قرآني·Qurani
اردو

الطهارة

390 احادیث · #1–390

حدیث 301 — سنن أبي داود 1:301
ضعیفضعیفIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ أَنَّ الْقَعْقَاعَ، وَزَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ، أَرْسَلاَهُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ يَسْأَلُهُ كَيْفَ تَغْتَسِلُ الْمُسْتَحَاضَةُ فَقَالَ تَغْتَسِلُ مِنْ ظُهْرٍ إِلَى ظُهْرٍ وَتَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلاَةٍ فَإِنْ غَلَبَهَا الدَّمُ اسْتَثْفَرَتْ بِثَوْبٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ تَغْتَسِلُ مِنْ ظُهْرٍ إِلَى ظُهْرٍ ‏.‏ وَكَذَلِكَ رَوَى دَاوُدُ وَعَاصِمٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ امْرَأَتِهِ عَنْ قَمِيرَ عَنْ عَائِشَةَ إِلاَّ أَنَّ دَاوُدَ قَالَ كُلَّ يَوْمٍ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ عَاصِمٍ عِنْدَ الظُّهْرِ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَالْحَسَنِ وَعَطَاءٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ مَالِكٌ إِنِّي لأَظُنُّ حَدِيثَ ابْنِ الْمُسَيَّبِ مِنْ طُهْرٍ إِلَى طُهْرٍ ‏.‏ فَقَلَبَهَا النَّاسُ مِنْ ظُهْرٍ إِلَى ظُهْرٍ وَلَكِنَّ الْوَهَمَ دَخَلَ فِيهِ وَرَوَاهُ الْمِسْوَرُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ قَالَ فِيهِ مِنْ طُهْرٍ إِلَى طُهْرٍ ‏.‏ فَقَلَبَهَا النَّاسُ مِنْ ظُهْرٍ إِلَى ظُهْرٍ ‏.‏
ابوبکر کے غلام سمیّ کہتے ہیں کہ قعقاع اور زید بن اسلم دونوں نے انہیں سعید بن مسیب کے پاس یہ مسئلہ دریافت کرنے کے لیے بھیجا کہ مستحاضہ عورت کس طرح غسل کرے؟ تو انہوں نے کہا: وہ ایک ظہر سے دوسرے ظہر تک ایک غسل کرے، اور ہر نماز کے لیے وضو کرے، اور اگر استحاضہ کا خون زیادہ آئے تو کپڑے کا لنگوٹ باندھ لے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن عمر اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے کہ وہ ظہر سے ظہر تک ایک غسل کرے، اور اسی طرح داود اور عاصم نے شعبی سے، شعبی نے اپنی بیوی سے، انہوں نے قمیر سے، اور قمیر نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے، مگر داود کی روایت میں لفظ «كل يوم» کا ( اضافہ ) ہے یعنی ہر روز غسل کرے، اور عاصم کی روایت میں «عند الظهر» کا لفظ ہے اور یہی قول سالم بن عبداللہ، حسن اور عطاء کا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ ابن مسیب کی حدیث: «من ظهرٍ إلى ظهرٍ» کے بجائے «من طهرٍ إلى طهرٍ» ہے، لیکن اس میں وہم داخل ہو گیا اور لوگوں نے اسے بدل کر «من ظهرٍ إلى ظهرٍ» کر دیا، نیز اسے مسور بن عبدالملک بن سعید بن عبدالرحمٰن بن یربوع نے روایت کیا ہے، اس میں انہوں نے «من طهر إلى طهر» کہا ہے، پھر لوگوں نے اسے «من ظهرٍ إلى ظهرٍ» میں بدل دیا۔
حدیث 302 — سنن أبي داود 1:302
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، - وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ - عَنْ مَعْقِلٍ الْخَثْعَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - قَالَ الْمُسْتَحَاضَةُ إِذَا انْقَضَى حَيْضُهَا اغْتَسَلَتْ كُلَّ يَوْمٍ وَاتَّخَذَتْ صُوفَةً فِيهَا سَمْنٌ أَوْ زَيْتٌ ‏.‏
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مستحاضہ کا حیض آنا بند ہو جائے تو ہر روز ( وقت کی تخصیص کے بغیر ) غسل کرے اور گھی یا روغن زیتون لگا ہوا روئی کا ٹکڑا شرمگاہ میں رکھ لے۔
حدیث 303 — سنن أبي داود 1:303
صحیحصحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ، أَنَّهُ سَأَلَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنِ الْمُسْتَحَاضَةِ، فَقَالَ تَدَعُ الصَّلاَةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ فَتُصَلِّي ثُمَّ تَغْتَسِلُ فِي الأَيَّامِ ‏.‏
محمد بن عثمان سے روایت ہے کہ انہوں نے قاسم بن محمد سے مستحاضہ کے بارے میں پوچھا تو قاسم بن محمد نے کہا: وہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے گی، پھر غسل کرے گی اور نماز پڑھے گی، پھر باقی ایام میں غسل کرتی رہے گی۔
حدیث 304 — سنن أبي داود 1:304
حسنحسنضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدٍ، - يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو - حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ، أَنَّهَا كَانَتْ تُسْتَحَاضُ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا كَانَ دَمُ الْحَيْضِ فَإِنَّهُ دَمٌ أَسْوَدُ يُعْرَفُ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلاَةِ فَإِذَا كَانَ الآخَرُ فَتَوَضَّئِي وَصَلِّي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى وَحَدَّثَنَا بِهِ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ حِفْظًا فَقَالَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرُوِيَ عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَشُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ قَالَ الْعَلاَءُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَوْقَفَهُ شُعْبَةُ عَلَى أَبِي جَعْفَرٍ تَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلاَةٍ ‏.‏
فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہیں استحاضہ کی شکایت تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جب حیض کا خون ہو ( جو کہ بالکل سیاہ ہوتا ہے اور پہچان لیا جاتا ہے ) تو تم نماز سے رک جاؤ اور جب دوسری طرح کا خون آنے لگے تو وضو کرو اور نماز پڑھو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ ابن مثنی نے کہا ہے کہ ابن ابی عدی نے اسے ہم سے زبانی بیان کیا تو اس میں انہوں نے «عن عروة عن عائشة أن فاطمة» کہا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز یہ حدیث علاء بن مسیب اور شعبہ سے مروی ہے انہوں نے حکم سے اور حکم نے ابو جعفر سے روایت کیا ہے مگر علاء نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً اور شعبہ نے ابو جعفر سے موقوفاً بیان کیا ہے، اس میں یہ ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے وضو کرے۔
حدیث 305 — سنن أبي داود 1:305
صحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ، اسْتُحِيضَتْ فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ تَنْتَظِرَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي فَإِنْ رَأَتْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ تَوَضَّأَتْ وَصَلَّتْ ‏.‏
عکرمہ کہتے ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے ایام حیض ( کے ختم ہونے ) کا انتظار کریں پھر غسل کریں اور نماز پڑھیں، پھر اگر اس میں سے کچھ ۱؎ انہیں محسوس ہو تو وضو کر لیں اور نماز پڑھیں۔
حدیث 306 — سنن أبي داود 1:306
صحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ رَبِيعَةَ، أَنَّهُ كَانَ لاَ يَرَى عَلَى الْمُسْتَحَاضَةِ وُضُوءًا عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ إِلاَّ أَنْ يُصِيبَهَا حَدَثٌ غَيْرُ الدَّمِ فَتَوَضَّأُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا قَوْلُ مَالِكٍ يَعْنِي ابْنَ أَنَسٍ ‏.‏
ربیعہ سے روایت ہے کہ وہ مستحاضہ کے لیے ہر نماز کے وقت وضو ضروری نہیں سمجھتے تھے سوائے اس کے کہ اسے خون کے علاوہ کوئی اور حدث لاحق ہو تو وہ وضو کرے گی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہی مالک بن انس کا قول ہے۔
حدیث 307 — سنن أبي داود 1:307
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أُمِّ الْهُذَيْلِ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، وَكَانَتْ، بَايَعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كُنَّا لاَ نَعُدُّ الْكُدْرَةَ وَالصُّفْرَةَ بَعْدَ الطُّهْرِ شَيْئًا ‏.‏
ام عطیہ رضی اللہ عنہا (انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی) کہتی ہیں ہم حیض سے پاک ہو جانے کے بعد زردی اور گدلے پن کو کچھ نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث 308 — سنن أبي داود 1:308
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (326)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، بِمِثْلِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ أُمُّ الْهُذَيْلِ هِيَ حَفْصَةُ بِنْتُ سِيرِينَ كَانَ ابْنُهَا اسْمُهُ هُذَيْلٌ وَاسْمُ زَوْجِهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ‏.‏
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے مثل مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ام ہذیل حفصہ بنت سیرین ہیں، ان کے لڑکے کا نام ہذیل اور شوہر کا نام عبدالرحمٰن ہے ۱؎۔
حدیث 309 — سنن أبي داود 1:309
صحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ كَانَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ تُسْتَحَاضُ فَكَانَ زَوْجُهَا يَغْشَاهَا ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ مُعَلَّى ثِقَةٌ ‏.‏ وَكَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ لاَ يَرْوِي عَنْهُ لأَنَّهُ كَانَ يَنْظُرُ فِي الرَّأْىِ ‏.‏
عکرمہ کہتے ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کا خون آتا تھا اور ان کے شوہر ان سے صحبت کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ یحییٰ بن معین نے کہا ہے کہ معلی ثقہ ہیں اور احمد بن حنبل ان سے اس لیے روایت نہیں کرتے تھے کہ وہ قیاس و رائے میں دخل رکھتے تھے۔
حدیث 310 — سنن أبي داود 1:310
حسنحسنضعیفضعیف
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَهْمِ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ، أَنَّهَا كَانَتْ مُسْتَحَاضَةً وَكَانَ زَوْجُهَا يُجَامِعُهَا ‏.‏
حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ مستحاضہ ہوتی تھیں اور ان کے شوہر ان سے جماع کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم ( ۳۰۵ ) ، ( تحفة الأشراف: ۱۵۸۲۱ ) ( حسن)
مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔