صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک مجلس میں تھا، ان لوگوں نے آپس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا، تو ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا …، پھر راوی نے اسی حدیث کا بعض حصہ ذکر کیا، اور کہا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو اپنی تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ۱۱۸۹۷ ) ( صحیح ) ( «ولا صافح بخدہ» کا جملہ صحیح نہیں ہے)
اس سند سے بھی محمد بن عمرو بن عطاء سے اسی طرح مروی ہے، اس میں ہے جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھتے، نہ ہی انہیں بچھاتے اور نہ ہی انہیں سمیٹے رکھتے، اور اپنی انگلیوں کے کناروں سے قبلہ کا استقبال کرتے ۔
عباس بن سہل ساعدی یا عیاش بن سہل ساعدی کہتے ہیں کہ وہ ایک مجلس میں تھے، جس میں ان کے والد بھی تھے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے، مجلس میں ابوہریرہ، ابو حمید ساعدی، اور ابواسید رضی اللہ عنہم بھی تھے، پھر انہوں نے یہی حدیث کچھ کمی و زیادتی کے ساتھ روایت کی، اس میں ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور «سمع الله لمن حمده اللهم ربنا لك الحمد» کہا، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر «الله اكبر» کہا اور سجدے میں گئے اور سجدے کی حالت میں اپنی دونوں ہتھیلیوں، گھٹنوں اور اپنے دونوں قدموں کے اگلے حصہ پر جمے رہے، پھر «الله اكبر» کہہ کر بیٹھے تو تورک کیا ( یعنی سرین پر بیٹھے ) اور اپنے دوسرے قدم کو کھڑا رکھا، پھر «الله اكبر» کہا اور سجدہ کیا، پھر «الله اكبر» کہا اور ( سجدہ سے اٹھ کر ) کھڑے ہو گئے، اور سرین پر نہیں بیٹھے ۔ پھر راوی عباس رضی اللہ عنہ نے ( آخر تک ) حدیث بیان کی اور کہا: پھر آپ دونوں رکعتوں کے بعد بیٹھے، یہاں تک کہ جب ( تیسری رکعت کے لیے ) اٹھنے کا قصد کیا تو «الله اكبر» کہتے ہوئے کھڑے ہو گئے، پھر بعد والی دونوں رکعتیں ادا کیں۔ اور راوی ( عیسیٰ بن عبداللہ ) نے تشہد میں تورک کا ذکر نہیں کیا ہے۔
عباس بن سہل بیان کرتے ہیں کہ ابوحمید، ابواسید، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم اکٹھے ہوئے اور آپس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا تو ابوحمید نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تم لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، پھر انہوں نے اس کے بعض حصے کا ذکر کیا اور کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو دونوں ہاتھ دونوں گھٹنے پر رکھا گویا آپ ان کو پکڑے ہوئے ہیں اور اپنے دونوں ہاتھوں کو کمان کی تانت کی طرح کیا اور انہیں اپنے دونوں پہلووں سے جدا رکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اپنی ناک اور پیشانی زمین پر جمائی اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنی دونوں بغلوں سے جدا رکھا اور اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل رکھیں، پھر اپنا سر اٹھایا یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آئی ( آپ نے ایسے ہی کیا ) یہاں تک کہ دوسری رکعت کے دونوں سجدوں سے فارغ ہو گئے پھر بیٹھے تو اپنا بایاں پیر بچھا لیا اور داہنے پیر کی انگلیاں قبلہ رخ کیں اور دائیں گھٹنے پر داہنی اور بائیں گھٹنے پر بائیں ہتھیلی رکھی اور اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو عتبہ بن ابوحکیم نے عبداللہ بن عیسٰی سے انہوں نے عباس بن سہل سے روایت کیا ہے، اور اس میں تورک کا ذکر نہیں کیا ہے، اور اسے فلیح کی حدیث کی طرح ( بغیر تورک کے ) ذکر کیا ہے، اور حسن بن حر نے فلیح بن سلیمان اور عتبہ کی حدیث میں مذکور بیٹھک کی طرح ذکر کیا۔
جناب عباس بن سہل ساعدی نے سیدنا ابوحمید ؓ سے یہ حدیث روایت کی اور کہا کہ جب سجدہ کیا تو اپنی رانوں کو کشادہ رکھا اور پیٹ کو رانوں سے نہ لگایا۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا: اور اس حدیث کو ابن مبارک نے روایت کیا تو کہا: «أخبرنا فليح سمعت عباس بن سهل يحدث» مگر میں اس کو یاد نہیں رکھ سکا، پس اس نے مجھے یہ حدیث بیان کی، میرا (ابن مبارک کا) خیال ہے کہ انہوں نے اپنے شیخ کا نام عیٰسی بن عبداللہ بتایا اور انہوں نے عباس بن سہل سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ میں ابو حمید ساعدی کے پاس حاضر تھا، اور یہ حدیث بیان کی۔
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو آپ کے دونوں گھٹنے آپ کی ہتھیلیوں سے پہلے زمین پر پڑے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے تو اپنی پیشانی کو اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان رکھا، اور اپنی دونوں بغلوں سے علیحدہ رکھا ۔ حجاج کہتے ہیں: ہمام نے کہا: مجھ سے شقیق نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: مجھ سے عاصم بن کلیب نے بیان کیا، عاصم نے اپنے والد کلیب سے، کلیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ ان دونوں میں سے کسی ایک کی حدیث میں، اور غالب گمان یہی ہے کہ محمد بن حجادہ کی حدیث میں یوں ہے: جب آپ سجدے سے اٹھے تو اپنے دونوں گھٹنوں پر اٹھے اور اپنی ران پر ٹیک لگایا ۔
حدیث 737 — سنن أبي داود 2:347
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْفَعُ إِبْهَامَيْهِ فِي الصَّلاَةِ إِلَى شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ .
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں اپنے دونوں انگوٹھے اپنے دونوں کانوں کی لو تک اٹھاتے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے تکبیر تحریمہ کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل کرتے، اور جب رکوع کرتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور جب رکوع سے سجدے میں جانے کے لیے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور جب دو رکعت پڑھ کر ( تیسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوتے تو بھی اسی طرح کرتے۔
قتیبہ بن سعید اپنی سند سے میمون مکی سے راوی ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اشارے کرتے تھے (یعنی رفع یدین کرتے تھے)۔ جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے، جب رکوع کرتے، جب سجدہ کرتے اور جب قیام کے لیے اٹھتے اور قیام کرتے تو اپنے ہاتھوں سے اشارے کرتے تھے۔ چنانچہ میں سیدنا ابن عباس ؓ کے پاس گیا اور انہیں کہا کہ میں نے ابن زبیر کو اس طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے کہ ان کی طرح کسی اور کو نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا اور انہیں ان اشاروں (رفع یدین) کی تفصیل بتائی تو سیدنا ابن عباس ؓ نے جواباً کہا: اگر تم رسول اللہ ﷺ کی نماز دیکھنا پسند کرتے ہو، تو سیدنا عبداللہ بن زبیر ؓ کی نماز کی اقتداء کرو۔
نضر بن کثیر بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن طاؤس نے مسجد خیف میں میرے بغل میں نماز پڑھی، جب آپ نے پہلا سجدہ کیا، اور اس سے اپنا سر اٹھایا تو اپنے چہرے کے بالمقابل انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے تو مجھے یہ عجیب سا لگا، چنانچہ میں نے وہیب بن خالد سے اس کا تذکرہ کیا تو وہیب نے عبداللہ بن طاؤس سے کہا: آپ ایک ایسا کام کر رہے ہیں جسے میں نے کسی کو کرتے ہوئے نہیں دیکھا؟ ! تو عبداللہ بن طاؤس نے کہا: میں نے اپنے والد کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے، وہ کہتے تھے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ایسا کرتے دیکھا، اور ان کے متعلق بھی مجھے یہی معلوم ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے تھے۔