قرآني·Qurani
اردو

الطهارة

390 احادیث · #1–390

حدیث 181 — سنن أبي داود 1:181
صحیحصحیحصحیحIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ، يَقُولُ دَخَلْتُ عَلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَذَكَرْنَا مَا يَكُونُ مِنْهُ الْوُضُوءُ ‏.‏ فَقَالَ مَرْوَانُ وَمِنْ مَسِّ الذَّكَرِ ‏.‏ فَقَالَ عُرْوَةُ مَا عَلِمْتُ ذَلِكَ ‏.‏ فَقَالَ مَرْوَانُ أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن ابی بکر کہتے ہیں کہ انہوں نے عروہ کو کہتے سنا: میں مروان بن حکم کے پاس گیا اور ان چیزوں کا تذکرہ کیا جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، تو مروان نے کہا: اور عضو تناسل چھونے سے بھی ( وضو ہے ) ، اس پر عروہ نے کہا: مجھے یہ معلوم نہیں، تو مروان نے کہا: مجھے بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو اپنا عضو تناسل چھوئے وہ وضو کرے“۔
حدیث 182 — سنن أبي داود 1:182
صحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُلاَزِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَدِمْنَا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَ رَجُلٌ كَأَنَّهُ بَدَوِيٌّ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا تَرَى فِي مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَ مَا يَتَوَضَّأُ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ هُوَ إِلاَّ مُضْغَةٌ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ - ‏"‏ بَضْعَةٌ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَجَرِيرٌ الرَّازِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ‏.‏
طلق بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اتنے میں ایک شخص آیا وہ دیہاتی لگ رہا تھا، اس نے کہا: اللہ کے نبی! وضو کر لینے کے بعد آدمی کے اپنے عضو تناسل چھونے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو اسی کا ایک لوتھڑا ہے ، یا کہا: ٹکڑا ہے ۱؎۔
حدیث 183 — سنن أبي داود 1:183
صحیحصحیحضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ وَقَالَ فِي الصَّلاَةِ ‏.‏
مسدد کا بیان ہے کہ ہم سے محمد بن جابر نے بیان کیا ہے، محمد بن جابر نے قیس بن طلق سے، قیس نے اپنے والد طلق سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے، اور اس میں «في الصلاة» کا اضافہ ہے۔
حدیث 184 — سنن أبي داود 1:184
صحیحصحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ فَقَالَ ‏"‏ تَوَضَّئُوا مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏ وَسُئِلَ عَنْ لُحُومِ الْغَنَمِ فَقَالَ ‏"‏ لاَ تَتَوَضَّئُوا مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏ وَسُئِلَ عَنِ الصَّلاَةِ فِي مَبَارِكِ الإِبِلِ فَقَالَ ‏"‏ لاَ تُصَلُّوا فِي مَبَارِكِ الإِبِلِ فَإِنَّهَا مِنَ الشَّيَاطِينِ ‏"‏ ‏.‏ وَسُئِلَ عَنِ الصَّلاَةِ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ فَقَالَ ‏"‏ صَلُّوا فِيهَا فَإِنَّهَا بَرَكَةٌ ‏"‏ ‏.‏
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کے متعلق سوال کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے وضو کرو ، اور بکری کے گوشت کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے وضو نہ کرو ، آپ سے اونٹ کے باڑے ( بیٹھنے کی جگہ ) میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اونٹ کے بیٹھنے کی جگہ میں نماز نہ پڑھو کیونکہ وہ شیاطین میں سے ہے ، اور آپ سے بکریوں کے باڑے ( رہنے کی جگہ ) میں نماز پڑھنے کے سلسلہ میں پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں نماز پڑھو کیونکہ وہ برکت والی ہیں ۔
حدیث 185 — سنن أبي داود 1:185
صحیحصحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، وَأَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ، وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، - الْمَعْنَى - قَالُوا حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، أَخْبَرَنَا هِلاَلُ بْنُ مَيْمُونٍ الْجُهَنِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، - قَالَ هِلاَلٌ لاَ أَعْلَمُهُ إِلاَّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ‏.‏ وَقَالَ أَيُّوبُ وَعَمْرٌو أُرَاهُ - عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِغُلاَمٍ وَهُوَ يَسْلُخُ شَاةً فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَنَحَّ حَتَّى أُرِيَكَ فَأَدْخَلَ يَدَهُ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ فَدَحَسَ بِهَا حَتَّى تَوَارَتْ إِلَى الإِبْطِ ثُمَّ مَضَى فَصَلَّى لِلنَّاسِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ زَادَ عَمْرٌو فِي حَدِيثِهِ - يَعْنِي - لَمْ يَمَسَّ مَاءً ‏.‏ وَقَالَ عَنْ هِلاَلِ بْنِ مَيْمُونٍ الرَّمْلِيِّ وَرَوَاهُ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِلاَلٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً لَمْ يَذْكُرَا أَبَا سَعِيدٍ ‏.‏
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک لڑکے کے پاس سے ہوا، وہ ایک بکری کی کھال اتار رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم ہٹ جاؤ، میں تمہیں ( عملی طور پر کھال اتار کر ) دکھاتا ہوں ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھال اور گوشت کے درمیان داخل کیا، اور اسے دبایا یہاں تک کہ آپ کا ہاتھ بغل تک چھپ گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور ( پھر سے ) وضو نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمرو نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی چھوا تک نہیں، نیز عمرو نے اپنی روایت میں «أخبرنا هلال بن ميمون الجهني» کے بجائے«عن هلال بن ميمون الرملي» ( بصیغہ عنعنہ ) کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے عبدالواحد بن زیاد اور ابومعاویہ نے ہلال سے، ہلال نے عطاء سے، عطاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور ابوسعید ( صحابی ) کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدیث 186 — سنن أبي داود 1:186
صحیحصحیحصحیح Muslim (2957)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِالسُّوقِ دَاخِلاً مِنْ بَعْضِ الْعَالِيَةِ وَالنَّاسُ كَنَفَتَيْهِ فَمَرَّ بِجَدْىٍ أَسَكَّ مَيِّتٍ فَتَنَاوَلَهُ فَأَخَذَ بِأُذُنِهِ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنَّ هَذَا لَهُ ‏"‏ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‏.‏
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے قریب کی بستیوں میں سے ایک بستی کی طرف سے داخل ہوتے ہوئے بازار سے گزرے، اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے دائیں بائیں جانب ہو کر چل رہے تھے، آپ چھوٹے کان والی بکری کے ایک مردہ بچے کے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کان پکڑ کر اٹھایا، پھر فرمایا: تم میں سے کون شخص اس کو لینا چاہے گا؟ ، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی ۱؎۔
حدیث 187 — سنن أبي داود 1:187
صحیحصحیح Bukhari (207) Sahih Muslim (354)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے دست کا گوشت کھایا، پھر نماز پڑھی، اور وضو نہیں کیا۔
حدیث 188 — سنن أبي داود 1:188
صحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ، جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ ضِفْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَأَمَرَ بِجَنْبٍ فَشُوِيَ وَأَخَذَ الشَّفْرَةَ فَجَعَلَ يَحُزُّ لِي بِهَا مِنْهُ - قَالَ - فَجَاءَ بِلاَلٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلاَةِ - قَالَ - فَأَلْقَى الشَّفْرَةَ وَقَالَ ‏ "‏ مَا لَهُ تَرِبَتْ يَدَاهُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَامَ يُصَلِّي ‏.‏ زَادَ الأَنْبَارِيُّ وَكَانَ شَارِبِي وَفَى فَقَصَّهُ لِي عَلَى سِوَاكٍ ‏.‏ أَوْ قَالَ أَقُصُّهُ لَكَ عَلَى سِوَاكٍ ‏.‏
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان ہوا تو آپ نے بکری کی ران بھوننے کا حکم دیا ، وہ بھونی گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری لی ، اور میرے لیے اس میں سے گوشت کاٹنے لگے ، اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ آئے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی خبر دی ، تو آپ نے چھری رکھ دی ، اور فرمایا : ” اسے کیا ہو گیا ؟ اس کے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں ؟ “ ، اور اٹھ کر نماز پڑھنے کھڑے ہوئے ۔ انباری کی روایت میں اتنا اضافہ ہے : ” میری موچھیں بڑھ گئی تھیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھوں کے تلے ایک مسواک رکھ کر ان کو کتر دیا “ ، یا فرمایا : ” میں ایک مسواک رکھ کر تمہارے یہ بال کتر دوں گا “ ۔
حدیث 189 — سنن أبي داود 1:189
صحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَتِفًا ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ بِمِسْحٍ كَانَ تَحْتَهُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا شانہ کھایا پھر اپنا ہاتھ اس ٹاٹ سے پوچھا جو آپ کے نیچے بچھا ہوا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی۔
حدیث 190 — سنن أبي داود 1:190
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْتَهَشَ مِنْ كَتِفٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے دست کا گوشت نوچ کر کھایا پھر نماز پڑھی اور ( دوبارہ ) وضو نہیں کیا۔
مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔