حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ فَلَمْ يَعْتَكِفْ عَامًا فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ اعْتَكَفَ عِشْرِينَ لَيْلَةً .
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے، ایک سال ( کسی وجہ سے ) اعتکاف نہیں کر سکے تو اگلے سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس رات کا اعتکاف کیا۔
حدیث 2464 — سنن أبي داود 14:152
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (2033) Sahih Muslim (1173)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کرنے کا ارادہ کرتے تو فجر پڑھ کر اعتکاف کی جگہ جاتے، ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنے کا ارادہ فرمایا، تو خیمہ لگانے کا حکم دیا، خیمہ لگا دیا گیا، جب میں نے اسے دیکھا تو اپنے لیے بھی خیمہ لگانے کا حکم دیا، اسے بھی لگایا گیا، نیز میرے علاوہ دیگر ازواج مطہرات نے بھی خیمہ لگانے کا حکم دیا تو لگایا گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھی تو ان خیموں پر آپ کی نگاہ پڑی آپ نے پوچھا: یہ کیا ہیں؟ کیا تمہارا مقصد اس سے نیکی کا ہے؟ ۱؎، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نیز اپنی ازواج کے خیموں کے توڑ دینے کا حکم فرمایا، اور اعتکاف شوال کے پہلے عشرہ تک کے لیے مؤخر کر دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن اسحاق اور اوزاعی نے یحییٰ بن سعید سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اسے مالک نے بھی یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے اس میں ہے آپ نے شوال کی بیس تاریخ کو اعتکاف کیا۔
حدیث 2465 — سنن أبي داود 14:153
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (2025) Sahih Muslim (1171)
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، أَنَّ نَافِعًا، أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ . قَالَ نَافِعٌ وَقَدْ أَرَانِي عَبْدُ اللَّهِ الْمَكَانَ الَّذِي يَعْتَكِفُ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمَسْجِدِ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے۔ نافع کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عمر نے مجھے مسجد کے اندر وہ جگہ دکھائی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کیا کرتے تھے۔
حدیث 2466 — سنن أبي داود 14:154
حسن Sahihحسن Sahihصحیحصحیح Bukhari (2044)
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعْتَكِفُ كُلَّ رَمَضَانَ عَشَرَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ اعْتَكَفَ عِشْرِينَ يَوْمًا .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں دس دن اعتکاف کرتے تھے، لیکن جس سال آپ کا انتقال ہوا اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں ہوتے تو ( مسجد ہی سے ) اپنا سر میرے قریب کر دیتے اور میں اس میں کنگھی کر دیتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کسی انسانی ضرورت ہی کے پیش نظر داخل ہوتے تھے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے اندر اعتکاف کی حالت میں ہوتے تو حجرے کے کسی جھروکے سے اپنا سر میری طرف کر دیتے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر دھو دیتی، کنگھی کر دیتی، اور میں حیض سے ہوتی تھی۔
حدیث 2470 — سنن أبي داود 14:158
صحیحصحیحصحیح Bukhari (3281) Sahih Muslim (2175)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَبُّويَةَ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ صَفِيَّةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُعْتَكِفًا فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلاً فَحَدَّثْتُهُ ثُمَّ قُمْتُ فَانْقَلَبْتُ فَقَامَ مَعِي لِيَقْلِبَنِي - وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ - فَمَرَّ رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَسْرَعَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ " . قَالاَ سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ فَخَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا " . أَوْ قَالَ " شَرًّا " .
ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معتکف تھے تو میں رات میں ملاقات کی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے بات چیت کی، پھر میں کھڑی ہو کر چلنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھے واپس کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے، ( اس وقت ان کی رہائش اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے مکان میں تھی ) اتنے میں دو انصاری وہاں سے گزرے، وہ آپ کو دیکھ کر تیزی سے نکلنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی ( میری بیوی ) ہے ( ایسا نہ ہو کہ تمہیں کوئی غلط فہمی ہو جائے ) ، وہ بولے: سبحان اللہ! اللہ کے رسول! ( آپ کے متعلق ایسی بدگمانی ہو ہی نہیں سکتی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دل میں کچھ ( یا کہا: کوئی شر ) نہ ڈال دے ۔
زہری سے اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے جس میں ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے اس دروازے پر پہنچے جو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس ہے تو ان کے قریب سے دو شخص گزرے ، اور پھر اسی مفہوم کی حدیث بیان کی ۔
حدیث 2472 — سنن أبي داود 14:160
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - قَالَ النُّفَيْلِيُّ - قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَمُرُّ بِالْمَرِيضِ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فَيَمُرُّ كَمَا هُوَ وَلاَ يُعَرِّجُ يَسْأَلُ عَنْهُ . وَقَالَ ابْنُ عِيسَى قَالَتْ إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعُودُ الْمَرِيضَ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت اعتکاف میں مریض کے پاس سے عیادت کرتے ہوئے گزر جاتے جس طرح کے ہوتے اور ٹھہرتے نہیں بغیر ٹھہرتے اس کا حال پوچھتے۔