قرآني·Qurani
اردو

الصلاة

770 احادیث · #391–1160

حدیث 1041 — سنن أبي داود 2:652
حسن Sahihحسن Sahihصحیح LighairihiIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ، - رَجُلٍ مِنْ طَيِّئٍ - عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ يَنْصَرِفُ عَنْ شِقَّيْهِ ‏.‏
ہلب طائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز سے فارغ ہو کر ) اپنے دونوں جانب سے پلٹتے تھے ( کبھی دائیں طرف سے اور کبھی بائیں طرف سے ) ۔
حدیث 1042 — سنن أبي داود 2:653
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (852) Sahih Muslim (707)
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لاَ يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ نَصِيبًا لِلشَّيْطَانِ مِنْ صَلاَتِهِ أَنْ لاَ يَنْصَرِفَ إِلاَّ عَنْ يَمِينِهِ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَكْثَرَ مَا يَنْصَرِفُ عَنْ شِمَالِهِ ‏.‏ قَالَ عُمَارَةُ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ بَعْدُ فَرَأَيْتُ مَنَازِلَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنْ يَسَارِهِ ‏.‏
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز کا کچھ حصہ شیطان کے لیے نہ بنائے کہ وہ صرف دائیں طرف ہی سے پلٹے، حال یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ اکثر بائیں طرف سے پلٹتے تھے، عمارہ کہتے ہیں: اس کے بعد میں مدینہ آیا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کو ( بحالت نماز ) آپ کے بائیں جانب دیکھا ۱؎۔
حدیث 1043 — سنن أبي داود 2:654
صحیحصحیحصحیح Bukhari (432) Sahih Muslim (777)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اجْعَلُوا فِي بُيُوتِكُمْ مِنْ صَلاَتِكُمْ وَلاَ تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنی بعض نمازیں اپنے گھروں میں پڑھا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ ۔
حدیث 1044 — سنن أبي داود 2:655
صحیحصحیحصحیح Bukhari (6113) Sahih Muslim (781)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ صَلاَةُ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ أَفْضَلُ مِنْ صَلاَتِهِ فِي مَسْجِدِي هَذَا إِلاَّ الْمَكْتُوبَةَ ‏"‏ ‏.‏
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی نماز اس کے اپنے گھر میں اس کی میری اس مسجد میں نماز سے افضل ہے سوائے فرض نماز کے ۔
حدیث 1045 — سنن أبي داود 2:656
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (527)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابَهُ كَانُوا يُصَلُّونَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ ‏}‏ فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ فَنَادَاهُمْ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ أَلاَ إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ إِلَى الْكَعْبَةِ مَرَّتَيْنِ فَمَالُوا كَمَا هُمْ رُكُوعٌ إِلَى الْكَعْبَةِ ‏.‏
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے، جب آیت کریمہ: «فول وجهك شطر المسجدالحرام وحيث ما كنتم فولوا وجوهكم شطره» یعنی اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیں اور آپ جہاں کہیں ہوں اپنا منہ اسی طرف پھیرا کریں ( سورۃ البقرہ: ۱۵۰ ) نازل ہوئی تو قبیلہ بنو سلمہ کا ایک شخص لوگوں کے پاس سے ہو کر گزرا اس حال میں کہ وہ لوگ نماز فجر میں رکوع میں تھے اور بیت المقدس کی طرف رخ کئے ہوئے تھے تو اس نے انہیں دو بار آواز دی: لوگو! آگاہ ہو جاؤ، قبلہ کعبہ کی طرف بدل دیا گیا ہے ( یہ حکم سنتے ہی ) لوگ حالت رکوع ہی میں کعبہ کی طرف پھر گئے۔
حدیث 1046 — سنن أبي داود 2:657
صحیحصحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُهْبِطَ وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ وَفِيهِ مَاتَ وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلاَّ وَهِيَ مُسِيخَةٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينَ تُصْبِحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلاَّ الْجِنَّ وَالإِنْسَ وَفِيهِ سَاعَةٌ لاَ يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ حَاجَةً إِلاَّ أَعْطَاهُ إِيَّاهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ كَعْبٌ ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ ‏.‏ فَقُلْتُ بَلْ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ ‏.‏ قَالَ فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ فَقَالَ صَدَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلاَمٍ فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْبٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ لَهُ فَأَخْبِرْنِي بِهَا ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ‏.‏ فَقُلْتُ كَيْفَ هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي ‏"‏ ‏.‏ وَتِلْكَ السَّاعَةُ لاَ يُصَلَّى فِيهَا ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ فَهُوَ فِي صَلاَةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ بَلَى ‏.‏ قَالَ هُوَ ذَاكَ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہتر دن جس میں سورج طلوع ہوا جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا لیے گئے، اسی دن وہ زمین پر اتارے گئے، اسی دن ان کی توبہ قبول کی گئی، اسی دن ان کا انتقال ہوا، اور اسی دن قیامت برپا ہو گی، انس و جن کے علاوہ سبھی جاندار جمعہ کے دن قیامت برپا ہونے کے ڈر سے صبح سے سورج نکلنے تک کان لگائے رہتے ہیں، اس میں ایک ساعت ( گھڑی ) ایسی ہے کہ اگر کوئی مسلمان بندہ نماز پڑھتے ہوئے اس گھڑی کو پا لے، پھر اللہ تعالیٰ سے اپنی کسی ضرورت کا سوال کرے تو اللہ اس کو ( ضرور ) دے گا ۔ کعب الاحبار نے کہا: یہ ساعت ( گھڑی ) ہر سال میں کسی ایک دن ہوتی ہے تو میں نے کہا: نہیں بلکہ ہر جمعہ میں ہوتی ہے پھر کعب نے تورات پڑھی اور کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملا، اور کعب کے ساتھ اپنی اس مجلس کے متعلق انہیں بتایا تو آپ نے کہا: وہ کون سی ساعت ہے؟ مجھے معلوم ہے، میں نے ان سے کہا: اسے مجھے بھی بتائیے تو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ( گھڑی ) ہے، میں نے عرض کیا: وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ( گھڑی ) کیسے ہو سکتی ہے؟ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: کوئی مسلمان بندہ اس وقت کو اس حال میں پائے کہ وہ نماز پڑھ رہا ہو ، اور اس وقت میں نماز تو نہیں پڑھی جاتی ہے تو اس پر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا رہے، وہ حکماً نماز ہی میں رہتا ہے جب تک کہ وہ نماز نہ پڑھ لے ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: کیوں نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا ہے، انہوں نے کہا: تو اس سے مراد یہی ہے ۱؎۔
حدیث 1047 — سنن أبي داود 2:658
صحیحصحیحصحیح Lighairihiضعیف
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ قُبِضَ وَفِيهِ النَّفْخَةُ وَفِيهِ الصَّعْقَةُ فَأَكْثِرُوا عَلَىَّ مِنَ الصَّلاَةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلاَتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَىَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلاَتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرِمْتَ يَقُولُونَ بَلِيتَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَى الأَرْضِ أَجْسَادَ الأَنْبِيَاءِ ‏"‏ ‏.‏
اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے سب سے بہتر دنوں میں سے جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا کئے گئے، اسی دن ان کی روح قبض کی گئی، اسی دن صور پھونکا جائے گا اسی دن چیخ ہو گی ۱؎ اس لیے تم لوگ اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے ۔ اوس بن اوس کہتے ہیں: لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا جب کہ آپ ( مر کر ) بوسیدہ ہو چکے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین پر پیغمبروں کے بدن کو حرام کر دیا ہے ۔
حدیث 1048 — سنن أبي داود 2:659
صحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - أَنَّ الْجُلاَحَ، مَوْلَى عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ثِنْتَا عَشْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ يُرِيدُ سَاعَةً ‏"‏ لاَ يُوجَدُ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا إِلاَّ آتَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَالْتَمِسُوهَا آخِرَ سَاعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ ‏"‏ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کا دن بارہ ساعت ( گھڑی ) کا ہے، اس میں ایک ساعت ( گھڑی ) ایسی ہے کہ کوئی مسلمان اس ساعت کو پا کر اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے تو اللہ اسے ضرور دیتا ہے، لہٰذا تم اسے عصر کے بعد آخری ساعت ( گھڑی ) میں تلاش کرو ۔
حدیث 1049 — سنن أبي داود 2:660
ضعیفضعیفصحیح Muslim (853)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، - يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَسَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي شَأْنِ الْجُمُعَةِ يَعْنِي السَّاعَةَ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ هِيَ مَا بَيْنَ أَنْ يَجْلِسَ الإِمَامُ إِلَى أَنْ تُقْضَى الصَّلاَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي عَلَى الْمِنْبَرِ ‏.‏
ابوبردہ بن ابی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا: کیا تم نے اپنے والد سے جمعہ کے معاملہ میں یعنی قبولیت دعا والی گھڑی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہوئے کچھ سنا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، میں نے سنا ہے، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ وہ ( ساعت ) امام کے بیٹھنے سے لے کر نماز کے ختم ہونے کے درمیان ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی منبر پر ( بیٹھنے سے لے کر ) ۔
حدیث 1050 — سنن أبي داود 2:661
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (758)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر جمعہ کے لیے آئے اور غور سے خطبہ سنے اور خاموش رہے تو اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے گناہ ۱؎ بخش دئیے جائیں گے اور جس نے کنکریاں ہٹائیں تو اس نے لغو حرکت کی ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔