قرآني·Qurani
اردو

العتق

43 احادیث · #3926–3968

حدیث 3946 — سنن أبي داود 31:21
صحیحصحیحصحیح Muslim (1501 After 1667)
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ عَتَقَ مِنْهُ مَا بَقِيَ فِي مَالِهِ إِذَا كَانَ لَهُ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ( مشترک ) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو جتنا حصہ باقی بچا ہے وہ بھی اسی کے مال سے آزاد ہو گا بشرطیکہ اس کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ غلام کی قیمت کو پہنچ سکے ۔
حدیث 3947 — سنن أبي داود 31:22
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (2521) Sahih Muslim (1501 After 1667)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا كَانَ الْعَبْدُ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا يُقَوَّمُ عَلَيْهِ قِيمَةً لاَ وَكْسَ وَلاَ شَطَطَ ثُمَّ يُعْتَقُ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو پھر ان میں سے ایک شخص اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر آزاد کرنے والا مالدار ہو تو اس غلام کی واجبی قیمت ٹھہرائی جائے گی نہ کم نہ زیادہ پھر وہ غلام آزاد کر دیا جائے گا ۱؎ ۔
حدیث 3948 — سنن أبي داود 31:23
ضعیف Isnaadضعیف Isnaadضعیفضعیف
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ الْعَنْبَرِيِّ، عَنِ ابْنِ التَّلِبِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ فَلَمْ يُضَمِّنْهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَحْمَدُ إِنَّمَا هُوَ بِالتَّاءِ - يَعْنِي التَّلِبَّ - وَكَانَ شُعْبَةُ أَلْثَغَ لَمْ يُبَيِّنِ التَّاءَ مِنَ الثَّاءِ ‏.‏
تلب بن ثعلبہ تمیمی عنبری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باقی قیمت کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔ احمد کہتے ہیں: ( صحابی کا نام ) تلب تائے فوقانیہ سے ہے نہ کہ ثلب ثائے مثلثہ سے اور راوی حدیث شعبہ ہکلے تھے یعنی ان کی زبان سے تاء ادا نہیں ہوتی تھی وہ تاء کو ثاء کہتے تھے۔
حدیث 3949 — سنن أبي داود 31:24
صحیحصحیحصحیح Lighairihiحسن
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ مُوسَى فِي مَوْضِعٍ آخَرَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ فِيمَا يَحْسِبُ حَمَّادٌ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ وَعَاصِمٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَ ذَلِكَ الْحَدِيثِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَلَمْ يُحَدِّثْ ذَلِكَ الْحَدِيثَ إِلاَّ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَقَدْ شَكَّ فِيهِ ‏.‏
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی قرابت دار محرم کا مالک ہو جائے تو وہ ( ملکیت میں آتے ہی ) آزاد ہو جائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: محمد بن بکر برسانی نے حماد بن سلمہ سے، حماد نے قتادہ اور عاصم سے، انہوں نے حسن سے، حسن نے سمرہ سے، سمرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے ہم مثل روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اس حدیث کو حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے اور انہیں اس میں شک ہے۔
حدیث 3950 — سنن أبي داود 31:25
ضعیف Muqufضعیف Muqufضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، - رضى الله عنه - قَالَ مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ ‏.‏
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جو کسی قرابت دار محرم کا مالک ہو جائے تو وہ ( ملکیت میں آتے ہی ) آزاد ہو جائے گا۔
حدیث 3951 — سنن أبي داود 31:26
صحیح Maqtuصحیح Maqtuضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ ‏.‏
حسن کہتے ہیں جو کسی قرابت دار محرم کا مالک ہو جائے تو ( وہ ملکیت میں آتے ہی ) آزاد ہو جائے گا۔
حدیث 3952 — سنن أبي داود 31:27
صحیح Maqtuصحیح Maqtuضعیف
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَالْحَسَنِ، مِثْلَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَعِيدٌ أَحْفَظُ مِنْ حَمَّادٍ ‏.‏
جابر بن زید اور حسن سے بھی اسی کے ہم مثل مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: سعید حماد ( حماد بن سلمہ ) سے زیادہ یاد رکھنے والے ہیں ۱؎۔
حدیث 3953 — سنن أبي داود 31:28
ضعیف Isnaadضعیف Isnaadضعیفضعیف
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ خَطَّابِ بْنِ صَالِحٍ، مَوْلَى الأَنْصَارِيِّ عَنْ أُمِّهِ، عَنْ سَلاَمَةَ بِنْتِ مَعْقِلٍ، - امْرَأَةٍ مِنْ خَارِجَةِ قَيْسِ عَيْلاَنَ - قَالَتْ قَدِمَ بِي عَمِّي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَبَاعَنِي مِنَ الْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو أَخِي أَبِي الْيَسَرِ بْنِ عَمْرٍو فَوَلَدْتُ لَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحُبَابِ ثُمَّ هَلَكَ فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ الآنَ وَاللَّهِ تُبَاعِينَ فِي دَيْنِهِ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ مِنْ خَارِجَةِ قَيْسِ عَيْلاَنَ قَدِمَ بِي عَمِّي الْمَدِينَةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَبَاعَنِي مِنَ الْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو أَخِي أَبِي الْيَسَرِ بْنِ عَمْرٍو فَوَلَدْتُ لَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحُبَابِ فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ الآنَ وَاللَّهِ تُبَاعِينَ فِي دَيْنِهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ وَلِيُّ الْحُبَابِ ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ أَخُوهُ أَبُو الْيَسَرِ بْنُ عَمْرٍو فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَقَالَ ‏"‏ أَعْتِقُوهَا فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَقِيقٍ قَدِمَ عَلَىَّ فَأْتُونِي أُعَوِّضْكُمْ مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَأَعْتَقُونِي وَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَقِيقٌ فَعَوَّضَهُمْ مِنِّي غُلاَمًا ‏.‏
بنی خارجہ قیس عیلان کی ایک خاتون سلامہ بنت معقل کہتی ہیں کہ جاہلیت میں مجھے میرے چچا لے کر آئے اور ابوالیسر بن عمرو کے بھائی حباب بن عمرو کے ہاتھ بیچ دیا، ان سے عبدالرحمٰن بن حباب پیدا ہوئے، پھر وہ مر گئے تو ان کی بیوی کہنے لگی: قسم اللہ کی اب تو ان کے قرضہ میں بیچی جائے گی، یہ سن کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بنی خارجہ قیس عیلان کی ایک خاتون ہوں، جاہلیت میں میرے چچا مدینہ لے کر آئے اور ابوالیسر بن عمرو کے بھائی حباب بن عمرو کے ہاتھ مجھے بیچ دیا ان سے میرے بطن سے عبدالرحمٰن بن حباب پیدا ہوئے، اب ان کی بیوی کہتی ہے: قسم اللہ کی تو ان کے قرض میں بیچی جائے گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: حباب کا وارث کون ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: ان کے بھائی ابوالیسر بن عمرو ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہلا بھیجا کہ اسے ( سلامہ کو ) آزاد کر دو، اور جب تم سنو کہ میرے پاس غلام اور لونڈی آئے ہیں تو میرے پاس آنا، میں تمہیں اس کا عوض دوں گا، سلامہ کہتی ہیں: یہ سنا تو ان لوگوں نے مجھے آزاد کر دیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلام اور لونڈی آئے تو آپ نے میرے عوض میں انہیں ایک غلام دے دیا۔
حدیث 3954 — سنن أبي داود 31:29
صحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بِعْنَا أُمَّهَاتِ الأَوْلاَدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ نَهَانَا فَانْتَهَيْنَا ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں ام ولد ۱؎ کو بیچا کرتے تھے، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو انہوں نے ہمیں اس کے بیچنے سے روک دیا چنانچہ ہم رک گئے۔
حدیث 3955 — سنن أبي داود 31:30
صحیحصحیحصحیح Bukhari (2230) Sahih Muslim (997 After 1668)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلاً، أَعْتَقَ غُلاَمًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَبِيعَ بِسَبْعِمِائَةٍ أَوْ بِتِسْعِمِائَةٍ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزاد کر دیا اور اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہ تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بیچنے کا حکم دیا تو وہ سات سویا نو سو میں بیچا گیا۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔