قرآني·Qurani
اردو

الزكاة

145 احادیث · #1556–1700

حدیث 1586 — سنن أبي داود 9:31
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ حَفْصٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ رَجُلٍ، يُقَالُ لَهُ دَيْسَمٌ - وَقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ مِنْ بَنِي سَدُوسٍ - عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْخَصَاصِيَةِ، - قَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ فِي حَدِيثِهِ وَمَا كَانَ اسْمُهُ بَشِيرًا - وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَمَّاهُ بَشِيرًا قَالَ قُلْنَا إِنَّ أَهْلَ الصَّدَقَةِ يَعْتَدُونَ عَلَيْنَا أَفَنَكْتُمْ مِنْ أَمْوَالِنَا بِقَدْرِ مَا يَعْتَدُونَ عَلَيْنَا فَقَالَ ‏ "‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏
بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ( ابن عبید اپنی حدیث میں کہتے ہیں: ان کا نام بشیر نہیں تھا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بشیر رکھ دیا تھا ) وہ کہتے ہیں: ہم نے عرض کیا: زکاۃ لینے والے ہم پر زیادتی کرتے ہیں، کیا جس قدر وہ زیادتی کرتے ہیں اتنا مال ہم چھپا لیا کریں؟ آپ نے فرمایا: نہیں ۔
حدیث 1587 — سنن أبي داود 9:32
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَيَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَصْحَابَ الصَّدَقَةِ يَعْتَدُونَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَفَعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ ‏.‏
اس سند سے بھی ایوب سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے مگر اس میں ہے ہم نے کہا: اللہ کے رسول! زکاۃ لینے والے زیادتی کرتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرزاق نے معمر سے اسے مرفوعاً نقل کیا ہے۔
حدیث 1588 — سنن أبي داود 9:33
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ أَبِي الْغُصْنِ، عَنْ صَخْرِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ سَيَأْتِيكُمْ رَكْبٌ مُبَغَّضُونَ فَإِذَا جَاءُوكُمْ فَرَحِّبُوا بِهِمْ وَخَلُّوا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَبْتَغُونَ فَإِنْ عَدَلُوا فَلأَنْفُسِهِمْ وَإِنْ ظَلَمُوا فَعَلَيْهَا وَأَرْضُوهُمْ فَإِنَّ تَمَامَ زَكَاتِكُمْ رِضَاهُمْ وَلْيَدْعُوا لَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبُو الْغُصْنِ هُوَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ غُصْنٍ ‏.‏
جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ تم سے زکاۃ لینے کچھ ایسے لوگ آئیں جنہیں تم ناپسند کرو گے، جب وہ آئیں تو انہیں مرحبا کہو اور وہ جسے چاہیں، اسے لینے دو، اگر انصاف کریں گے تو فائدہ انہیں کو ہو گا اور اگر ظلم کریں گے تو اس کا وبال بھی انہیں پر ہو گا، لہٰذا تم ان کو خوش رکھو، اس لیے کہ تمہاری زکاۃ اس وقت پوری ہو گی جب وہ خوش ہوں اور انہیں چاہیئے کہ تمہارے حق میں دعا کریں ۔
حدیث 1589 — سنن أبي داود 9:34
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (989)
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، - وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي كَامِلٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هِلاَلٍ الْعَبْسِيُّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ جَاءَ نَاسٌ - يَعْنِي مِنَ الأَعْرَابِ - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا إِنَّ نَاسًا مِنَ الْمُصَدِّقِينَ يَأْتُونَا فَيَظْلِمُونَا ‏.‏ قَالَ فَقَالَ ‏"‏ أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ ظَلَمُونَا قَالَ ‏"‏ أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ ‏"‏ ‏.‏ زَادَ عُثْمَانُ ‏"‏ وَإِنْ ظُلِمْتُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو كَامِلٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ جَرِيرٌ مَا صَدَرَ عَنِّي مُصَدِّقٌ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ وَهُوَ عَنِّي رَاضٍ ‏.‏
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ یعنی کچھ دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: صدقہ و زکاۃ وصول کرنے والوں میں سے بعض لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اور ہم پر زیادتی کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے مصدقین کو راضی کرو ، انہوں نے پوچھا: اگرچہ وہ ہم پر ظلم کریں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے فرمایا: تم اپنے مصدقین کو راضی کرو ، عثمان کی روایت میں اتنا زائد ہے اگرچہ وہ تم پر ظلم کریں ۔ ابوکامل اپنی حدیث میں کہتے ہیں: جریر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی، اس کے بعد سے میرے پاس جو بھی مصدق آیا، مجھ سے خوش ہو کر ہی واپس گیا۔
حدیث 1590 — سنن أبي داود 9:35
صحیحصحیحصحیح Bukhari (1497) Sahih Muslim (1078)
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، وَأَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، - الْمَعْنَى - قَالاَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ كَانَ أَبِي مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِهِمْ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ فُلاَنٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ فَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے والد ( ابواوفی ) اصحاب شجرہ ۱؎ میں سے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی قوم اپنے مال کی زکاۃ لے کر آتی تو آپ فرماتے: اے اللہ! آل فلاں پر رحمت نازل فرما، میرے والد اپنی زکاۃ لے کر آپ کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ابواوفی کی اولاد پر رحمت نازل فرما ۲؎ ۔
حدیث 1591 — سنن أبي داود 9:36
حسن Sahihحسن Sahihصحیح LighairihiIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ جَلَبَ وَلاَ جَنَبَ وَلاَ تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلاَّ فِي دُورِهِمْ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ «جلب» صحیح ہے نہ «جنب» لوگوں سے زکاۃ ان کے ٹھکانوں میں ہی لی جائے گی ۱؎۔
حدیث 1592 — سنن أبي داود 9:37
صحیح Maqtuصحیح MaqtuIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، فِي قَوْلِهِ ‏ "‏ لاَ جَلَبَ وَلاَ جَنَبَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَنْ تُصَدَّقَ الْمَاشِيَةُ فِي مَوَاضِعِهَا وَلاَ تُجْلَبُ إِلَى الْمُصَدِّقِ وَالْجَنَبُ عَنْ غَيْرِ هَذِهِ الْفَرِيضَةِ أَيْضًا لاَ يُجْنَبُ أَصْحَابُهَا يَقُولُ وَلاَ يَكُونُ الرَّجُلُ بِأَقْصَى مَوَاضِعِ أَصْحَابِ الصَّدَقَةِ فَتُجْنَبُ إِلَيْهِ وَلَكِنْ تُؤْخَذُ فِي مَوْضِعِهِ ‏.‏
محمد بن اسحاق سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: «لا جلب ولا جنب» کی تفسیر میں مروی ہے کہ «لا جلب» کا مطلب یہ ہے کہ جانوروں کی زکاۃ ان کی جگہوں میں جا کر لی جائے وہ مصدق تک کھینچ کر نہ لائے جائیں، اور «جنب» فریضہ زکاۃ کے علاوہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے: وہ کہتے ہیں: «جنب» یہ ہے کہ محصل زکاۃ دینے والوں کی جگہوں سے دور نہ رہے کہ جانور اس کے پاس لائے جائیں بلکہ اسی جگہ میں زکاۃ لی جائے گی ۱؎۔
حدیث 1593 — سنن أبي داود 9:38
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (2636) Sahih Muslim (1620)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، - رضى الله عنه - حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَوَجَدَهُ يُبَاعُ فَأَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَهُ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏ "‏ لاَ تَبْتَعْهُ وَلاَ تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا دیا، پھر اسے بکتا ہوا پایا تو خریدنا چاہا تو اور اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے مت خریدو، اپنے صدقے کو مت لوٹاؤ ۔
حدیث 1594 — سنن أبي داود 9:39
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَيَّاضٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَيْسَ فِي الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ زَكَاةٌ إِلاَّ زَكَاةُ الْفِطْرِ فِي الرَّقِيقِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھوڑے اور غلام یا لونڈی میں زکاۃ نہیں، البتہ غلام یا لونڈی میں صدقہ فطر ہے ۔
حدیث 1595 — سنن أبي داود 9:40
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (1463) Sahih Muslim (982)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلاَ فِي فَرَسِهِ صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان پر اس کے غلام ، لونڈی اور گھوڑے میں زکاۃ نہیں ہے “ ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔