قرآني·Qurani
اردو

المناسك والحج

325 احادیث · #1721–2045

حدیث 1721 — سنن أبي داود 11:1
صحیحصحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْحَجُّ فِي كُلِّ سَنَةٍ أَوْ مَرَّةً وَاحِدَةً قَالَ ‏ "‏ بَلْ مَرَّةً وَاحِدَةً فَمَنْ زَادَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هُوَ أَبُو سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ كَذَا قَالَ عَبْدُ الْجَلِيلِ بْنُ حُمَيْدٍ وَسُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ وَقَالَ عُقَيْلٌ عَنْ سِنَانٍ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال ( فرض ) ہے یا ایک بار؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( ہر سال نہیں ) بلکہ ایک بار ہے اور جو ایک سے زائد بار کرے تو وہ نفل ہے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوسنان سے مراد ابوسنان دؤلی ہیں، اسی طرح عبدالجلیل بن حمید اور سلیمان بن کثیر نے زہری سے نقل کیا ہے، اور عقیل سے ابوسنان کے بجائے صرف سنان منقول ہے۔
حدیث 1722 — سنن أبي داود 11:2
صحیحصحیححسنحسن
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنٍ لأَبِي، وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لأَزْوَاجِهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ‏ "‏ هَذِهِ ثُمَّ ظُهُورُ الْحُصْرِ ‏"‏ ‏.‏
ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں اپنی ازواج مطہرات سے فرماتے سنا: یہی حج ہے پھر چٹائیوں کے پشت ہیں ۱؎۔
حدیث 1723 — سنن أبي داود 11:3
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (1339)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ لَيْلَةٍ إِلاَّ وَمَعَهَا رَجُلٌ ذُو حُرْمَةٍ مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان عورت کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ ایک رات کی مسافت کا سفر کرے مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ اس کا کوئی محرم ہو ۱؎۔
حدیث 1724 — سنن أبي داود 11:4
صحیحصحیحصحیح Muslim (1339)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَالنُّفَيْلِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، - قَالَ الْحَسَنُ فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِيهِ، ثُمَّ اتَّفَقُوا - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ يَوْمًا وَلَيْلَةً ‏"‏ ‏.‏ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَلَمْ يَذْكُرِ الْقَعْنَبِيُّ وَالنُّفَيْلِيُّ عَنْ أَبِيهِ رَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ عَنْ مَالِكٍ كَمَا قَالَ الْقَعْنَبِيُّ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ ایک دن اور ایک رات کا سفر کرے ۔ پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی جو اوپر گزری۔
حدیث 1725 — سنن أبي داود 11:5
ShadhShadhShadhIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ بَرِيدًا ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر انہوں نے اسی جیسی روایت ذکر کی البتہ اس میں ( دن رات کی مسافت کے بجائے ) «بريدا» کہا ہے ۱؎۔
حدیث 1726 — سنن أبي داود 11:6
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (1340)
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادٌ، أَنَّ أَبَا مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعًا، حَدَّثَاهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ سَفَرًا فَوْقَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ فَصَاعِدًا إِلاَّ وَمَعَهَا أَبُوهَا أَوْ أَخُوهَا أَوْ زَوْجُهَا أَوِ ابْنُهَا أَوْ ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ تین یا اس سے زیادہ دنوں کی مسافت کا سفر کرے سوائے اس صورت کے کہ اس کے ساتھ اس کا باپ ہو یا اس کا بھائی یا اس کا شوہر یا اس کا بیٹا یا اس کا کوئی محرم ۱؎ ۔
حدیث 1727 — سنن أبي داود 11:7
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (1087) Sahih Muslim (1338)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ ثَلاَثًا إِلاَّ وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: عورت تین دن کا سفر نہ کرے مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ کوئی محرم ہو ۔
حدیث 1728 — سنن أبي داود 11:8
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يُرْدِفُ مَوْلاَةً لَهُ يُقَالُ لَهَا صَفِيَّةُ تُسَافِرُ مَعَهُ إِلَى مَكَّةَ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں «صرورة» نہیں ہے ۔
حدیث 1729 — سنن أبي داود 11:9
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، - يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ الأَحْمَرَ - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ صَرُورَةَ فِي الإِسْلاَمِ ‏"‏ ‏.‏
سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام میں «صرورة» نہیں ہے۔“ (کوئی شخص باوجود استطاعت کے حج کرنے سے اعراض کر لے)۔
حدیث 1730 — سنن أبي داود 11:10
صحیحصحیحصحیح Bukhari (1523)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ، - يَعْنِي أَبَا مَسْعُودٍ الرَّازِيَّ - وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ - وَهَذَا لَفْظُهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنْ وَرْقَاءَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانُوا يَحُجُّونَ وَلاَ يَتَزَوَّدُونَ - قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ كَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ أَوْ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يَحُجُّونَ وَلاَ يَتَزَوَّدُونَ - وَيَقُولُونَ نَحْنُ الْمُتَوَكِّلُونَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ ‏{‏ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى ‏}‏ الآيَةَ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ حج کو جاتے اور زاد راہ نہیں لے جاتے۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اہل یمن یا اہل یمن میں سے کچھ لوگ حج کو جاتے اور زاد راہ نہیں لیتے اور کہتے: ہم متوکل ( اللہ پر بھروسہ کرنے والے ) ہیں تو اللہ نے آیت کریمہ«وتزودوا فإن خير الزاد التقوى» ۱؎ ( زاد راہ ساتھ لے لو اس لیے کہ بہترین زاد راہ یہ ہے کہ آدمی سوال سے بچے ) نازل فرمائی۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔