ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو منبر پر کہتے سنا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تو کہتے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون أهل النعمة والفضل والثناء الحسن، لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے حمد ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، ہم خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں اگرچہ کافر برا سمجھیں، وہ احسان، فضل اور اچھی تعریف کا مستحق ہے۔ کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، ہم خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں، اگرچہ کافر برا سمجھیں ۔
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہر نماز کے بعد «لا إله إلا الله ***» کہا کرتے تھے پھر انہوں نے اس جیسی دعا کا ذکر کیا، البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا: «ولا حول ولا قوة إلا بالله لا إله إلا الله لا نعبد إلا إياه له النعمة ***» اور پھر آگے بقیہ حدیث بیان کی۔
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا- ( سلیمان کی روایت میں اس طرح ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے بعد فرماتے تھے ) : «اللهم ربنا ورب كل شىء أنا شهيد أنك أنت الرب وحدك لا شريك لك، اللهم ربنا ورب كل شىء أنا شهيد أن محمدا عبدك ورسولك، اللهم ربنا ورب كل شىء، أن العباد كلهم إخوة، اللهم ربنا ورب كل شىء، اجعلني مخلصا لك وأهلي في كل ساعة في الدنيا والآخرة يا ذا الجلال والإكرام اسمع واستجب [ الله أكبر الأكبر ] اللهم نور السموات والأرض، الله أكبر الأكبر، حسبي الله ونعم الوكيل الله أكبر الأكبر» اے اللہ! ہمارا رب اور ہر چیز کا رب، میں گواہ ہوں کہ تو اکیلا رب ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، اے اللہ! ہمارے رب! اور اے ہر چیز کے رب! میں گواہ ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، اے اللہ! ہمارے رب! اور ہر چیز کے رب! میں گواہ ہوں کہ تمام بندے بھائی بھائی ہیں، اے اللہ! ہمارے رب! اور ہر چیز کے رب! مجھے اور میرے گھر والوں کو اپنا مخلص بنا لے دنیا و آخرت کی ہر ساعت میں، اے جلال، بزرگی اور عزت والے! سن لے اور قبول فرما لے، اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے، اے اللہ! تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے ( سلیمان بن داود کی روایت میں نور کے بجائے رب کا لفظ ہے ) اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے، اللہ میرے لیے کافی ہے اور بہت بہتر وکیل ہے، اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے ۔
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو کہتے: «اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت، وما أسررت وما أعلنت، وما أسرفت، وما أنت أعلم به مني، أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت» اے اللہ! میرے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دے اور وہ تمام گناہ جنہیں میں نے چھپ کر اور کھلم کھلا کیا ہو، اور جو زیادتی کی ہو اسے اور اس گناہ کو جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، بخش دے۔ تو جسے چاہے آگے کرے، جسے چاہے پیچھے کرے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے: «رب أعني ولا تعن علي، وانصرني ولا تنصر علي، وامكر لي ولا تمكر علي، واهدني ويسر هداي إلي، وانصرني على من بغى علي، اللهم اجعلني لك شاكرا لك، ذاكرا لك، راهبا لك، مطواعا إليك مخبتا أو منيبا، رب تقبل توبتي، واغسل حوبتي، وأجب دعوتي، وثبت حجتي، واهد قلبي، وسدد لساني، واسلل سخيمة قلبي» اے میرے رب! میری مدد کر، میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر، میری تائید کر، میرے خلاف کسی کی تائید نہ کر، ایسی چال چل جو میرے حق میں ہو، نہ کہ ایسی جو میرے خلاف ہو، مجھے ہدایت دے اور جو ہدایت مجھے ملنے والی ہے، اسے مجھ تک آسانی سے پہنچا دے، اس شخص کے مقابلے میں میری مدد کر، جو مجھ پر زیادتی کرے، اے اللہ! مجھے تو اپنا شکر گزار، اپنا یاد کرنے والا اور اپنے سے ڈرنے والا بنا، اپنا اطاعت گزار، اپنی طرف گڑگڑانے والا، یا دل لگانے والا بنا، اے میرے پروردگار! میری توبہ قبول کر، میرے گناہ دھو دے، میری دعا قبول فرما، میری دلیل مضبوط کر، میرے دل کو سیدھی راہ دکھا، میری زبان کو درست کر اور میرے دل سے حسد اور کینہ نکال دے ۔
سفیان ثوری کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن مرہ سے اسی سند سے اسی مفہوم کی روایت سنی ہے، اس میں «يسر هداي إلي» کے بجائے«يسر الهدى إلي» ہے۔
حدیث 1512 — سنن أبي داود 8:97
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (592)
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، وَخَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا سَلَّمَ قَالَ " اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْكَ السَّلاَمُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ " .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو فرماتے: «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» ۱؎ اے اللہ تو ہی سلام ہے، تیری ہی طرف سے سلام ہے، تو بڑی برکت والا ہے، اے جلال اور بزرگی والے ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان کا سماع عمرو بن مرہ سے ہے، لوگوں نے کہا ہے: انہوں نے عمرو بن مرہ سے اٹھارہ حدیثیں سنی ہیں ۲؎۔
حدیث 1513 — سنن أبي داود 8:98
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (591)
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ مِنْ صَلاَتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ " . فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ عَائِشَةَ رضى الله عنها .
ثوبان مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہو کر پلٹتے تو تین مرتبہ استغفار کرتے، اس کے بعد «اللهم» کہتے، پھر راوی نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی اوپر والی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو استغفار کرتا رہا اس نے گناہ پر اصرار نہیں کیا گرچہ وہ دن بھر میں ستر بار اس گناہ کو دہرائے ۱؎۔
اغر مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے دل پر غفلت کا پردہ آ جاتا ہے، حالانکہ میں اپنے پروردگار سے ہر روز سو بار استغفار کرتا ہوں ۔