قرآني·Qurani
اردو

الزكاة

145 احادیث · #1556–1700

حدیث 1686 — سنن أبي داود 9:131
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ لَمَّا بَايَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النِّسَاءَ قَامَتِ امْرَأَةٌ جَلِيلَةٌ كَأَنَّهَا مِنْ نِسَاءِ مُضَرَ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا كَلٌّ عَلَى آبَائِنَا وَأَبْنَائِنَا - قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَأُرَى فِيهِ وَأَزْوَاجِنَا - فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَقَالَ ‏ "‏ الرَّطْبُ تَأْكُلْنَهُ وَتُهْدِينَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ الرَّطْبُ الْخُبْزُ وَالْبَقْلُ وَالرُّطَبُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ يُونُسَ ‏.‏
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے بیعت کی تو ایک موٹی عورت جو قبیلہ مضر کی لگتی تھی کھڑی ہوئی اور بولی: اللہ کے نبی! ہم ( عورتیں ) تو اپنے باپ اور بیٹوں پر بوجھ ہوتی ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میرے خیال میں «أزواجنا» کا لفظ کہا ( یعنی اپنے شوہروں پر بوجھ ہوتی ہیں ) ، ہمارے لیے ان کے مالوں میں سے کیا کچھ حلال ہے ( کہ ہم خرچ کریں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «رطب» ہے تم اسے کھاؤ اور ہدیہ بھی کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «رطب» روٹی، ترکاری اور تر کھجوریں ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور ثوری نے بھی یونس سے اسے اسی طرح روایت کیا ہے۔
حدیث 1687 — سنن أبي داود 9:132
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (5360) Sahih Muslim (1026)
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ كَسْبِ زَوْجِهَا مِنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَلَهَا نِصْفُ أَجْرِهِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت اپنے شوہر کی کمائی میں سے اس کی اجازت کے بغیر خرچ کرے تو اسے اس ( شوہر ) کا آدھا ثواب ملے گا ۱؎ ۔
حدیث 1688 — سنن أبي داود 9:133
صحیح Muqufصحیح MuqufIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فِي الْمَرْأَةِ تَصَدَّقُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا قَالَ لاَ إِلاَّ مِنْ قُوتِهَا وَالأَجْرُ بَيْنَهُمَا وَلاَ يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَصَدَّقَ مِنْ مَالِ زَوْجِهَا إِلاَّ بِإِذْنِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا يُضَعِّفُ حَدِيثَ هَمَّامٍ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان سے کسی نے پوچھا، عورت بھی اپنے شوہر کے گھر سے صدقہ دے سکتی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، البتہ اپنے خرچ میں سے دے سکتی ہے اور ثواب دونوں ( میاں بیوی ) کو ملے گا اور اس کے لیے یہ درست نہیں کہ شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر صدقہ دے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہمام کی ( پچھلی ) حدیث کی تضعیف کرتی ہے ۱؎۔
حدیث 1689 — سنن أبي داود 9:134
Maqtuصحیحصحیحصحیح Muslim (998)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ‏{‏ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ‏}‏ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَى رَبَّنَا يَسْأَلُنَا مِنْ أَمْوَالِنَا فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ أَرْضِي بِأَرِيحَاءَ لَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اجْعَلْهَا فِي قَرَابَتِكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَسَمَهَا بَيْنَ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ وَأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ بَلَغَنِي عَنِ الأَنْصَارِيِّ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ زَيْدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ الأَسْوَدِ بْنِ حَرَامِ بْنِ عَمْرِو بْنِ زَيْدِ مَنَاةَ بْنِ عَدِيِّ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ وَحَسَّانُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ حَرَامٍ يَجْتَمِعَانِ إِلَى حَرَامٍ وَهُوَ الأَبُ الثَّالِثُ وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبِ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَتِيكِ بْنِ زَيْدِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ فَعَمْرٌو يَجْمَعُ حَسَّانَ وَأَبَا طَلْحَةَ وَأُبَيًّا ‏.‏ قَالَ الأَنْصَارِيُّ بَيْنَ أُبَىٍّ وَأَبِي طَلْحَةَ سِتَّةُ آبَاءٍ ‏.‏
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب «لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون» کی آیت نازل ہوئی تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میرا خیال ہے کہ ہمارا رب ہم سے ہمارے مال مانگ رہا ہے، میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اریحاء نامی اپنی زمین اسے دے دی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اسے اپنے قرابت داروں میں تقسیم کر دو ، تو انہوں نے اسے حسان بن ثابت اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہما کے درمیان تقسیم کر دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے محمد بن عبداللہ انصاری سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ابوطلحہ کا نام: زید بن سہل بن اسود بن حرام بن عمرو ابن زید مناۃ بن عدی بن عمرو بن مالک بن النجار ہے، اور حسان: ثابت بن منذر بن حرام کے بیٹے ہیں، اس طرح ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اور حسان رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب حرام پر مل جاتا ہے وہی دونوں کے تیسرے باپ ( پردادا ) ہیں، اور ابی رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے: ابی بن کعب بن قیس بن عتیک بن زید بن معاویہ بن عمرو بن مالک بن نجار، اس طرح عمرو: حسان، ابوطلحہ اور ابی تینوں کو سمیٹ لیتے ہیں یعنی تینوں کے جد اعلیٰ ہیں، انصاری ( محمد بن عبداللہ ) کہتے ہیں: ابی رضی اللہ عنہ اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے نسب میں چھ آباء کا فاصلہ ہے۔
حدیث 1690 — سنن أبي داود 9:135
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَتْ لِي جَارِيَةٌ فَأَعْتَقْتُهَا فَدَخَلَ عَلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ‏ "‏ آجَرَكِ اللَّهُ أَمَا إِنَّكِ لَوْ كُنْتِ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لأَجْرِكِ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری ایک لونڈی تھی، میں نے اسے آزاد کر دیا، میرے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ کو اس کی خبر دی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اجر عطا کرے، لیکن اگر تو اس لونڈی کو اپنے ننھیال کے لوگوں کو دے دیتی تو یہ تیرے لیے بڑے اجر کی چیز ہوتی ۔
حدیث 1691 — سنن أبي داود 9:136
حسنحسنحسن
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالصَّدَقَةِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي دِينَارٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عِنْدِي آخَرُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى وَلَدِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عِنْدِي آخَرُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى زَوْجَتِكَ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ زَوْجِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عِنْدِي آخَرُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى خَادِمِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عِنْدِي آخَرُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَنْتَ أَبْصَرُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کا حکم دیا تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے کام میں لے آؤ ، تو اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے بیٹے کو دے دو ، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنی بیوی کو دے دو ، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے خادم کو دے دو ، اس نے کہا میرے پاس ایک اور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تم زیادہ بہتر جانتے ہو ( کہ کسے دیا جائے ) ۔
حدیث 1692 — سنن أبي داود 9:137
حسنحسنصحیحصحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ الْخَيْوَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے گنہگار ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ ان لوگوں کو جن کے اخراجات کی ذمہ داری اس کے اوپر ہے ضائع کر دے ۱؎ ۔
حدیث 1693 — سنن أبي داود 9:138
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (2067) Sahih Muslim (2557)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ، - وَهَذَا حَدِيثُهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ ‏"‏ ‏.‏
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے لیے یہ بات باعث مسرت ہو کہ اس کے رزق میں اور عمر میں درازی ہو جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ صلہ رحمی کرے ( یعنی قرابت داروں کا خیال رکھے ) ۔
حدیث 1694 — سنن أبي داود 9:139
صحیحصحیح
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ قَالَ اللَّهُ أَنَا الرَّحْمَنُ وَهِيَ الرَّحِمُ شَقَقْتُ لَهَا اسْمًا مِنَ اسْمِي مَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ وَمَنْ قَطَعَهَا بَتَتُّهُ ‏"‏ ‏.‏
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: میں رحمن ہوں اور «رَحِم» ( ناتا ) ہی ہے جس کا نام میں نے اپنے نام سے مشتق کیا ہے، لہٰذا جو اسے جوڑے گا میں اسے جوڑوں گا اور جو اسے کاٹے گا، میں اسے کاٹ دوں گا ۔
حدیث 1695 — سنن أبي داود 9:140
ضعیفصحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ الرَّدَّادَ اللَّيْثِيَّ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ ‏.‏
اس سند سے بھی عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث سنی ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔