قرآني·Qurani
اردو

الطهارة

390 احادیث · #1–390

حدیث 61 — سنن أبي داود 1:61
حسن Sahihحسن Sahihحسن
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مِفْتَاحُ الصَّلاَةِ الطُّهُورُ وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ ‏"‏ ‏.‏
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کی کنجی طہارت، اس کی تحریم تکبیر کہنا، اور تحلیل سلام پھیرنا ہے ۱؎۔
حدیث 62 — سنن أبي داود 1:62
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، - قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَأَنَا لِحَدِيثِ ابْنِ يَحْيَى، أَتْقَنُ - عَنْ غُطَيْفٍ، - وَقَالَ مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي غُطَيْفٍ الْهُذَلِيِّ، - قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَلَمَّا نُودِيَ بِالظُّهْرِ تَوَضَّأَ فَصَلَّى فَلَمَّا نُودِيَ بِالْعَصْرِ تَوَضَّأَ فَقُلْتُ لَهُ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ تَوَضَّأَ عَلَى طُهْرٍ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا حَدِيثُ مُسَدَّدٍ وَهُوَ أَتَمُّ ‏.‏
ابوغطیف ہذلی کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، جب ظہر کی اذان ہوئی تو آپ نے وضو کر کے نماز پڑھی، پھر عصر کی اذان ہوئی تو دوبارہ وضو کیا، میں نے ان سے پوچھا ( اب نیا وضو کرنے کا کیا سبب ہے؟ ) انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: جو شخص وضو پر وضو کرے گا اللہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مسدد کی روایت ہے اور یہ زیادہ مکمل ہے۔
حدیث 63 — سنن أبي داود 1:63
صحیحصحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَغَيْرُهُمْ، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ فَقَالَ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ الْعَلاَءِ وَقَالَ عُثْمَانُ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ الصَّوَابُ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جس پر جانور اور درندے آتے جاتے ہوں ( اس میں سے پیتے اور اس میں پیشاب کرتے ہوں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب پانی دو قلہ ہو تو وہ نجاست کو دفع کر دے گا ( یعنی نجاست اس پر غالب نہیں آئے گی ) ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابن العلاء کے الفاظ ہیں، عثمان اور حسن بن علی نے محمد بن جعفر کی جگہ محمد بن عباد بن جعفر کا ذکر کیا ہے، اور یہی درست ہے۔
حدیث 64 — سنن أبي داود 1:64
حسن Sahihحسن Sahihحسنصحیح
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، - قَالَ أَبُو كَامِلٍ ابْنُ الزُّبَيْرِ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنِ الْمَاءِ يَكُونُ فِي الْفَلاَةِ ‏.‏ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ‏.‏
جناب عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جو جنگل میں ہوتا ہے، تو انہوں نے گزشتہ حدیث کی مثل روایت کیا۔
حدیث 65 — سنن أبي داود 1:65
صحیحصحیحIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ فَإِنَّهُ لاَ يَنْجُسُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَقَفَهُ عَنْ عَاصِمٍ ‏.‏
جناب عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’پانی دو قلہ (مٹکوں) کے برابر ہو تو ناپاک نہیں ہوتا ۔ “ امام ابوداؤد کہتے ہیں کہ حماد بن زید نے اسے عاصم سے موقوفاً روایت کیا ہے۔
حدیث 66 — سنن أبي داود 1:66
صحیحصحیحIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ وَهِيَ بِئْرٌ يُطْرَحُ فِيهَا الْحِيَضُ وَلَحْمُ الْكِلاَبِ وَالنَّتْنُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْمَاءُ طَهُورٌ لاَ يُنَجِّسُهُ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ رَافِعٍ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: کیا ہم بئر بضاعہ کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں، جب کہ وہ ایسا کنواں ہے کہ اس میں حیض کے کپڑے، کتوں کے گوشت اور بدبودار چیزیں ڈالی جاتی ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پاک ہے، اس کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کچھ لوگوں نے عبداللہ بن رافع کی جگہ عبدالرحمٰن بن رافع کہا ہے۔
حدیث 67 — سنن أبي داود 1:67
صحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيَّانِ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَلِيطِ بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ الأَنْصَارِيِّ، ثُمَّ الْعَدَوِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُقَالُ لَهُ إِنَّهُ يُسْتَقَى لَكَ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ وَهِيَ بِئْرٌ يُلْقَى فِيهَا لُحُومُ الْكِلاَبِ وَالْمَحَايِضُ وَعَذِرُ النَّاسِ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ لاَ يُنَجِّسُهُ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَسَمِعْتُ قُتَيْبَةَ بْنَ سَعِيدٍ قَالَ سَأَلْتُ قَيِّمَ بِئْرِ بُضَاعَةَ عَنْ عُمْقِهَا قَالَ أَكْثَرُ مَا يَكُونُ فِيهَا الْمَاءُ إِلَى الْعَانَةِ ‏.‏ قُلْتُ فَإِذَا نَقَصَ قَالَ دُونَ الْعَوْرَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَدَّرْتُ أَنَا بِئْرَ بُضَاعَةَ بِرِدَائِي مَدَدْتُهُ عَلَيْهَا ثُمَّ ذَرَعْتُهُ فَإِذَا عَرْضُهَا سِتَّةُ أَذْرُعٍ وَسَأَلْتُ الَّذِي فَتَحَ لِي بَابَ الْبُسْتَانِ فَأَدْخَلَنِي إِلَيْهِ هَلْ غُيِّرَ بِنَاؤُهَا عَمَّا كَانَتْ عَلَيْهِ قَالَ لاَ ‏.‏ وَرَأَيْتُ فِيهَا مَاءً مُتَغَيِّرَ اللَّوْنِ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت یہ فرماتے سنا جب کہ آپ سے پوچھا جا رہا تھا کہ بئر بضاعہ ۱؎ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی لایا جاتا ہے، حالانکہ وہ ایسا کنواں ہے کہ اس میں کتوں کے گوشت، حیض کے کپڑے، اور لوگوں کے پاخانے ڈالے جاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پاک ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے قتیبہ بن سعید سے سنا وہ کہہ رہے تھے: میں نے بئر بضاعہ کے متولی سے اس کی گہرائی کے متعلق سوال کیا، تو انہوں نے جواب دیا: پانی جب زیادہ ہوتا ہے تو زیر ناف تک رہتا ہے، میں نے پوچھا: اور جب کم ہوتا ہے؟ تو انہوں نے جواباً کہا: تو ستر یعنی گھٹنے سے نیچے رہتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے بئر بضاعہ کو اپنی چادر سے ناپا، چادر کو اس پر پھیلا دیا، پھر اسے اپنے ہاتھ سے ناپا، تو اس کا عرض ( ۶ ) ہاتھ نکلا، میں نے باغ والے سے پوچھا، جس نے باغ کا دروازہ کھول کر مجھے اندر داخل کیا: کیا بئر بضاعہ کی بناوٹ و شکل میں پہلے کی نسبت کچھ تبدیلی ہوئی ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ پانی کا رنگ بدلا ہوا تھا۔
حدیث 68 — سنن أبي داود 1:68
صحیحصحیحصحیح Lighairihiضعیف
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي جَفْنَةٍ فَجَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِيَتَوَضَّأَ مِنْهَا - أَوْ يَغْتَسِلَ - فَقَالَتْ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الْمَاءَ لاَ يَجْنُبُ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے کسی نے ایک لگن سے ( چلو سے پانی لے لے کر ) غسل جنابت کیا، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس برتن میں بچے ہوئے پانی سے وضو یا غسل کرنے کے لیے تشریف لائے تو ام المؤمنین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ناپاک تھی ( اور یہ غسل جنابت کا بچا ہوا پانی ہے ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی ناپاک نہیں ہوتا ۱؎۔
حدیث 69 — سنن أبي داود 1:69
صحیحصحیحصحیح Muslim (282)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، فِي حَدِيثِ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے پھر اس سے غسل کرے ۔
حدیث 70 — سنن أبي داود 1:70
حسن Sahihحسن SahihصحیحIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَلاَ يَغْتَسِلْ فِيهِ مِنَ الْجَنَابَةِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے اور نہ ہی اس میں جنابت کا غسل کرے ۔
مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔