قرآني·Qurani
اردو

الطهارة

390 احادیث · #1–390

حدیث 241 — سنن أبي داود 1:241
Very DaifVery Daifضعیفضعیف
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ - عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ، عَنْ صَدَقَةَ، حَدَّثَنَا جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ، - أَحَدُ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ - قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أُمِّي وَخَالَتِي عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلَتْهَا إِحْدَاهُمَا كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ عِنْدَ الْغُسْلِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَنَحْنُ نُفِيضُ عَلَى رُءُوسِنَا خَمْسًا مِنْ أَجْلِ الضَّفْرِ ‏.‏
قبیلہ بنو تیم اللہ بن ثعلبہ کے ایک شخص جمیع بن عمیر کہتے ہیں میں اپنی والدہ اور خالہ کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، تو ان میں سے ایک نے آپ سے پوچھا: آپ لوگ غسل جنابت کس طرح کرتی تھیں؟ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( پہلے ) وضو کرتے تھے جیسے نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، پھر اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتے اور ہم اپنے سروں پر چوٹیوں کی وجہ سے پانچ بار پانی ڈالتے تھے۔
حدیث 242 — سنن أبي داود 1:242
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (248) Sahih Muslim (316)
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ الْوَاشِحِيُّ، وَمُسَدَّدٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ - قَالَ سُلَيْمَانُ يَبْدَأُ فَيُفْرِغُ مِنْ يَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ ‏.‏ وَقَالَ مُسَدَّدٌ غَسَلَ يَدَيْهِ يَصُبُّ الإِنَاءَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى ثُمَّ اتَّفَقَا فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ ‏.‏ - قَالَ مُسَدَّدٌ - يُفْرِغُ عَلَى شِمَالِهِ وَرُبَّمَا كَنَتْ عَنِ الْفَرْجِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَيْهِ فِي الإِنَاءِ فَيُخَلِّلُ شَعْرَهُ حَتَّى إِذَا رَأَى أَنَّهُ قَدْ أَصَابَ الْبَشَرَةَ أَوْ أَنْقَى الْبَشَرَةَ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثًا فَإِذَا فَضَلَ فَضْلَةٌ صَبَّهَا عَلَيْهِ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے ( سلیمان کی روایت میں ہے: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے، اور مسدد کی روایت میں ہے: برتن کو اپنے داہنے ہاتھ پر انڈیل کر دونوں ہاتھ دھوتے، پھر دونوں سیاق حدیث کے ذکر میں متفق ہیں کہ ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس کے بعد ) اپنی شرمگاہ دھوتے ( اور مسدد کی روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بائیں ہاتھ پر پانی بہاتے، کبھی ام المؤمنین عائشہ نے فرج ( شرمگاہ ) کو کنایۃً بیان کیا ہے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ برتن میں داخل کرتے اور ( پانی لے کر ) اپنے بالوں کا خلال کرتے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ جان لیتے کہ پانی پوری کھال کو پہنچ گیا ہے یا کھال کو صاف کر لیا ہے، تو اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتے، پھر جو پانی بچ جاتا اسے اپنے اوپر بہا لیتے۔
حدیث 243 — سنن أبي داود 1:243
صحیحصحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنِ النَّخَعِيِّ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ بِكَفَّيْهِ فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ غَسَلَ مَرَافِغَهُ وَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ فَإِذَا أَنْقَاهُمَا أَهْوَى بِهِمَا إِلَى حَائِطٍ ثُمَّ يَسْتَقْبِلُ الْوُضُوءَ وَيُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کا ارادہ کرتے تو پہلے اپنے دونوں پہونچوں کو، پھر اپنے جوڑوں کو دھوتے ( مثلاً کہنی بغل وغیرہ جہاں میل جم جاتا ہے ) اور ان پر پانی بہاتے، جب دونوں ہاتھ صاف ہو جاتے تو انہیں ( مٹی سے ) دیوار پر ملتے، ( تاکہ مکمل صاف ہو جائے ) پھر وضو شروع کرتے اور اپنے سر پر پانی ڈالتے۔
حدیث 244 — سنن أبي داود 1:244
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ شَوْكَرٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عُرْوَةَ الْهَمْدَانِيِّ، حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها لَئِنْ شِئْتُمْ لأُرِيَنَّكُمْ أَثَرَ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْحَائِطِ حَيْثُ كَانَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ ‏.‏
شعبی کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کا نشان دیوار پر دکھاؤں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت کیا کرتے تھے ( اور دیوار پر اپنا ہاتھ ملتے تھے ) ۔
حدیث 245 — سنن أبي داود 1:245
صحیحصحیحصحیح Bukhari (249) Sahih Muslim (317)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالَتِهِ، مَيْمُونَةَ قَالَتْ وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غُسْلاً يَغْتَسِلُ بِهِ مِنَ الْجَنَابَةِ فَأَكْفَأَ الإِنَاءَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى فَغَسَلَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا ثُمَّ صَبَّ عَلَى فَرْجِهِ فَغَسَلَ فَرْجَهُ بِشِمَالِهِ ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ الأَرْضَ فَغَسَلَهَا ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ وَجَسَدِهِ ثُمَّ تَنَحَّى نَاحِيَةً فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ فَنَاوَلْتُهُ الْمِنْدِيلَ فَلَمْ يَأْخُذْهُ وَجَعَلَ يَنْفُضُ الْمَاءَ عَنْ جَسَدِهِ ‏.‏ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ كَانُوا لاَ يَرَوْنَ بِالْمِنْدِيلِ بَأْسًا وَلَكِنْ كَانُوا يَكْرَهُونَ الْعَادَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ مُسَدَّدٌ فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دَاوُدَ كَانُوا يَكْرَهُونَهُ لِلْعَادَةِ فَقَالَ هَكَذَا هُوَ وَلَكِنْ وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي هَكَذَا ‏.‏
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل جنابت کا پانی رکھا، تاکہ آپ غسل کر لیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن کو اپنے داہنے ہاتھ پر جھکایا اور اسے دوبار یا تین بار دھویا، پھر اپنی شرمگاہ پر پانی ڈالا، اور بائیں ہاتھ سے اسے دھویا، پھر اپنے ہاتھ کو زمین پر مارا اور اسے دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنے سر اور جسم پر پانی ڈالا، پھر کچھ ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں دھوئے، میں نے بدن پونچھنے کے لیے رومال دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں لیا، اور پانی اپنے بدن سے جھاڑنے لگے۔ اعمش کہتے ہیں: میں نے اس کا ذکر ابراہیم سے کیا، تو انہوں نے کہا: رومال سے بدن پونچھنے میں لوگ کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، لیکن اسے عادت بنا لینا برا جانتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد نے کہا: اس پر عبداللہ بن داود سے میں نے پوچھا «العادة» یا «للعادة» ؟ تو انہوں نے جواب دیا «للعادة» ہی صحیح ہے، لیکن میں نے اپنی کتاب میں اسی طرح پایا ہے۔
حدیث 246 — سنن أبي داود 1:246
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْخُرَاسَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ يُفْرِغُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى سَبْعَ مِرَارٍ ثُمَّ يَغْسِلُ فَرْجَهُ فَنَسِيَ مَرَّةً كَمْ أَفْرَغَ فَسَأَلَنِي كَمْ أَفْرَغْتُ فَقُلْتُ لاَ أَدْرِي ‏.‏ فَقَالَ لاَ أُمَّ لَكَ وَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَدْرِيَ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى جِلْدِهِ الْمَاءَ ثُمَّ يَقُولُ هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَطَهَّرُ ‏.‏
شعبہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما جب غسل جنابت کرتے تو اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر سات مرتبہ پانی ڈالتے، پھر اپنی شرمگاہ دھوتے، ایک بار وہ بھول گئے کہ کتنی بار پانی ڈالا، تو آپ نے مجھ سے پوچھا کہ میں نے کتنی بار پانی ڈالا؟ میں نے جواب دیا: مجھے یاد نہیں ہے، آپ نے کہا: تیری ماں نہ ہو ۱؎ تمہیں یہ یاد رکھنے میں کون سی چیز مانع ہوئی؟ پھر آپ وضو کرتے جیسے نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہاتے، پھر کہتے: اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طہارت حاصل کرتے تھے۔
حدیث 247 — سنن أبي داود 1:247
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَتِ الصَّلاَةُ خَمْسِينَ وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ سَبْعَ مِرَارٍ وَغَسْلُ الْبَوْلِ مِنَ الثَّوْبِ سَبْعَ مِرَارٍ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْأَلُ حَتَّى جُعِلَتِ الصَّلاَةُ خَمْسًا وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ مَرَّةً وَغَسْلُ الْبَوْلِ مِنَ الثَّوْبِ مَرَّةً ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں پہلے پچاس ( وقت کی ) نماز ( فرض ہوئی ) تھیں، اور غسل جنابت سات بار کرنے کا حکم تھا، اسی طرح پیشاب کپڑے میں لگ جائے تو سات بار دھونے کا حکم تھا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنی امت پر برابر اللہ تعالیٰ سے تخفیف کا ) سوال کرتے رہے، یہاں تک کہ نماز پانچ کر دی گئیں، جنابت کا غسل ایک بار رہ گیا، اور پیشاب کپڑے میں لگ جائے تو اسے بھی ایک بار دھونا رہ گیا۔
حدیث 248 — سنن أبي داود 1:248
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ تَحْتَ كُلِّ شَعْرَةٍ جَنَابَةً فَاغْسِلُوا الشَّعْرَ وَأَنْقُوا الْبَشَرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ حَدِيثُهُ مُنْكَرٌ وَهُوَ ضَعِيفٌ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بال کے نیچے جنابت ہے، لہٰذا تم ( غسل کرتے وقت ) بالوں کو اچھی طرح دھوو، اور کھال کو خوب صاف کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن وجیہ کی حدیث منکر ہے، اور وہ ضعیف ہیں ۱؎۔
حدیث 249 — سنن أبي داود 1:249
ضعیفضعیفضعیفIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعْرَةٍ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يَغْسِلْهَا فُعِلَ بِهِ كَذَا وَكَذَا مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَلِيٌّ فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ رَأْسِي فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ رَأْسِي ثَلاَثًا ‏.‏ وَكَانَ يَجِزُّ شَعْرَهُ ‏.‏
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے غسل جنابت میں ایک بال برابر جگہ دھوئے بغیر چھوڑ دی، تو اسے آگ کا ایسا ایسا عذاب ہو گا ۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اسی وجہ سے میں نے اپنے سر ( کے بالوں ) سے دشمنی کر رکھی ہے، اس جملے کو انہوں نے تین مرتبہ کہا، وہ اپنے بال کاٹ ڈالتے تھے۔
حدیث 250 — سنن أبي داود 1:250
صحیحصحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَغْتَسِلُ وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ وَصَلاَةَ الْغَدَاةِ وَلاَ أُرَاهُ يُحْدِثُ وُضُوءًا بَعْدَ الْغُسْلِ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل ( جنابت ) کرتے تھے، اور دو رکعتیں اور فجر کی نماز ادا کرتے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل جنابت کے بعد تازہ وضو کرتے نہ دیکھتی ۱؎۔
مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔