قرآني·Qurani
اردو

الصلاة

770 احادیث · #391–1160

حدیث 401 — سنن أبي داود 2:11
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (535) Sahih Muslim (616)
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ، - قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبُو الْحَسَنِ هُوَ مُهَاجِرٌ - قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ الظُّهْرَ فَقَالَ ‏"‏ أَبْرِدْ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ فَقَالَ ‏"‏ أَبْرِدْ ‏"‏ ‏.‏ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا حَتَّى رَأَيْنَا فَىْءَ التُّلُولِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏
جناب زید بن وہب کہتے تھے میں نے سیدنا ابوذر ؓ سے سنا وہ کہتے تھے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ مؤذن نے ظہر کی اذان کہنا چاہی تو آپ ﷺ نے فرمایا ”ٹھنڈک ہونے دو۔“ اس نے پھر اذان کہنا چاہی تو آپ ﷺ نے فرمایا ”ٹھنڈک ہونے دو۔“ دو دفعہ یا تین دفعہ یہی ہوا حتیٰ کہ ہم نے ٹیلوں کے سائے دیکھ لیے پھر فرمایا ”گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے۔ جب گرمی شدید ہو تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو۔“
حدیث 402 — سنن أبي داود 2:12
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (536) Sahih Muslim (615)
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، أَنَّ اللَّيْثَ، حَدَّثَهُمْ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ مَوْهَبٍ ‏"‏ بِالصَّلاَةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب گرمی کی شدت ہو تو نماز کو ٹھنڈی کر کے پڑھو، ( ابن موہب کی روایت میں «فأبردوا عن الصلاة» کے بجائے «فأبردوا بالصلاة» ہے ) ، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے ۱؎۔
حدیث 403 — سنن أبي داود 2:13
حسن Sahihحسن Sahihصحیح LighairihiIsnaad Sahih Sahih Muslim
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ بِلاَلاً، كَانَ يُؤَذِّنُ الظُّهْرَ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ ‏.‏
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ ظہر کی اذان اس وقت دیتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا۔
حدیث 404 — سنن أبي داود 2:14
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (621)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ وَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ سورج سفید، بلند اور زندہ ہوتا تھا، اور جانے والا ( عصر پڑھ کر ) عوالی مدینہ تک جاتا اور سورج بلند رہتا تھا۔
حدیث 405 — سنن أبي داود 2:15
صحیح Maqtuصحیح MaqtuIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ وَالْعَوَالِي عَلَى مِيلَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةٍ ‏.‏ قَالَ وَأَحْسَبُهُ قَالَ أَوْ أَرْبَعَةٍ ‏.‏
زہری کا بیان ہے کہ عوالی مدینہ سے دو یا تین میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ راوی کا کہنا ہے کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے چار میل بھی کہا۔
حدیث 406 — سنن أبي داود 2:16
صحیح Maqtuصحیح MaqtuIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ، قَالَ حَيَاتُهَا أَنْ تَجِدَ، حَرَّهَا ‏.‏
خیثمہ کہتے ہیں کہ سورج کے زندہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تم اس کی تپش اور گرمی محسوس کرو۔
حدیث 407 — سنن أبي داود 2:17
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (522) Sahih Muslim (611)
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ عُرْوَةُ وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر ایسے وقت میں ادا فرماتے تھے کہ دھوپ میرے کمرے میں ہوتی، ابھی دیواروں پر چڑھی نہ ہوتی۔
حدیث 408 — سنن أبي داود 2:18
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ قَالَ قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ فَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَصْرَ مَا دَامَتِ الشَّمْسُ بَيْضَاءَ نَقِيَّةً ‏.‏
علی بن شیبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ آئے تو دیکھا کہ آپ عصر کو مؤخر کرتے جب تک کہ سورج سفید اور صاف رہتا تھا۔
حدیث 409 — سنن أبي داود 2:19
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (2931) Sahih Muslim (627)
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ ‏ "‏ حَبَسُونَا عَنْ صَلاَةِ الْوُسْطَى صَلاَةِ الْعَصْرِ مَلأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا ‏"‏ ‏.‏
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے روز فرمایا: ہم کو انہوں نے ( یعنی کافروں نے ) نماز وسطیٰ ( یعنی عصر ) سے روکے رکھا، اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو جہنم کی آگ سے بھر دے ۔
حدیث 410 — سنن أبي داود 2:20
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (629)
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، مَوْلَى عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّهُ قَالَ أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا وَقَالَتْ إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الآيَةَ فَآذِنِّي ‏{‏ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَةِ الْوُسْطَى ‏}‏ فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا فَأَمْلَتْ عَلَىَّ ‏{‏ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَةِ الْوُسْطَى وَصَلاَةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ ‏}‏ ثُمَّ قَالَتْ عَائِشَةُ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
قعقاع بن حکیم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابویونس سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لیے ایک مصحف لکھوں اور کہا کہ جب تم آیت کریمہ: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين» پر پہنچنا تو مجھے بتانا، چنانچہ جب میں اس آیت پر پہنچا تو انہیں اس کی خبر دی، تو انہوں نے مجھ سے اسے یوں لکھوایا: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين‏» ‏‏‏‏ ۱؎ ۲؎، پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔