قرآني·Qurani
اردو

الديات

102 احادیث · #4494–4595

حدیث 4584 — سنن أبي داود 41:91
صحیحصحیحصحیح Bukhari (6893) Sahih Muslim (1674)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَاتَلَ أَجِيرٌ لِي رَجُلاً فَعَضَّ يَدَهُ فَانْتَزَعَهَا فَنَدَرَتْ ثَنِيَّتُهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَهْدَرَهَا وَقَالَ ‏ "‏ أَتُرِيدُ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا كَالْفَحْلِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَهْدَرَهَا وَقَالَ بَعُدَتْ سِنُّهُ ‏.‏
یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے ایک مزدور نے ایک شخص سے جھگڑا کیا اور اس کے ہاتھ کو منہ میں کر کے دانت سے دبایا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کا دانت باہر نکل آیا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ نے اسے لغو کر دیا، اور فرمایا: کیا چاہتے ہو کہ وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں دیدے، اور تم اسے سانڈ کی طرح چبا ڈالو ابن ابی ملیکہ نے اپنے دادا سے نقل کیا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے لغو قرار دیا اور کہا: ( اللہ کرے ) اس کا دانت نہ رہے۔
حدیث 4585 — سنن أبي داود 41:92
صحیح Isnaadصحیح Isnaadصحیح
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، بِهَذَا زَادَ ثُمَّ قَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لِلْعَاضِّ ‏ "‏ إِنْ شِئْتَ أَنْ تُمَكِّنَهُ مِنْ يَدِكَ فَيَعَضَّهَا ثُمَّ تَنْزِعَهَا مِنْ فِيهِ ‏"‏ ‏.‏ وَأَبْطَلَ دِيَةَ أَسْنَانِهِ ‏.‏
اس سند سے بھی یعلیٰ بن امیہ سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اتنا اضافہ ہے پھر آپ نے ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) دانت کاٹنے والے سے فرمایا: اگر تم چاہو تو یہ ہو سکتا ہے کہ تم بھی اپنا ہاتھ اس کے منہ میں دے دو وہ اسے کاٹے پھر تم اسے اس کے منہ سے کھینچ لو اور اس کے دانتوں کی دیت باطل قرار دے دی۔
حدیث 4586 — سنن أبي داود 41:93
حسنحسنضعیف
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الأَنْطَاكِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَهُمْ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ تَطَبَّبَ وَلاَ يُعْلَمُ مِنْهُ طِبٌّ فَهُوَ ضَامِنٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَصْرٌ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا لَمْ يَرْوِهِ إِلاَّ الْوَلِيدُ لاَ نَدْرِي هُوَ صَحِيحٌ أَمْ لاَ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو طب نہ جانتا ہو اور علاج کرے تو وہ ( مریض کا ) ضامن ہو گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ولید کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا، ہمیں نہیں معلوم یہ صحیح ہے یا نہیں۔
حدیث 4587 — سنن أبي داود 41:94
حسنحسنضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي بَعْضُ الْوَفْدِ الَّذِينَ، قَدِمُوا عَلَى أَبِي قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَيُّمَا طَبِيبٍ تَطَبَّبَ عَلَى قَوْمٍ لاَ يُعْرَفُ لَهُ تَطَبُّبٌ قَبْلَ ذَلِكَ فَأَعْنَتَ فَهُوَ ضَامِنٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ بِالنَّعْتِ إِنَّمَا هُوَ قَطْعُ الْعُرُوقِ وَالْبَطُّ وَالْكَىُّ ‏.‏
عبدالعزیزبن عمر بن عبدالعزیز کہتے ہیں میرے والد کے پاس آنے والوں میں سے ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی قوم میں طبیب بن بیٹھے، حالانکہ اس سے پہلے اس کی طب دانی معروف نہ ہو اور مریض کا مرض بگڑ جائے اور اس کو نقصان لاحق ہو جائے تو وہ اس کا ضامن ہو گا ۔ عبدالعزیز کہتے ہیں: «اعنت نعت» سے نہیں ( بلکہ «عنت» سے ہے جس کے معنی ) رگ کاٹنے، زخم چیرنے یا داغنے کے ہیں۔
حدیث 4588 — سنن أبي داود 41:95
حسنصحیحصحیح
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ مُسَدَّدٌ - خَطَبَ يَوْمَ الْفَتْحِ - ثُمَّ اتَّفَقَا - فَقَالَ ‏"‏ أَلاَ إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ دَمٍ أَوْ مَالٍ تُذْكَرُ وَتُدْعَى تَحْتَ قَدَمَىَّ إِلاَّ مَا كَانَ مِنْ سِقَايَةِ الْحَاجِّ وَسِدَانَةِ الْبَيْتِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَلاَ إِنَّ دِيَةَ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ مَا كَانَ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا مِائَةٌ مِنَ الإِبِلِ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلاَدُهَا ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا آپ نے فرمایا: سنو! جاہلیت کے خون یا مال کی جتنی فضیلتیں بھی تھیں جن کا ذکر کیا جاتا تھا یا جن کے دعوے کئے جاتے تھے وہ سب میرے قدموں تلے ہیں، سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اور بیت اللہ کی دیکھ ریکھ کے پھر فرمایا: سنو! قتل خطا جو کوڑے یا لاٹھی سے ہوا ہو شبہ عمد ہے، اس کی دیت سو اونٹ ہے، جن میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں گی جن کے پیٹ میں بچے ہوں گے ۔
حدیث 4589 — سنن أبي داود 41:96
ضعیفحسن
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ مَعْنَاهُ ‏.‏
اس سند سے بھی خالد سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔
حدیث 4590 — سنن أبي داود 41:97
صحیحصحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ غُلاَمًا، لأُنَاسٍ فُقَرَاءَ قَطَعَ أُذُنَ غُلاَمٍ لأُنَاسٍ أَغْنِيَاءَ فَأَتَى أَهْلُهُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا أُنَاسٌ فُقَرَاءُ ‏.‏ فَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْهِ شَيْئًا ‏.‏
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فقیر لوگوں کے ایک غلام نے کچھ مالدار لوگوں کے ایک غلام کا کان کاٹ لیا، تو جس غلام نے کان کاٹا تھا اس کے مالکان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! ہم فقیر لوگ ہیں، تو آپ نے ان پر کوئی دیت نہیں ٹھہرائی۔
حدیث 4591 — سنن أبي داود 41:98
صحیحصحیحصحیحصحیح
قَالَ أَبُو دَاوُدَ حُدِّثْتُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ قُتِلَ فِي عِمَّيَّا أَوْ رَمْيًا يَكُونُ بَيْنَهُمْ بِحَجَرٍ أَوْ بِسَوْطٍ فَعَقْلُهُ عَقْلُ خَطَإٍ وَمَنْ قُتِلَ عَمْدًا فَقَوْدُ يَدَيْهِ فَمَنْ حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اندھا دھند مارا جائے یا کسی دنگے فساد میں جو ان میں چھڑ گیا ہو، یا کسی پتھر یا کوڑے سے مارا جائے تو اس کی دیت قتل خطا کی دیت ہو گی، اور جو جان بوجھ کر عمداً کسی کو قتل کرے تو وہ موجب قصاص ہے، اب اگر کوئی ان دونوں کے بیچ میں پڑ کر ( قاتل کو بچانا چاہے ) تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ۔
حدیث 4592 — سنن أبي داود 41:99
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الرِّجْلُ جُبَارٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ الدَّابَّةُ تَضْرِبُ بِرِجْلِهَا وَهُوَ رَاكِبٌ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( جانور کا ) پاؤں باطل و رائیگاں ہے اس کی کوئی دیت نہیں ہو گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جانور پیر سے مار دے جب کہ وہ اس پہ سوار ہو تو اس کی کوئی دیت نہیں
حدیث 4593 — سنن أبي داود 41:100
صحیحصحیحصحیح Bukhari (1499) Sahih Muslim (1710)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ الْعَجْمَاءُ الْمُنْفَلِتَةُ الَّتِي لاَ يَكُونُ مَعَهَا أَحَدٌ وَتَكُونُ بِالنَّهَارِ وَلاَ تَكُونُ بِاللَّيْلِ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانور کسی کو زخمی کر دے تو اس میں ہرجانہ نہیں ہے، کان میں ہلاک ہونے والے کا ہرجانہ نہیں ہے اور کنواں میں ہلاک ہو جانے والے کا ہرجانہ نہیں ہے ۱؎ اور رکاز میں پانچواں حصہ دینا ہو گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جانور سے مراد وہ جانور ہے جو چھڑا کر بھاگ گیا ہو اور اس کے ساتھ کوئی نہ ہو اور دن ہو، رات نہ ہو۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔