قرآني·Qurani
اردو

الصيام

164 احادیث · #2313–2476

حدیث 2373 — سنن أبي داود 14:61
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی ( پچھنا ) لگوایا، آپ روزے سے تھے اور احرام باندھے ہوئے تھے ۱؎۔
حدیث 2374 — سنن أبي داود 14:62
صحیحصحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي رَجُلٌ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْحِجَامَةِ وَالْمُوَاصَلَةِ وَلَمْ يُحَرِّمْهُمَا إِبْقَاءً عَلَى أَصْحَابِهِ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُوَاصِلُ إِلَى السَّحَرِ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ إِنِّي أُوَاصِلُ إِلَى السَّحَرِ وَرَبِّي يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِي ‏"‏ ‏.‏
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص نے بیان کیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حالت روزے میں ) سینگی لگوانے اور مسلسل روزے رکھنے سے منع فرمایا، لیکن اپنے اصحاب کی رعایت کرتے ہوئے اسے حرام قرار نہیں دیا، آپ سے کہا گیا: اللہ کے رسول! آپ تو بغیر کھائے پیئے سحر تک روزہ رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سحر تک روزے کو جاری رکھتا ہوں اور مجھے میرا رب کھلاتا پلاتا ہے ۔
حدیث 2375 — سنن أبي داود 14:63
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ - عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ قَالَ أَنَسٌ مَا كُنَّا نَدَعُ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِمِ إِلاَّ كَرَاهِيَةَ الْجَهْدِ ‏.‏
ثابت کہتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم روزے دار کو صرف مشقت کے پیش نظر سینگی ( پچھنا ) نہیں لگانے دیتے تھے۔
حدیث 2376 — سنن أبي داود 14:64
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِهِ عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يُفْطِرُ مَنْ قَاءَ وَلاَ مَنِ احْتَلَمَ وَلاَ مَنِ احْتَجَمَ ‏"‏ ‏.‏
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قے کی اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا، اور نہ اس شخص کا جس کو احتلام ہو گیا، اور نہ اس شخص کا جس نے پچھنا لگایا ۔
حدیث 2377 — سنن أبي داود 14:65
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ هَوْذَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ أَمَرَ بِالإِثْمِدِ الْمُرَوَّحِ عِنْدَ النَّوْمِ وَقَالَ ‏ "‏ لِيَتَّقِهِ الصَّائِمُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ لِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ هُوَ حَدِيثٌ مُنْكَرٌ يَعْنِي حَدِيثَ الْكَحْلِ ‏.‏
معبد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک ملا ہوا سرمہ سوتے وقت لگانے کا حکم دیا اور فرمایا: روزہ دار اس سے پرہیز کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھ سے یحییٰ بن معین نے کہا کہ یہ یعنی سرمہ والی حدیث منکر ہے۔
حدیث 2378 — سنن أبي داود 14:66
حسنحسنضعیف
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ كَانَ يَكْتَحِلُ وَهُوَ صَائِمٌ ‏.‏
عبیداللہ بن ابی بکر بن انس کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سرمہ لگاتے تھے اور روزے سے ہوتے تھے۔
حدیث 2379 — سنن أبي داود 14:67
حسنحسنحسن Maqtuضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِنَا يَكْرَهُ الْكَحْلَ لِلصَّائِمِ وَكَانَ إِبْرَاهِيمُ يُرَخِّصُ أَنْ يَكْتَحِلَ الصَّائِمُ بِالصَّبِرِ ‏.‏
اعمش کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی روزے دار کے سرمہ لگانے کو ناپسند کرتے نہیں دیکھا اور ابراہیم نخعی روزے دار کو «صبر» ( ایک قسم کا سرمہ ہے ) کے سرمے کی اجازت دیتے تھے۔
حدیث 2380 — سنن أبي داود 14:68
صحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ ذَرَعَهُ قَىْءٌ وَهُوَ صَائِمٌ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ وَإِنِ اسْتَقَاءَ فَلْيَقْضِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ أَيْضًا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ هِشَامٍ مِثْلَهُ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو قے ہو جائے اور وہ روزے سے ہو تو اس پر قضاء نہیں، ہاں اگر اس نے قصداً قے کی تو قضاء کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حفص بن غیاث نے بھی ہشام سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
حدیث 2381 — سنن أبي داود 14:69
صحیحصحیحصحیحIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، عَنْ يَحْيَى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ، أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَاءَ فَأَفْطَرَ فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَقُلْتُ إِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ حَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَاءَ فَأَفْطَرَ ‏.‏ قَالَ صَدَقَ وَأَنَا صَبَبْتُ لَهُ وَضُوءَهُ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
معدان بن طلحہ کا بیان ہے کہ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قے ہوئی تو آپ نے روزہ توڑ ڈالا، اس کے بعد دمشق کی مسجد میں میری ملاقات ثوبان رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے کہا کہ ابوالدرداء نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قے ہو گئی تو آپ نے روزہ توڑ دیا اس پر ثوبان نے کہا: ابوالدرداء نے سچ کہا اور میں نے ہی ( اس وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی ڈالا تھا۔
حدیث 2382 — سنن أبي داود 14:70
صحیحصحیححسن Sahihصحیح Bukhari (1927) Sahih Muslim (1106)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَ لإِرْبِهِ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے اور چمٹ کر سوتے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش پر سب سے زیادہ قابو رکھنے والے تھے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔