حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مَخْشِيٍّ، عَنِ ابْنِ الْفِرَاسِيِّ، أَنَّ الْفِرَاسِيَّ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَسْأَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ وَإِنْ كُنْتَ سَائِلاً لاَ بُدَّ فَاسْأَلِ الصَّالِحِينَ " .
ابن الفراسی سے روایت ہے کہ فراسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا! اللہ کے رسول! کیا میں سوال کروں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں اور اگر سوال کرنا ضروری ہی ہو تو نیک لوگوں سے سوال کرو ۔
حدیث 1647 — سنن أبي داود 9:92
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (7163) Sahih Muslim (1045)
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ السَّاعِدِيِّ، قَالَ اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ - رضى الله عنه - عَلَى الصَّدَقَةِ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا وَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ فَقُلْتُ إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ وَأَجْرِي عَلَى اللَّهِ . قَالَ خُذْ مَا أُعْطِيتَ فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَمَّلَنِي فَقُلْتُ مِثْلَ قَوْلِكَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَهُ فَكُلْ وَتَصَدَّقْ " .
ابن ساعدی کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقے پر عامل مقرر کیا تو جب میں اس کام سے فارغ ہوا اور اسے ان کے حوالے کر دیا تو انہوں نے میرے لیے محنتانے ( اجرت ) کا حکم دیا، میں نے عرض کیا: میں نے یہ کام اللہ کے لیے کیا اور میرا بدلہ اللہ کے ذمہ ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو تمہیں دیا جا رہا ہے اسے لے لو، میں نے بھی یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دینا چاہا تو میں نے بھی وہی بات کہی جو تم نے کہی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تمہیں کوئی چیز بغیر مانگے ملے تو اس میں سے کھاؤ اور صدقہ کرو ۔
حدیث 1648 — سنن أبي داود 9:93
ShadhShadhصحیحصحیح Bukhari (1429) Sahih Muslim (1033)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپ منبر پر تھے صدقہ کرنے کا، سوال سے بچنے اور مانگنے کا ذکر کر رہے تھے کہ: اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور اوپر والا ہاتھ ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرنے والا ہاتھ ہے، اور نیچے والا ہاتھ سوال کرنے والا ہاتھ ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں ایوب کی نافع سے روایت پر اختلاف کیا گیا ہے ۱؎، عبدالوارث نے کہا: «اليد العليا المتعففة» ( اوپر والا ہاتھ وہ ہے جو مانگنے سے بچے ) ، اور اکثر رواۃ نے حماد بن زیدی سے روایت میں:«اليد العليا المنفقة» نقل کیا ہے ( یعنی اوپر والا ہاتھ دینے والا ہاتھ ہے ) اور ایک راوی نے حماد سے «المتعففة» روایت کی ۲؎۔
مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاتھ تین طرح کے ہیں: اللہ کا ہاتھ جو سب سے اوپر ہے، دینے والے کا ہاتھ جو اس کے بعد ہے اور لینے والے کا ہاتھ جو سب سے نیچے ہے، لہٰذا جو ضرورت سے زائد ہو اسے دے دو اور اپنے نفس کی بات مت مانو ۔
حدیث 1650 — سنن أبي داود 9:95
صحیحصحیححسن Sahihصحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ رَجُلاً عَلَى الصَّدَقَةِ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَقَالَ لأَبِي رَافِعٍ اصْحَبْنِي فَإِنَّكَ تُصِيبُ مِنْهَا . قَالَ حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَسْأَلَهُ فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ " مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَإِنَّا لاَ تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ " .
ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا ، اس نے ابورافع سے کہا : میرے ساتھ چلو اس میں سے کچھ تمہیں بھی مل جائے گا ، انہوں نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر پوچھ لوں ، چنانچہ وہ آپ کے پاس آئے اور دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قوم کا غلام انہیں ۱؎ میں سے ہوتا ہے اور ہمارے لیے صدقہ لینا حلال نہیں “ ۔
حدیث 1651 — سنن أبي داود 9:96
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَمُرُّ بِالتَّمْرَةِ الْعَائِرَةِ فَمَا يَمْنَعُهُ مِنْ أَخْذِهَا إِلاَّ مَخَافَةُ أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً .
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کسی پڑی ہوئی کھجور پر ہوتا تو آپ کو اس کے لے لینے سے سوائے اس اندیشے کے کوئی چیز مانع نہ ہوتی کہ کہیں وہ صدقے کی نہ ہو ۔
حدیث 1652 — سنن أبي داود 9:97
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (2055) Sahih Muslim (1071)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور ( پڑی ) پائی تو فرمایا: اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہو تاکہ یہ صدقے کی ہو گی تو میں اسے کھا لیتا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام نے بھی اسے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے
حدیث 1653 — سنن أبي داود 9:98
صحیحصحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بَعَثَنِي أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي إِبِلٍ أَعْطَاهَا إِيَّاهُ مِنَ الصَّدَقَةِ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس اونٹ کے سلسلہ میں بھیجا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقے میں سے دیا تھا ۱؎۔
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح کی روایت مروی ہے البتہ اس میں ( ابوعبیدہ نے ) یہ اضافہ کیا ہے کہ میرے والد اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدل رہے تھے ۱؎۔
حدیث 1655 — سنن أبي داود 9:100
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (1495) Sahih Muslim (1074)
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِلَحْمٍ قَالَ " مَا هَذَا " . قَالُوا شَىْءٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَقَالَ " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ " .
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا، آپ نے پوچھا: یہ گوشت کیسا ہے؟ ، لوگوں نے عرض کیا: یہ وہ چیز ہے جسے بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس ( بریرہ ) کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ( بریرہ کی طرف سے ) ہدیہ ہے ۔