قرآني·Qurani
اردو

المناسك والحج

325 احادیث · #1721–2045

حدیث 1911 — سنن أبي داود 11:191
صحیحصحیححسنحسن
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ وَالْفَجْرَ يَوْمَ عَرَفَةَ بِمِنًى ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الترویہ ( آٹھویں ذی الحجہ ) کو ظہر اور یوم عرفہ ( نویں ذی الحجہ ) کو فجر منیٰ میں پڑھی
حدیث 1912 — سنن أبي داود 11:192
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (1763) Sahih Muslim (1309)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قُلْتُ أَخْبِرْنِي بِشَىْءٍ، عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ فَقَالَ بِمِنًى ‏.‏ قُلْتُ فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ قَالَ بِالأَبْطَحِ ثُمَّ قَالَ افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ ‏.‏
عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اور کہا: مجھے آپ وہ بتائیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کو یاد ہو کہ آپ نے ظہر یوم الترویہ ( آٹھویں ذی الحجہ ) کو کہاں پڑھی؟ انہوں نے کہا: منیٰ میں، میں نے عرض کیا تو لوٹنے کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کہاں پڑھی؟ فرمایا: ابطح میں، پھر کہا: تم وہی کرو جو تمہارے امراء کریں ۱؎۔
حدیث 1913 — سنن أبي داود 11:193
حسنحسنحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ غَدَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ مِنًى حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ صَبِيحَةَ يَوْمِ عَرَفَةَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ فَنَزَلَ بِنَمِرَةَ وَهِيَ مَنْزِلُ الإِمَامِ الَّذِي يَنْزِلُ بِهِ بِعَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ صَلاَةِ الظُّهْرِ رَاحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُهَجِّرًا فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ رَاحَ فَوَقَفَ عَلَى الْمَوْقِفِ مِنْ عَرَفَةَ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم عرفہ ( نویں ذی الحجہ ) کو فجر پڑھ کر منیٰ سے چلے یہاں تک کہ عرفات آئے تو نمرہ میں اترے اور نمرہ عرفات میں امام کے اترنے کی جگہ ہے، جب ظہر کا وقت آنے کو ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( نمرہ سے ) عین دوپہر میں چلے اور ظہر اور عصر کو جمع کیا، پھر لوگوں میں خطبہ دیا ۱؎ پھر چلے اور عرفات میں موقف میں وقوف کیا۔
حدیث 1914 — سنن أبي داود 11:194
حسنحسنضعیفضعیف
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ لَمَّا أَنْ قَتَلَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَيْرِ، أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ أَيَّةُ سَاعَةٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرُوحُ فِي هَذَا الْيَوْمِ قَالَ إِذَا كَانَ ذَلِكَ رُحْنَا ‏.‏ فَلَمَّا أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ أَنْ يَرُوحَ قَالُوا لَمْ تَزِغِ الشَّمْسُ ‏.‏ قَالَ أَزَاغَتْ قَالُوا لَمْ تَزِغْ - أَوْ زَاغَتْ - قَالَ فَلَمَّا قَالُوا قَدْ زَاغَتِ ‏.‏ ارْتَحَلَ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب حجاج نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو قتل کیا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ( پوچھنے کے لیے آدمی ) بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج ( یعنی عرفہ ) کے دن ( نماز اور خطبہ کے لیے ) کس وقت نکلتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا جب یہ وقت آئے گا تو ہم خود چلیں گے، پھر جب ابن عمر رضی اللہ عنہما نے چلنے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے کہا: ابھی سورج ڈھلا نہیں، انہوں نے پوچھا: کیا اب ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا، پھر جب لوگوں نے کہا کہ سورج ڈھل گیا تو وہ چلے۔
حدیث 1915 — سنن أبي داود 11:195
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَمِّهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ بِعَرَفَةَ ‏.‏
بنی ضمرہ کے ایک آدمی اپنے والد یا اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں منبر پر ( خطبہ دیتے ) دیکھا۔
حدیث 1916 — سنن أبي داود 11:196
صحیحصحیحصحیح Lighairihiضعیف
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنَ الْحَىِّ عَنْ أَبِيهِ، نُبَيْطٍ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَاقِفًا بِعَرَفَةَ عَلَى بَعِيرٍ أَحْمَرَ يَخْطُبُ ‏.‏
نبیط بن شریط رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں سرخ اونٹ پر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا۔
حدیث 1917 — سنن أبي داود 11:197
صحیحصحیحIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ، قَالَ حَدَّثَنِي الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ، - قَالَ هَنَّادٌ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ أَبِي عَمْرٍو، - قَالَ حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ الْعَدَّاءِ بْنِ هَوْذَةَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ عَرَفَةَ عَلَى بَعِيرٍ قَائِمٌ فِي الرِّكَابَيْنِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ ابْنُ الْعَلاَءِ عَنْ وَكِيعٍ كَمَا قَالَ هَنَّادٌ ‏.‏
خالد بن عداء بن ہوذہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں عرفہ کے دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹ پر دونوں رکابوں کے درمیان کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ ۱؎ دیتے دیکھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن العلاء نے وکیع سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے ہناد نے
حدیث 1918 — سنن أبي داود 11:198
ضعیفصحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ أَبُو عَمْرٍو، عَنِ الْعَدَّاءِ، بِمَعْنَاهُ ‏.‏
اس سند سے بھی عداء بن خالد سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔
حدیث 1919 — سنن أبي داود 11:199
صحیحصحیححسن Sahihصحیح
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، - يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ - عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَيْبَانَ، قَالَ أَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الأَنْصَارِيُّ وَنَحْنُ بِعَرَفَةَ فِي مَكَانٍ يُبَاعِدُهُ عَمْرٌو عَنِ الإِمَامِ فَقَالَ أَمَا إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَيْكُمْ يَقُولُ لَكُمْ ‏ "‏ قِفُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ ‏"‏ ‏.‏
یزید بن شیبان کہتے ہیں ہمارے پاس ابن مربع انصاری آئے ہم عرفات میں تھے ( وہ ایسی جگہ تھی جسے عمرو ( عمرو بن عبداللہ ) امام سے دور سمجھتے تھے ) ، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا قاصد ہوں، آپ کا فرمان ہے کہ اپنے مشاعر ( نشانیوں کی جگہوں ) پر ٹھہرو ۱؎ اس لیے کہ تم اپنے والد ابراہیم کے وارث ہو
حدیث 1920 — سنن أبي داود 11:200
صحیحصحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ، - الْمَعْنَى - عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ عَرَفَةَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ وَقَالَ ‏"‏ أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَالإِبِلِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَيْهَا عَادِيَةً حَتَّى أَتَى جَمْعًا ‏.‏ زَادَ وَهْبٌ ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَالإِبِلِ فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَيْهَا حَتَّى أَتَى مِنًى ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے، آپ پر اطمینان اور سکینت طاری تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف اسامہ رضی اللہ عنہ تھے، آپ نے فرمایا: لوگو! اطمینان و سکینت کو لازم پکڑو اس لیے کہ گھوڑوں اور اونٹوں کا دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے انہیں ( گھوڑوں اور اونٹوں کو ) ہاتھ اٹھائے دوڑتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمع ( مزدلفہ ) آئے، ( وہب کی روایت میں اتنا زیادہ ہے ) : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو بٹھایا اور فرمایا: لوگو! گھوڑوں اور اونٹوں کو دوڑانا نیکی نہیں ہے تم اطمینان اور سکینت کو لازم پکڑو ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: پھر میں نے کسی اونٹ اور گھوڑے کو اپنے ہاتھ اٹھائے ( دوڑتے ) نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ آئے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔