قرآني·Qurani
اردو

صلاة التطوع

121 احادیث · #1250–1370

حدیث 1300 — سنن أبي داود 5:51
حسنحسنحسن LighairihiIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنِي أَبُو مُطَرِّفٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْفِطْرِيُّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَتَى مَسْجِدَ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ فَصَلَّى فِيهِ الْمَغْرِبَ فَلَمَّا قَضَوْا صَلاَتَهُمْ رَآهُمْ يُسَبِّحُونَ بَعْدَهَا فَقَالَ ‏ "‏ هَذِهِ صَلاَةُ الْبُيُوتِ ‏"‏ ‏.‏
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عبدالاشہل کی مسجد میں آئے اور اس میں مغرب ادا کی، جب لوگ نماز پڑھ چکے تو آپ نے ان کو دیکھا کہ نفل پڑھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو گھروں کی نماز ہے ۔
حدیث 1301 — سنن أبي داود 5:52
ضعیفضعیفحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْجَرَائِيُّ، حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُطِيلُ الْقِرَاءَةَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ حَتَّى يَتَفَرَّقَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ نَصْرٌ الْمُجَدَّرُ عَنْ يَعْقُوبَ الْقُمِّيِّ وَأَسْنَدَهُ مِثْلَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ حَدَّثَنَا نَصْرٌ الْمُجَدَّرُ عَنْ يَعْقُوبَ مِثْلَهُ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے بعد کی دونوں رکعتوں میں لمبی قرآت فرماتے یہاں تک کہ مسجد کے لوگ متفرق ہو جاتے ( یعنی سنتیں پڑھ پڑھ کر چلے جاتے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نصر مجدر نے یعقوب قمی سے اسی کے مثل روایت کی ہے اور اسے مسند قرار دیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہم سے اسے محمد بن عیسی بن طباع نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سے نصر مجدر نے بیان کیا ہے وہ یعقوب سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔
حدیث 1302 — سنن أبي داود 5:53
ضعیفضعیفحسنحسن
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ مُرْسَلٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ حُمَيْدٍ يَقُولُ سَمِعْتُ يَعْقُوبَ يَقُولُ كُلُّ شَىْءٍ حَدَّثْتُكُمْ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَهُوَ مُسْنَدٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
اس طریق سے بھی سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث مرسلاً روایت کی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن حمید کو کہتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے یعقوب کو کہتے ہوئے سنا کہ وہ تمام روایتیں جن کو میں نے تم لوگوں سے «جعفر عن سعيد بن جبير عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم» کے طریق سے بیان کیا ہے، وہ مسند ہیں، سعید نے یہ روایتیں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، اور ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہیں۔
حدیث 1303 — سنن أبي داود 5:54
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ الْعُكْلِيُّ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، حَدَّثَنِي مُقَاتِلُ بْنُ بَشِيرٍ الْعِجْلِيُّ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَ سَأَلْتُهَا عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعِشَاءَ قَطُّ فَدَخَلَ عَلَىَّ إِلاَّ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ أَوْ سِتَّ رَكَعَاتٍ وَلَقَدْ مُطِرْنَا مَرَّةً بِاللَّيْلِ فَطَرَحْنَا لَهُ نِطْعًا فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى ثُقْبٍ فِيهِ يَنْبُعُ الْمَاءُ مِنْهُ وَمَا رَأَيْتُهُ مُتَّقِيًا الأَرْضَ بِشَىْءٍ مِنْ ثِيَابِهِ قَطُّ ‏.‏
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء پڑھنے کے بعد جب بھی میرے پاس آئے تو آپ نے چار رکعتیں یا چھ رکعتیں پڑھیں، ایک بار رات کو بارش ہوئی تو ہم نے آپ کے لیے ایک چمڑا بچھا دیا، گویا میں اس میں ( اب بھی ) وہ سوراخ دیکھ رہی ہوں جس سے پانی نکل کر اوپر آ رہا تھا لیکن میں نے آپ کو مٹی سے اپنے کپڑے بچاتے بالکل نہیں دیکھا۔
حدیث 1304 — سنن أبي داود 5:55
حسنحسنحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ ابْنُ شَبُّويَةَ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ فِي الْمُزَّمِّلِ ‏{‏ قُمِ اللَّيْلَ إِلاَّ قَلِيلاً * نِصْفَهُ ‏}‏ نَسَخَتْهَا الآيَةُ الَّتِي فِيهَا ‏{‏ عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ ‏}‏ وَنَاشِئَةُ اللَّيْلِ أَوَّلُهُ وَكَانَتْ صَلاَتُهُمْ لأَوَّلِ اللَّيْلِ يَقُولُ هُوَ أَجْدَرُ أَنْ تُحْصُوا مَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ وَذَلِكَ أَنَّ الإِنْسَانَ إِذَا نَامَ لَمْ يَدْرِ مَتَى يَسْتَيْقِظُ وَقَوْلُهُ ‏{‏ أَقْوَمُ قِيلاً ‏}‏ هُوَ أَجْدَرُ أَنْ يُفْقَهَ فِي الْقُرْآنِ وَقَوْلُهُ ‏{‏ إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلاً ‏}‏ يَقُولُ فَرَاغًا طَوِيلاً ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں سورۃ مزمل کی آیت «قم الليل إلا قليلا، نصفه» ۱؎ رات کو کھڑے رہو مگر تھوڑی رات یعنی آدھی رات کو دوسری آیت «علم أن لن تحصوه فتاب عليكم فاقرءوا ما تيسر من القرآن» ۲؎ اسے معلوم ہے کہ تم اس کو پورا نہ کر سکو گے لہٰذا اس نے تم پر مہربانی کی، لہٰذا اب تم جتنی آسانی سے ممکن ہو ( نماز میں ) قرآن پڑھا کرو نے منسوخ کر دیا ہے،«ناشئة الليل» کے معنی شروع رات کے ہیں، چنانچہ صحابہ کی نماز شروع رات میں ہوتی تھی، اس لیے کہ رات میں جو قیام اللہ نے تم پر فرض کیا تھا اس کی ادائیگی اس وقت آسان اور مناسب ہے کیونکہ انسان سو جائے تو اسے نہیں معلوم کہ وہ کب جاگے گا اور «أقوم قيلا» سے مراد یہ ہے رات کا وقت قرآن سمجھنے کے لیے بہت اچھا وقت ہے اور اس کے قول «إن لك في النهار سبحا طويلا» ۳؎ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے کام کاج کے واسطے دن کو بہت فرصت ہوتی ہے ( لہٰذا رات کا وقت عبادت میں صرف کیا کرو ) ۔
حدیث 1305 — سنن أبي داود 5:56
صحیحصحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، - يَعْنِي الْمَرْوَزِيَّ - حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ أَوَّلُ الْمُزَّمِّلِ كَانُوا يَقُومُونَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِمْ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ حَتَّى نَزَلَ آخِرُهَا وَكَانَ بَيْنَ أَوَّلِهَا وَآخِرِهَا سَنَةٌ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب سورۃ مزمل کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو لوگ رات کو ( نماز میں ) کھڑے رہتے جتنا کہ رمضان میں کھڑے رہتے ہیں، یہاں تک کہ سورۃ کا آخری حصہ نازل ہوا، ان دونوں کے درمیان ایک سال کا وقفہ ہے۔
حدیث 1306 — سنن أبي داود 5:57
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (1142) Sahih Muslim (776)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ إِذَا هُوَ نَامَ ثَلاَثَ عُقَدٍ يَضْرِبُ مَكَانَ كُلِّ عُقْدَةٍ عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ فَارْقُدْ فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِنْ صَلَّى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ وَإِلاَّ أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلاَنَ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان تم میں سے ہر ایک کی گدی پر رات کو سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر تھپکی دے کر کہتا ہے: ابھی لمبی رات پڑی ہے، سو جاؤ، اب اگر وہ جاگ جائے اور اللہ کا ذکر کرے تو اس کی ایک گرہ کھل جاتی ہے، اور اگر وہ وضو کر لے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، اور اگر نماز پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے، اب وہ صبح اٹھتا ہے تو چستی اور خوش دلی کے ساتھ اٹھتا ہے ورنہ سستی اور بد دلی کے ساتھ صبح کرتا ہے ۔
حدیث 1307 — سنن أبي داود 5:58
صحیحصحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ، يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها لاَ تَدَعْ قِيَامَ اللَّيْلِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ لاَ يَدَعُهُ وَكَانَ إِذَا مَرِضَ أَوْ كَسِلَ صَلَّى قَاعِدًا ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں تہجد ( قیام اللیل ) نہ چھوڑو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے نہیں چھوڑتے تھے، جب آپ بیمار یا سست ہوتے تو بیٹھ کر پڑھتے۔
حدیث 1308 — سنن أبي داود 5:59
حسن Sahihحسن Sahihصحیح
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ رَحِمَ اللَّهُ رَجُلاً قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو بھی جگائے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے ۱؎ ۔
حدیث 1309 — سنن أبي داود 5:60
صحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ، - الْمَعْنَى - عَنِ الأَغَرِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي، هُرَيْرَةَ قَالاَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا أَيْقَظَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّيَا أَوْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ جَمِيعًا كُتِبَا فِي الذَّاكِرِينَ وَالذَّاكِرَاتِ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَرْفَعْهُ ابْنُ كَثِيرٍ وَلاَ ذَكَرَ أَبَا هُرَيْرَةَ جَعَلَهُ كَلاَمَ أَبِي سَعِيدٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ ابْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ وَأُرَاهُ ذَكَرَ أَبَا هُرَيْرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدِيثُ سُفْيَانَ مَوْقُوفٌ ‏.‏
ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی کو رات میں جگائے اور وہ دونوں نماز پڑھیں تو وہ دونوں ذاکرین اور ذاکرات میں لکھے جاتے ہیں ۔ ابن کثیر نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے اور نہ اس میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے اور انہوں نے اسے ابوسعید رضی اللہ عنہ کا کلام قرار دیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن مہدی نے سفیان سے روایت کیا ہے اور میرا گمان ہے کہ اس میں انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بھی ذکر کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان کی حدیث موقوف ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔