عبداللہ بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں پوچھا جو غسل کو واجب کرتی ہے، اور اس پانی کے بارے میں پوچھا جو غسل کے بعد عضو مخصوص سے نکل آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی مذی ہے، اور ہر مرد کو مذی نکلتی ہے، لہٰذا تم اپنی شرمگاہ اور اپنے دونوں فوطوں کو دھو ڈالو، اور وضو کرو جیسے نماز کے لیے وضو کرتے ہو ۔
عبداللہ بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: جب میری بیوی حائضہ ہو تو اس کی کیا چیز میرے لیے حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے لنگی ( تہبند ) کے اوپر والے حصہ ( سے لطف اندوز ہونا ) درست ہے ، نیز اس کے ساتھ حائضہ کے ساتھ کھانے کھلانے کا بھی ذکر کیا، پھر راوی نے ( سابقہ ) پوری حدیث بیان کی۔
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: مرد کے لیے اس کی حائضہ بیوی کی کیا چیز حلال ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لنگی ( تہبند ) کے اوپر کا حصہ ( اس سے لطف اندوز ہونا ) جائز ہے، لیکن اس سے بھی بچنا افضل ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے۔
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ رخصت ابتدائے اسلام میں کپڑوں کی کمی کی وجہ سے دی تھی ( کہ اگر کوئی دخول کرے اور انزال نہ ہو تو غسل واجب نہ ہو گا ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دخول کرنے اور انزال نہ ہونے کی صورت میں غسل کرنے کا حکم فرما دیا، اور غسل نہ کرنے کو منع فرما دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «نهى عن ذلك» یعنی ممانعت سے مراد «الماء من الماء» ( غسل منی نکلنے کی صورت میں واجب ہے ) والی حدیث پر عمل کرنے سے منع کر دیا ہے۔
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو یہ فتوی دیا کرتے تھے کہ منی کے انزال ہونے پر ہی غسل واجب ہوتا ہے، یہ رخصت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدائے اسلام میں دی تھی پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کرنے کا حکم دیا۔
حدیث 216 — سنن أبي داود 1:216
صحیحصحیحصحیح Bukhari (291) Sahih Muslim (248)
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَرَاهِيدِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، وَشُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا قَعَدَ بَيْنَ شُعَبِهَا الأَرْبَعِ وَأَلْزَقَ الْخِتَانَ بِالْخِتَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مرد عورت کی چاروں شاخوں ( دونوں پنڈلیوں اور دونوں رانوں یا دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں ) کے درمیان بیٹھے اور مرد کا ختنہ عورت کے ختنہ سے مل جائے ( یعنی مرد کے عضو تناسل کی سپاری عورت کی شرمگاہ کے اندر داخل ہو جائے ) تو غسل واجب ہو گیا ۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پانی سے ہے ( یعنی منی نکلنے سے غسل واجب ہوتا ہے ) اور ابوسلمہ ایسا ہی کرتے تھے ۱؎۔
حدیث 218 — سنن أبي داود 1:218
صحیحصحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَافَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَكَذَا رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ وَمَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ وَصَالِحُ بْنُ أَبِي الأَخْضَرِ عَنِ الزُّهْرِيِّ كُلُّهُمْ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ایک ہی غسل سے اپنی تمام بیویوں کے پاس گئے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح اسے ہشام بن زید نے انس سے اور معمر نے قتادہ سے، اور قتادہ نے انس سے اور صالح بن ابی الاخضر نے زہری سے اور ان سب نے انس رضی اللہ عنہ سے اور انس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنی بیویوں کے پاس گئے، ہر ایک کے پاس غسل کرتے تھے ۱؎۔ ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! ایک ہی بار غسل کیوں نہیں کر لیتے؟ آپ نے فرمایا: یہ زیادہ پاکیزہ، عمدہ اور اچھ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے ۱؎ پھر دوبارہ صحبت کرنا چاہے، تو ان دونوں کے درمیان وضو کرے ۔