قرآني·Qurani
اردو

الصلاة

770 احادیث · #391–1160

حدیث 921 — سنن أبي داود 2:532
صحیحصحیححسن Sahihصحیح
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اقْتُلُوا الأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلاَةِ الْحَيَّةَ وَالْعَقْرَبَ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں دونوں کالوں ( یعنی ) سانپ اور بچھو کو ( اگر دیکھو تو ) قتل کر ڈالو ۔
حدیث 922 — سنن أبي داود 2:533
حسنحسنحسنضعیف
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، - وَهَذَا لَفْظُهُ - قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ - حَدَّثَنَا بُرْدٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ أَحْمَدُ - يُصَلِّي وَالْبَابُ عَلَيْهِ مُغْلَقٌ فَجِئْتُ فَاسْتَفْتَحْتُ - قَالَ أَحْمَدُ - فَمَشَى فَفَتَحَ لِي ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مُصَلاَّهُ ‏.‏ وَذَكَرَ أَنَّ الْبَابَ كَانَ فِي الْقِبْلَةِ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، دروازہ بند تھا تو میں آئی اور دروازہ کھلوانا چاہا تو آپ نے ( حالت نماز میں ) چل کر میرے لیے دروازہ کھولا اور مصلی ( نماز کی جگہ ) پر واپس لوٹ گئے ۱؎۔ اور عروہ نے ذکر کیا کہ آپ کے گھر کا دروازہ قبلہ کی سمت میں تھا۔
حدیث 923 — سنن أبي داود 2:534
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (1199) Sahih Muslim (538)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي الصَّلاَةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا وَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ فِي الصَّلاَةِ لَشُغْلاً ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے اس حال میں کہ آپ نماز میں ہوتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سلام کا جواب دیتے تھے، لیکن جب ہم نجاشی ( بادشاہ حبشہ ) کے پاس سے لوٹ کر آئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا اور فرمایا: نماز ( خود ) ایک شغل ہے ۔
حدیث 924 — سنن أبي داود 2:535
حسن Sahihحسن SahihحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا نُسَلِّمُ فِي الصَّلاَةِ وَنَأْمُرُ بِحَاجَتِنَا فَقَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَىَّ السَّلاَمَ فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدُثَ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصَّلاَةَ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ وَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ قَدْ أَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ أَنْ لاَ تَكَلَّمُوا فِي الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَرَدَّ عَلَىَّ السَّلاَمَ ‏.‏
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( پہلے ) ہم نماز میں سلام کیا کرتے تھے اور کام کاج کی باتیں کر لیتے تھے، تو ( ایک بار ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا تو مجھے پرانی اور نئی باتوں کی فکر دامن گیر ہو گئی ۱؎، جب آپ نماز پڑھ چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے، نیا حکم نازل کرتا ہے، اب اس نے نیا حکم یہ دیا ہے کہ نماز میں باتیں نہ کرو ، پھر آپ نے میرے سلام کا جواب دیا۔
حدیث 925 — سنن أبي داود 2:536
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ اللَّيْثَ، حَدَّثَهُمْ عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ نَابِلٍ، صَاحِبِ الْعَبَاءِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ صُهَيْبٍ، أَنَّهُ قَالَ مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ إِشَارَةً ‏.‏ قَالَ وَلاَ أَعْلَمُهُ إِلاَّ قَالَ إِشَارَةً بِأُصْبُعِهِ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ ‏.‏
صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اس حال میں آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اشارہ سے سلام کا جواب دیا۔ نابل کہتے ہیں: مجھے یہی معلوم ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے«إشارة بأصبعه» کا لفظ کہا ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کے اشارہ سے سلام کا جواب دیا، یہ قتیبہ کی روایت کے الفاظ ہیں۔
حدیث 926 — سنن أبي داود 2:537
صحیحصحیحصحیح Muslim (540)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَرْسَلَنِي نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى بَعِيرِهِ فَكَلَّمْتُهُ فَقَالَ لِي بِيَدِهِ هَكَذَا ثُمَّ كَلَّمْتُهُ فَقَالَ لِي بِيَدِهِ هَكَذَا وَأَنَا أَسْمَعُهُ يَقْرَأُ وَيُومِئُ بِرَأْسِهِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ ‏ "‏ مَا فَعَلْتَ فِي الَّذِي أَرْسَلْتُكَ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ إِلاَّ أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي ‏"‏ ‏.‏
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بنی مصطلق کے پاس بھیجا، میں ( وہاں سے ) لوٹ کر آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ سے بات کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہاتھ سے اس طرح سے اشارہ کیا، میں نے پھر آپ سے بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا یعنی خاموش رہنے کا حکم دیا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآت کرتے سن رہا تھا اور آپ اپنے سر سے اشارہ فرما رہے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: میں نے تم کو جس کام کے لیے بھیجا تھا اس سلسلے میں تم نے کیا کیا؟، میں نے تم سے بات اس لیے نہیں کی کہ میں نماز پڑھ رہا تھا ۔
حدیث 927 — سنن أبي داود 2:538
حسن Sahihحسن Sahihحسنصحیح
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْخُرَاسَانِيُّ الدَّامَغَانِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى قُبَاءَ يُصَلِّي فِيهِ - قَالَ - فَجَاءَتْهُ الأَنْصَارُ فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ لِبِلاَلٍ كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرُدُّ عَلَيْهِمْ حِينَ كَانُوا يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي قَالَ يَقُولُ هَكَذَا وَبَسَطَ كَفَّهُ ‏.‏ وَبَسَطَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ كَفَّهُ وَجَعَلَ بَطْنَهُ أَسْفَلَ وَجَعَلَ ظَهْرَهُ إِلَى فَوْقٍ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لیے قباء گئے، تو آپ کے پاس انصار آئے اور انہوں نے حالت نماز میں آپ کو سلام کیا، وہ کہتے ہیں: تو میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: جب انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت نماز میں سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح جواب دیتے ہوئے دیکھا؟ بلال رضی اللہ عنہ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کر رہے تھے، اور بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی ہتھیلی کو پھیلائے ہوئے تھے، جعفر بن عون نے اپنی ہتھیلی پھیلا کر اس کو نیچے اور اس کی پشت کو اوپر کر کے بتایا۔
حدیث 928 — سنن أبي داود 2:539
صحیحصحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ غِرَارَ فِي صَلاَةٍ وَلاَ تَسْلِيمٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَحْمَدُ يَعْنِي فِيمَا أُرَى أَنْ لاَ تُسَلِّمَ وَلاَ يُسَلَّمَ عَلَيْكَ وَيُغَرِّرُ الرَّجُلُ بِصَلاَتِهِ فَيَنْصَرِفُ وَهُوَ فِيهَا شَاكٌّ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں نقصان اور کمی نہیں ہے اور نہ سلام میں ہے ۱؎ ، احمد کہتے ہیں: جہاں تک میں سمجھتا ہوں مطلب یہ ہے کہ ( نماز میں ) نہ تو تم کسی کو سلام کرو اور نہ تمہیں کوئی سلام کرے اور نماز میں نقصان یہ ہے کہ آدمی نماز سے اس حال میں پلٹے کہ وہ اس میں شک کرنے والا ہو۔
حدیث 929 — سنن أبي داود 2:540
صحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ - أُرَاهُ رَفَعَهُ - قَالَ ‏ "‏ لاَ غِرَارَ فِي تَسْلِيمٍ وَلاَ صَلاَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ ابْنُ فُضَيْلٍ عَلَى لَفْظِ ابْنِ مَهْدِيٍّ وَلَمْ يَرْفَعْهُ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ سلام میں نقص ہے اور نہ نماز میں ۔ معاویہ بن ہشام کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ سفیان نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ابن فضیل نے ابن مہدی کی طرح «لا غرار في تسليم ولا صلاة‏‏» کے لفظ کے ساتھ روایت کی ہے اور اس کو مرفوع نہیں کہا ہے ( بلکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول بتایا ہے ) ۔
حدیث 930 — سنن أبي داود 2:541
صحیحصحیحصحیح Muslim (537)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - الْمَعْنَى - عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقُلْتُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ فَقُلْتُ وَاثُكْلَ أُمِّيَاهُ مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَىَّ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ يُصَمِّتُونِي - فَقَالَ عُثْمَانُ - فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُسَكِّتُونِي لَكِنِّي سَكَتُّ قَالَ فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - بِأَبِي وَأُمِّي - مَا ضَرَبَنِي وَلاَ كَهَرَنِي وَلاَ سَبَّنِي ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّ هَذِهِ الصَّلاَةَ لاَ يَحِلُّ فِيهَا شَىْءٌ مِنْ كَلاَمِ النَّاسِ هَذَا إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَوْمٌ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَقَدْ جَاءَنَا اللَّهُ بِالإِسْلاَمِ وَمِنَّا رِجَالٌ يَأْتُونَ الْكُهَّانَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلاَ تَأْتِهِمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ وَمِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ذَاكَ شَىْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ فَلاَ يَصُدُّهُمْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ جَارِيَةٌ لِي كَانَتْ تَرْعَى غُنَيْمَاتٍ قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ إِذِ اطَّلَعْتُ عَلَيْهَا إِطْلاَعَةً فَإِذَا الذِّئْبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْهَا وَأَنَا مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ لَكِنِّي صَكَكْتُهَا صَكَّةً فَعَظَّمَ ذَاكَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ أَفَلاَ أُعْتِقُهَا قَالَ ‏"‏ ائْتِنِي بِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَجِئْتُهُ بِهَا فَقَالَ ‏"‏ أَيْنَ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فِي السَّمَاءِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَنْ أَنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ ‏"‏ ‏.‏
معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، قوم میں سے ایک شخص کو چھینک آئی تو میں نے ( حالت نماز میں ) «يرحمك الله» کہا، اس پر لوگ مجھے گھورنے لگے، میں نے ( اپنے دل میں ) کہا: تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں، تم لوگ مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟ اس پر لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے رانوں کو تھپتھپانا شروع کر دیا تو میں سمجھ گیا کہ یہ لوگ مجھے خاموش رہنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرا رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا، میرے ماں باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو نہ تو آپ نے مجھے مارا، نہ ڈانٹا، نہ برا بھلا کہا، صرف اتنا فرمایا: نماز میں اس طرح بات چیت درست نہیں، یہ تو بس تسبیح، تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہے ، یا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ( ابھی ) نیا نیا مسلمان ہوا ہوں، اللہ تعالیٰ نے ہم کو ( جاہلیت اور کفر سے نجات دے کر ) دین اسلام سے مشرف فرمایا ہے، ہم میں سے بعض لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کے پاس مت جاؤ ۔ میں نے کہا: ہم میں سے بعض لوگ بد شگونی لیتے ہیں؟ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ان کے دلوں کا وہم ہے، یہ انہیں ان کے کاموں سے نہ روکے ۔ پھر میں نے کہا: ہم میں سے کچھ لوگ لکیر ( خط ) کھینچتے ہیں؟ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نبیوں میں سے ایک نبی خط ( لکیریں ) کھینچا کرتے تھے، اب جس کسی کا خط ان کے خط کے موافق ہوا، وہ صحیح ہے ۔ میں نے کہا: میرے پاس ایک لونڈی ہے، جو احد اور جوانیہ کے پاس بکریاں چراتی تھی، ایک بار میں ( اچانک ) پہنچا تو دیکھا کہ بھیڑیا ایک بکری کو لے کر چلا گیا ہے، میں بھی انسان ہوں، مجھے افسوس ہوا جیسے اور لوگوں کو افسوس ہوتا ہے تو میں نے اسے ایک زور کا طمانچہ رسید کر دیا تو یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گراں گزری، میں نے عرض کیا: کیا میں اس لونڈی کو آزاد نہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے میرے پاس لے کر آؤ ، میں اسے لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس لونڈی سے ) پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ ، اس نے کہا: آسمان کے اوپر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: میں کون ہوں؟ ، اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے آزاد کر دو یہ مؤمنہ ہے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔