قرآني·Qurani
اردو

المناسك والحج

325 احادیث · #1721–2045

حدیث 1991 — سنن أبي داود 11:271
صحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اعْتَمَرَ عُمْرَتَيْنِ عُمْرَةً فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً فِي شَوَّالٍ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو عمرے کئے: ایک ذی قعدہ میں اور دوسرا شوال میں ۱؎۔
حدیث 1992 — سنن أبي داود 11:272
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَرَّتَيْنِ ‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ لَقَدْ عَلِمَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدِ اعْتَمَرَ ثَلاَثًا سِوَى الَّتِي قَرَنَهَا بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ ‏.‏
مجاہد کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے؟ انہوں نے جواب دیا: دو بار۱؎، اس پر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمرے کے علاوہ جو آپ نے حجۃ الوداع کے ساتھ ملایا تھا تین عمرے کئے ہیں۔
حدیث 1993 — سنن أبي داود 11:273
صحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، وَقُتَيْبَةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعَ عُمَرٍ عُمْرَةَ الْحُدَيْبِيَةِ وَالثَّانِيَةَ حِينَ تَوَاطَئُوا عَلَى عُمْرَةٍ مِنْ قَابِلٍ وَالثَّالِثَةَ مِنَ الْجِعْرَانَةِ وَالرَّابِعَةَ الَّتِي قَرَنَ مَعَ حَجَّتِهِ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے: ایک عمرہ حدیبیہ کا، دوسرا وہ عمرہ جسے آئندہ سال کرنے پر اتفاق کیا تھا، تیسرا عمرہ جعرانہ کا ۱؎، اور چوتھا وہ جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج کے ساتھ ملایا تھا۔
حدیث 1994 — سنن أبي داود 11:274
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (1778) Sahih Muslim (1253)
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَهُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ كُلُّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ إِلاَّ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ - قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَتْقَنْتُ مِنْ هَا هُنَا مِنْ هُدْبَةَ وَسَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي الْوَلِيدِ وَلَمْ أَضْبِطْهُ - عُمْرَةً زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ أَوْ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَعُمْرَةَ الْقَضَاءِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مِنَ الْجِعْرَانَةِ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ ‏.‏
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے اور وہ تمام ذی قعدہ میں تھے سوائے اس کے جسے آپ نے اپنے حج کے ساتھ ملایا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہاں سے آگے کے الفاظ میں نے ابوالولید سے بھی سنے لیکن انہیں یاد نہیں رکھ سکا، البتہ ہدبہ کے الفاظ اچھی طرح یاد ہیں کہ: ایک حدیبیہ کے زمانے کا، یا حدیبیہ کا عمرہ، دوسرا ذی قعدہ میں قضاء کا عمرہ، تیسرا عمرہ ذی قعدہ میں جعرانہ کا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کا مال غنیمت تقسیم فرمایا، اور چوتھا وہ عمرہ جسے آپ نے اپنے حج کے ساتھ ملایا۔
حدیث 1995 — سنن أبي داود 11:275
صحیحصحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ ‏ "‏ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَرْدِفْ أُخْتَكَ عَائِشَةَ فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ فَإِذَا هَبَطْتَ بِهَا مِنَ الأَكَمَةِ فَلْتُحْرِمْ فَإِنَّهَا عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ ‏"‏ ‏.‏
عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے فرمایا: عبدالرحمٰن! اپنی بہن عائشہ کو بٹھا کر لے جاؤ اور انہیں تنعیم ۱؎ سے عمرہ کرا لاؤ، جب تم ٹیلوں سے تنعیم میں اترو تو چاہیئے کہ وہ احرام باندھے ہو، کیونکہ یہ مقبول عمرہ ہے ۔
حدیث 1996 — سنن أبي داود 11:276
MunkarMunkarIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُزَاحِمِ بْنِ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي مُزَاحِمٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسِيدٍ، عَنْ مُحَرِّشٍ الْكَعْبِيِّ، قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْجِعْرَانَةَ فَجَاءَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَرَكَعَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَحْرَمَ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى رَاحِلَتِهِ فَاسْتَقْبَلَ بَطْنَ سَرِفَ حَتَّى لَقِيَ طَرِيقَ الْمَدِينَةِ فَأَصْبَحَ بِمَكَّةَ كَبَائِتٍ ‏.‏
محرش کعبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں داخل ہوئے تو مسجد آئے اور وہاں اللہ نے جتنی چاہا نماز پڑھی، پھر احرام باندھا، پھر اپنی سواری پر جم کر بیٹھ گئے اور وادی سرف کی طرف بڑھے یہاں تک کہ مدینہ کے راستہ سے جا ملے، پھر آپ نے صبح مکہ میں اس طرح کی جیسے کوئی رات کو مکہ میں رہا ہو۔
حدیث 1997 — سنن أبي داود 11:277
صحیحصحیحصحیح Lighairihiضعیف
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، وَعَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقَامَ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ ثَلاَثًا ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ قضاء میں تین دن قیام فرمایا۔
حدیث 1998 — سنن أبي داود 11:278
صحیحصحیحصحیح Muslim (1308)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى يَعْنِي رَاجِعًا ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو طواف افاضہ کیا پھر منی میں ظہر ادا کی یعنی ( طواف سے ) لوٹ کر۔
حدیث 1999 — سنن أبي داود 11:279
حسن Sahihحسن SahihIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، - الْمَعْنَى وَاحِدٌ - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ أُمِّهِ، زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، - يُحَدِّثَانِهِ جَمِيعًا ذَاكَ عَنْهَا - قَالَتْ كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي يَصِيرُ إِلَىَّ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَسَاءَ يَوْمِ النَّحْرِ فَصَارَ إِلَىَّ وَدَخَلَ عَلَىَّ وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي أُمَيَّةَ مُتَقَمِّصَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِوَهْبٍ ‏"‏ هَلْ أَفَضْتَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ انْزِعْ عَنْكَ الْقَمِيصَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَنَزَعَهُ مِنْ رَأْسِهِ وَنَزَعَ صَاحِبُهُ قَمِيصَهُ مِنْ رَأْسِهِ ثُمَّ قَالَ وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ رُخِّصَ لَكُمْ إِذَا أَنْتُمْ رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ أَنْ تَحِلُّوا ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي مِنْ كُلِّ مَا حَرُمْتُمْ مِنْهُ إِلاَّ النِّسَاءَ ‏"‏ فَإِذَا أَمْسَيْتُمْ قَبْلَ أَنْ تَطُوفُوا هَذَا الْبَيْتَ صِرْتُمْ حُرُمًا كَهَيْئَتِكُمْ قَبْلَ أَنْ تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطُوفُوا بِهِ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری وہ رات جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے یوم النحر کی شام تھی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اتنے میں وہب بن زمعہ اور ان کے ساتھ ابوامیہ کی اولاد کا ایک شخص دونوں قمیص پہنے میرے یہاں آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہب سے پوچھا: ابوعبداللہ! کیا تم نے طواف افاضہ کر لیا؟ وہ بولے: قسم اللہ کی! نہیں اللہ کے رسول، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اپنی قمیص اتار دو ، چنانچہ انہوں نے اپنی قمیص اپنے سر سے اتار دی اور ان کے ساتھی نے بھی اپنے سر سے اپنی قمیص اتار دی پھر بولے: اللہ کے رسول! ایسا کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ دن ہے کہ جب تم جمرہ کو کنکریاں مار لو تو تمہارے لیے وہ تمام چیزیں حلال ہو جائیں گی جو تمہارے لیے حالت احرام میں حرام تھیں سوائے عورتوں کے، پھر جب شام کر لو اور بیت اللہ کا طواف نہ کر سکو تو تمہارا احرام باقی رہے گا، اسی طرح جیسے رمی جمرات سے پہلے تھا یہاں تک کہ تم اس کا طواف کر لو ۔
حدیث 2000 — سنن أبي داود 11:280
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ، عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَخَّرَ طَوَافَ يَوْمِ النَّحْرِ إِلَى اللَّيْلِ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کا طواف رات تک مؤخر کیا۱؎۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔