قرآني·Qurani
اردو

الضحايا

56 احادیث · #2788–2843

حدیث 2838 — سنن أبي داود 16:51
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ كُلُّ غُلاَمٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ وَيُحْلَقُ وَيُسَمَّى ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَيُسَمَّى أَصَحُّ كَذَا قَالَ سَلاَّمُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ عَنْ قَتَادَةَ وَإِيَاسُ بْنُ دَغْفَلٍ وَأَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَيُسَمَّى ‏"‏ ‏.‏ وَرَوَاهُ أَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ وَيُسَمَّى ‏"‏ ‏.‏
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے بدلے گروی ہے، ساتویں روز اس کی طرف سے ذبح کیا جائے، اس کا سر منڈایا جائے اور اس کا نام رکھا جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لفظ «يسمى» لفظ «يدمى» سے زیادہ صحیح ہے، سلام بن ابی مطیع نے اسی طرح قتادہ، ایاس بن دغفل اور اشعث سے اور ان لوگوں نے حسن سے روایت کی ہے، اس میں«ويسمى» کا لفظ ہے، اور اسے اشعث نے حسن سے اور حسن نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اس میں بھی «ويسمى»ہی ہے۔
حدیث 2839 — سنن أبي داود 16:52
صحیحصحیحصحیح Bukhari (5471، 5472)
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنِ الرَّبَابِ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَعَ الْغُلاَمِ عَقِيقَتُهُ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الأَذَى ‏"‏ ‏.‏
سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑکے کی پیدائش کے ساتھ اس کا عقیقہ ہے تو اس کی جانب سے خون بہاؤ، اور اس سے تکلیف اور نجاست کو دور کرو ( یعنی سر کے بال مونڈو اور غسل دو ) ۔
حدیث 2840 — سنن أبي داود 16:53
صحیح Maqtuصحیح Maqtuضعیف
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِمَاطَةُ الأَذَى حَلْقُ الرَّأْسِ ‏.‏
حسن سے روایت ہے، وہ کہتے تھے تکلیف اور نجاست دور کرنے سے مراد سر مونڈنا ہے۔
حدیث 2841 — سنن أبي داود 16:54
صحیحصحیححسن SahihIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ كَبْشًا كَبْشًا ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین کی طرف سے ایک ایک دنبہ کا عقیقہ کیا۔
حدیث 2842 — سنن أبي داود 16:55
حسنحسنحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ - يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو - عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ أُرَاهُ عَنْ جَدِّهِ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ ‏"‏ لاَ يُحِبُّ اللَّهُ الْعُقُوقَ ‏"‏ ‏.‏ كَأَنَّهُ كَرِهَ الاِسْمَ وَقَالَ ‏"‏ مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَنْسُكْ عَنِ الْغُلاَمِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ ‏"‏ ‏.‏ وَسُئِلَ عَنِ الْفَرَعِ قَالَ ‏"‏ وَالْفَرَعُ حَقٌّ وَأَنْ تَتْرُكُوهُ حَتَّى يَكُونَ بَكْرًا شُغْزُبًّا ابْنَ مَخَاضٍ أَوِ ابْنَ لَبُونٍ فَتُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً أَوْ تَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذْبَحَهُ فَيَلْزَقَ لَحْمُهُ بِوَبَرِهِ وَتُكْفِئَ إِنَاءَكَ وَتُوَلِّهَ نَاقَتَكَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ«عقوق» ( ماں باپ کی نافرمانی ) کو پسند نہیں کرتا گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام کو ناپسند فرمایا، اور مکروہ جانا، اور فرمایا: جس کے یہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اپنے بچے کی طرف سے قربانی ( عقیقہ ) کرنا چاہے تو لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں کرے، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے «فرع» کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: «فرع» حق ہے اور یہ کہ تم اس کو چھوڑ دو یہاں تک کہ اونٹ جوان ہو جائے، ایک برس کا یا دو برس کا، پھر اس کو بیواؤں محتاجوں کو دے دو، یا اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے دے دو، یہ اس سے بہتر ہے کہ اس کو ( پیدا ہوتے ہی ) کاٹ ڈالو کہ گوشت اس کا بالوں سے چپکا ہو ( یعنی کم ہو ) اور تم اپنا برتن اوندھا رکھو، ( گوشت نہ ہو گا تو پکاؤ گے کہاں سے ) اور اپنی اونٹنی کو بچے کی جدائی کا غم دو ۔
حدیث 2843 — سنن أبي داود 16:56
حسن Sahihحسن Sahihصحیح LighairihiIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ، يَقُولُ كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا وُلِدَ لأَحَدِنَا غُلاَمٌ ذَبَحَ شَاةً وَلَطَخَ رَأْسَهُ بِدَمِهَا فَلَمَّا جَاءَ اللَّهُ بِالإِسْلاَمِ كُنَّا نَذْبَحُ شَاةً وَنَحْلِقُ رَأْسَهُ وَنَلْطَخُهُ بِزَعْفَرَانٍ ‏.‏
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں زمانہ جاہلیت میں جب ہم میں سے کسی کے ہاں لڑکا پیدا ہوتا تو وہ ایک بکری ذبح کرتا اور اس کا خون بچے کے سر میں لگاتا، پھر جب اسلام آیا تو ہم بکری ذبح کرتے اور بچے کا سر مونڈ کر زعفران لگاتے تھے ( خون لگانا موقوف ہو گیا ) ۱؎۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔