قرآني·Qurani
اردو

الصلاة

770 احادیث · #391–1160

حدیث 551 — سنن أبي داود 2:161
صحیحصحیحضعیفضعیف
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ، عَنْ مَغْرَاءٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِيَ فَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنَ اتِّبَاعِهِ عُذْرٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَمَا الْعُذْرُ قَالَ خَوْفٌ أَوْ مَرَضٌ ‏"‏ لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ الصَّلاَةُ الَّتِي صَلَّى ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى عَنْ مَغْرَاءٍ أَبُو إِسْحَاقَ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اذان کی آواز سنے اور اس پر عمل پیرا ہونے سے اسے کوئی عذر مانع نہ ہو ( لوگوں نے عرض کیا: عذر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: خوف یا بیماری ) تو اس کی نماز جو اس نے پڑھی قبول نہ ہو گی ۔
حدیث 552 — سنن أبي داود 2:162
حسن Sahihحسن Sahihضعیفضعیف
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ شَاسِعُ الدَّارِ وَلِي قَائِدٌ لاَ يُلاَئِمُنِي فَهَلْ لِي رُخْصَةٌ أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي قَالَ ‏"‏ هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں نابینا آدمی ہوں، میرا گھر بھی ( مسجد سے ) دور ہے اور میری رہنمائی کرنے والا ایسا شخص ہے جو میرے لیے موزوں و مناسب نہیں، کیا میرے لیے اپنے گھر میں نماز پڑھ لینے کی اجازت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اذان سنتے ہو؟ ، انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( پھر تو ) میں تمہارے لیے رخصت نہیں پاتا ۔
حدیث 553 — سنن أبي داود 2:163
صحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمَدِينَةَ كَثِيرَةُ الْهَوَامِّ وَالسِّبَاعِ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَتَسْمَعُ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ فَحَىَّ هَلاَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَا رَوَاهُ الْقَاسِمُ الْجَرْمِيُّ عَنْ سُفْيَانَ لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ‏"‏ حَىَّ هَلاَ ‏"‏ ‏.‏
ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اللہ کے رسول! مدینے میں کیڑے مکوڑے اور درندے بہت ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم «حى على الصلاة» اور «حى على الفلاح» ( یعنی اذان ) سنتے ہو؟ تو ( مسجد ) آیا کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے قاسم جرمی نے سفیان سے روایت کیا ہے، ان کی روایت میں «حى هلا» ( آیا کرو ) کا ذکر نہیں ہے۔
حدیث 554 — سنن أبي داود 2:164
حسنحسنحسن Sahihصحیح
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا الصُّبْحَ فَقَالَ ‏"‏ أَشَاهِدٌ فُلاَنٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَشَاهِدٌ فُلاَنٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلاَتَيْنِ أَثْقَلُ الصَّلَوَاتِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ وَلَوْ تَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لأَتَيْتُمُوهُمَا وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الرُّكَبِ وَإِنَّ الصَّفَّ الأَوَّلَ عَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلاَئِكَةِ وَلَوْ عَلِمْتُمْ مَا فَضِيلَتُهُ لاَبْتَدَرْتُمُوهُ وَإِنَّ صَلاَةَ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلِ أَزْكَى مِنْ صَلاَتِهِ وَحْدَهُ وَصَلاَتُهُ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلاَتِهِ مَعَ الرَّجُلِ وَمَا كَثُرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى ‏"‏ ‏.‏
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر پڑھائی پھر فرمایا: کیا فلاں حاضر ہے؟ ، لوگوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا فلاں حاضر ہے؟ ، لوگوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دونوں ( عشاء و فجر ) منافقوں پر بقیہ نماز سے زیادہ گراں ہیں، اگر تم کو ان دونوں کی فضیلت کا علم ہوتا تو تم ان میں ضرور آتے چاہے تم کو گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑتا، اور پہلی صف ( اللہ سے قریب ہونے میں ) فرشتوں کی صف کی مانند ہے، اگر اس کی فضیلت کا علم تم کو ہوتا تو تم اس کی طرف ضرور سبقت کرتے، ایک شخص کا دوسرے شخص کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا اس کے تنہا نماز پڑھنے سے زیادہ بہتر ہے، اور ایک شخص کا دو شخصوں کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا ایک شخص کے ساتھ نماز پڑھنے سے زیادہ بہتر ہے، جتنی تعداد زیادہ ہو اتنی ہی وہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہو گی ۔
حدیث 555 — سنن أبي داود 2:165
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (656)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ، - يَعْنِي عُثْمَانَ بْنَ حَكِيمٍ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ كَانَ كَقِيَامِ نِصْفِ لَيْلَةٍ وَمَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ فِي جَمَاعَةٍ كَانَ كَقِيَامِ لَيْلَةٍ ‏"‏ ‏.‏
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے عشاء جماعت سے پڑھی، گویا اس نے آدھی رات تک قیام کیا، اور جس نے عشاء اور فجر دونوں جماعت سے پڑھیں، اس نے گویا پوری رات قیام کیا ۔
حدیث 556 — سنن أبي داود 2:166
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الأَبْعَدُ فَالأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ أَعْظَمُ أَجْرًا ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مسجد سے جتنا دور ہو گا اتنا ہی اس کا ثواب زیادہ ہو گا ۔
حدیث 557 — سنن أبي داود 2:167
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (663)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، أَنَّ أَبَا عُثْمَانَ، حَدَّثَهُ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ كَانَ رَجُلٌ لاَ أَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ مِمَّنْ يُصَلِّي الْقِبْلَةَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَبْعَدَ مَنْزِلاً مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ وَكَانَ لاَ تُخْطِئُهُ صَلاَةٌ فِي الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ لَوِ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا تَرْكَبُهُ فِي الرَّمْضَاءِ وَالظُّلْمَةِ ‏.‏ فَقَالَ مَا أُحِبُّ أَنَّ مَنْزِلِي إِلَى جَنْبِ الْمَسْجِدِ فَنُمِيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ عَنْ قَوْلِهِ ذَلِكَ فَقَالَ أَرَدْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يُكْتَبَ لِي إِقْبَالِي إِلَى الْمَسْجِدِ وَرُجُوعِي إِلَى أَهْلِي إِذَا رَجَعْتُ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ أَعْطَاكَ اللَّهُ ذَلِكَ كُلَّهُ أَنْطَاكَ اللَّهُ جَلَّ وَعَزَّ مَا احْتَسَبْتَ كُلَّهُ أَجْمَعَ ‏"‏ ‏.‏
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اہل مدینہ میں نمازیوں میں ایک صاحب تھے، میری نظر میں کسی کا مکان مسجد سے ان کے مکان سے زیادہ دور نہیں تھا، اس کے باوجود ان کی کوئی نماز جماعت سے ناغہ نہیں ہوتی تھی، میں نے ان سے کہا: اگر آپ ایک گدھا خرید لیتے اور گرمی اور تاریکی میں اس پر سوار ہو کر ( مسجد ) آیا کرتے ( تو زیادہ اچھا ہوتا ) تو انہوں نے کہا: میں نہیں چاہتا کہ میرا گھر مسجد کے بغل میں ہو، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے ان سے اس کے متعلق پوچھا، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میری غرض یہ تھی کہ مجھے مسجد آنے کا اور پھر لوٹ کر اپنے گھر والوں کے پاس جانے کا ثواب ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں وہ سب عنایت فرما دیا، اور جو کچھ تم نے چاہا، اللہ نے وہ سب تمہیں دے دیا ۔
حدیث 558 — سنن أبي داود 2:168
حسنحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهِّرًا إِلَى صَلاَةٍ مَكْتُوبَةٍ فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْحَاجِّ الْمُحْرِمِ وَمَنْ خَرَجَ إِلَى تَسْبِيحِ الضُّحَى لاَ يُنْصِبُهُ إِلاَّ إِيَّاهُ فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْمُعْتَمِرِ وَصَلاَةٌ عَلَى أَثَرِ صَلاَةٍ لاَ لَغْوَ بَيْنَهُمَا كِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ ‏"‏ ‏.‏
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے گھر سے وضو کر کے فرض نماز کے لیے نکلے، تو اس کا ثواب احرام باندھنے والے حاجی کے ثواب کی طرح ہے، اور جو چاشت کی نماز کے لیے نکلے اور اسی کی خاطر تکلیف برداشت کرتا ہو تو اس کا ثواب عمرہ کرنے والے کے ثواب کی طرح ہے، اور ایک نماز سے لے کر دوسری نماز کے بیچ میں کوئی لغو کام نہ ہو تو وہ علیین ۱؎میں لکھی جاتی ہے ۔
حدیث 559 — سنن أبي داود 2:169
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (477) Sahih Muslim (649)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ صَلاَةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلاَتِهِ فِي بَيْتِهِ وَصَلاَتِهِ فِي سُوقِهِ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً وَذَلِكَ بِأَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ وَأَتَى الْمَسْجِدَ لاَ يُرِيدُ إِلاَّ الصَّلاَةَ وَلاَ يَنْهَزُهُ إِلاَّ الصَّلاَةُ لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلاَّ رُفِعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِي صَلاَةٍ مَا كَانَتِ الصَّلاَةُ هِيَ تَحْبِسُهُ وَالْمَلاَئِكَةُ يُصَلُّونَ عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ أَوْ يُحْدِثْ فِيهِ ‏"‏ ‏.‏
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”باجماعت نماز گھر یا بازار میں اکیلے نماز (پڑھنے) کی بہ نسبت پچیس درجے زیادہ ہوتی ہے۔ وہ یوں کہ جب تم میں سے کوئی وضو کرے اور کامل اچھی طرح وضو کرے اور مسجد میں آئے اور اس کی نیت صرف نماز ہی ہو اور نماز ہی نے اسے اٹھایا ہو تو وہ جو قدم بھی اٹھائے گا اس سے اس کا ایک درجہ بلند ہو گا اور ایک غلطی معاف ہو گی حتیٰ کہ مسجد میں داخل ہو جائے۔ اور جب مسجد میں داخل ہو جائے تو وہ نماز میں شمار ہوتا ہے جب تک کہ نماز اسے روکے رکھے۔ اور جب تک کوئی اپنی اس جگہ پر بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہو تو فرشتے اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں ”اے اللہ! اس کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! اس پر رحم فرما، اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما۔“ اور ان کی یہ دعا (اس وقت تک) جاری رہتی ہے جب تک کہ وہ وہاں کسی کو ایذا نہ دے یا بے وضو نہ ہو جائے۔“
حدیث 560 — سنن أبي داود 2:170
صحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الصَّلاَةُ فِي جَمَاعَةٍ تَعْدِلُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ صَلاَةً فَإِذَا صَلاَّهَا فِي فَلاَةٍ فَأَتَمَّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا بَلَغَتْ خَمْسِينَ صَلاَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ فِي الْحَدِيثِ ‏"‏ صَلاَةُ الرَّجُلِ فِي الْفَلاَةِ تُضَاعَفُ عَلَى صَلاَتِهِ فِي الْجَمَاعَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باجماعت نماز ( کا ثواب ) پچیس نمازوں کے برابر ہے، اور جب اسے چٹیل میدان میں پڑھے اور رکوع و سجدہ اچھی طرح سے کرے تو اس کا ثواب پچاس نمازوں تک پہنچ جاتا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالواحد بن زیاد کی روایت میں یوں ہے: آدمی کی نماز چٹیل میدان میں باجماعت نماز سے ثواب میں کئی گنا بڑھا دی جاتی ہے ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔