عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عید الفطر کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں ہیں، اور دونوں میں قرأت تکبیر ( زوائد ) کے بعد ہے ۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہتے تھے پھر قرأت کرتے پھر الله أكبر کہتے پھر ( دوسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوتے تو چار تکبیریں کہتے پھر قرأت کرتے پھر رکوع کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے وکیع اور ابن مبارک نے بھی روایت کیا ہے، ان دونوں نے سات اور پانچ تکبیریں نقل کی ہیں۔
مکحول کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہم نشیں ابوعائشہ نے مجھے خبر دی ہے کہ سعید بن العاص نے ابوموسیٰ اشعری اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر میں کیسے تکبیریں کہتے تھے؟ تو ابوموسیٰ نے کہا: چار تکبیریں کہتے تھے جنازہ کی چاروں تکبیروں کی طرح، یہ سن کر حذیفہ نے کہا: انہوں نے سچ کہا، اس پر ابوموسیٰ نے کہا: میں اتنی ہی تکبیریں بصرہ میں کہا کرتا تھا، جہاں پر میں حاکم تھا، ابوعائشہ کہتے ہیں: اس ( گفتگو کے وقت ) میں سعید بن العاص کے پاس موجود تھا۔
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابوواقد الیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر میں کون سی سورت پڑھتے تھے؟ آپ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں «ق والقرآن المجيد» اور «اقتربت الساعة وانشق القمر» پڑھتے تھے۔
حدیث 1155 — سنن أبي داود 2:766
صحیحصحیحIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّيْنَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعِيدَ فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ قَالَ " إِنَّا نَخْطُبُ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَجْلِسَ لِلْخُطْبَةِ فَلْيَجْلِسْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَذْهَبَ فَلْيَذْهَبْ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا مُرْسَلٌ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں حاضر ہوا تو جب آپ نماز پڑھ چکے تو فرمایا: ہم خطبہ دیں گے تو جو شخص خطبہ سننے کے لیے بیٹھنا چاہے بیٹھے اور جو جانا چاہے جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل ہے، عطا نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
حدیث 1156 — سنن أبي داود 2:767
صحیحصحیححسن Lighairihiحسن
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ - عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخَذَ يَوْمَ الْعِيدِ فِي طَرِيقٍ ثُمَّ رَجَعَ فِي طَرِيقٍ آخَرَ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن ایک راستے سے گئے پھر دوسرے راستے سے واپس آئے۔
حدیث 1157 — سنن أبي داود 2:768
صحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عُمُومَةٍ، لَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَكْبًا جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَشْهَدُونَ أَنَّهُمْ رَأَوُا الْهِلاَلَ بِالأَمْسِ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يُفْطِرُوا وَإِذَا أَصْبَحُوا أَنْ يَغْدُوا إِلَى مُصَلاَّهُمْ .
ابو عمیر بن انس کے ایک چچا سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں، روایت ہے کہ کچھ سوار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ گواہی دے رہے تھے کہ کل انہوں نے چاند دیکھا ہے، تو آپ نے انہیں افطار کرنے اور دوسرے دن صبح ہوتے ہی اپنی عید گاہ جانے کا حکم دیا۔
حدیث 1158 — سنن أبي داود 2:769
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا حَمْزَةُ بْنُ نُصَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ، أَخْبَرَنِي أُنَيْسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ سَالِمٍ، مَوْلَى نَوْفَلِ بْنِ عَدِيٍّ أَخْبَرَنِي بَكْرُ بْنُ مُبَشِّرٍ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ كُنْتُ أَغْدُو مَعَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمُصَلَّى يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الأَضْحَى فَنَسْلُكُ بَطْنَ بَطْحَانَ حَتَّى نَأْتِيَ الْمُصَلَّى فَنُصَلِّيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ نَرْجِعُ مِنْ بَطْنِ بَطْحَانَ إِلَى بُيُوتِنَا .
بکر بن مبشر انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں عید الفطر اور عید الاضحی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے ساتھ عید گاہ جاتا تھا تو ہم وادی بطحان سے ہو کر جاتے یہاں تک کہ عید گاہ پہنچتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے پھر اسی وادی بطحان سے ہی اپنے گھر واپس آتے تھے ۱؎۔
حدیث 1159 — سنن أبي داود 2:770
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (964) Sahih Muslim (884 After 890)
سیدنا بکر بن مبشر انصاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں اصحاب رسول ﷺ کی معیت میں عید الفطر اور عید الاضحی کے روز عید گاہ کو جایا کرتا تھا۔ ہم لوگ وادی بطحان کے بطن سے گزرتے تھے، حتیٰ کہ عید گاہ میں پہنچ جاتے، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے پھر اسی وادی بطحان کے بطن سے گزر کر واپس اپنے گھروں کو لوٹ آیا کرتے تھے۔