باقی رہ جاتی ہے اس کو کہتے ہیں۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔