قرآني·Qurani
اردو

صلاة التطوع

121 احادیث · #1250–1370

حدیث 1320 — سنن أبي داود 5:71
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (489)
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ السَّكْسَكِيُّ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ كَعْبٍ الأَسْلَمِيَّ، يَقُولُ ‏:‏ كُنْتُ أَبِيتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم آتِيهِ بِوَضُوئِهِ وَبِحَاجَتِهِ، فَقَالَ ‏:‏ ‏"‏ سَلْنِي ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ ‏:‏ مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ أَوَغَيْرَ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ ‏:‏ هُوَ ذَاكَ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ ‏"‏ ‏.‏
ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات گزارتا تھا، آپ کو وضو اور حاجت کا پانی لا کر دیتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مانگو مجھ سے ، میں نے عرض کیا: میں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ اور کچھ؟ ، میں نے کہا: بس یہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا تو اپنے واسطے کثرت سے سجدے کر کے ( یعنی نماز پڑھ کر ) میری مدد کرو ۔
حدیث 1321 — سنن أبي داود 5:72
صحیحصحیححسن Sahihضعیف
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فِي هَذِهِ الآيَةِ ‏{‏ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ، يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ ‏}‏ قَالَ ‏:‏ كَانُوا يَتَيَقَّظُونَ مَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ يُصَلُّونَ، وَكَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ ‏:‏ قِيَامُ اللَّيْلِ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں یہ جو اللہ تعالیٰ کا قول ہے «تتجا فى جنوبهم عن المضاجع يدعون ربهم خوفا وطمعا ومما رزقناهم ينفقون» ان کے پہلو بچھونوں سے جدا رہتے ہیں، اپنے رب کو ڈر اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں ( سورۃ السجدۃ: ۱۶ ) اس سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ مغرب اور عشاء کے درمیان جاگتے اور نماز پڑھتے ہیں۔ حسن کہتے ہیں: اس سے مراد تہجد پڑھنا ہے۔
حدیث 1322 — سنن أبي داود 5:73
صحیحصحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، فِي قَوْلِهِ جَلَّ وَعَزَّ ‏{‏ كَانُوا قَلِيلاً مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ ‏}‏ قَالَ ‏:‏ كَانُوا يُصَلُّونَ فِيمَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، زَادَ فِي حَدِيثِ يَحْيَى ‏:‏ وَكَذَلِكَ ‏{‏ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ ‏}‏ ‏.‏
انس رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول «كانوا قليلا من الليل ما يهجعون» وہ رات کو بہت تھوڑا سویا کرتے تھے ( سورۃ الذاریات: ۱۷ ) کے بارے میں روایت ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ لوگ مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھتے تھے۔ یحییٰ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ «تتجافى جنوبهم‏» سے بھی یہی مراد ہے۔
حدیث 1323 — سنن أبي داود 5:74
ضعیفضعیفصحیح Muqufصحیح Muslim (768)
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏:‏ ‏ "‏ إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی رات کو اٹھے تو دو ہلکی رکعتیں پڑھے۱؎ ۔
حدیث 1324 — سنن أبي داود 5:75
صحیح Muqufصحیح Muqufصحیح
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، - يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ - عَنْ رَبَاحِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ ‏:‏ ‏"‏ إِذَا ‏"‏ ‏.‏ بِمَعْنَاهُ زَادَ ‏:‏ ‏"‏ ثُمَّ لْيُطَوِّلْ بَعْدُ مَا شَاءَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ ‏:‏ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ وَجَمَاعَةٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ أَوْقَفُوهُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَيُّوبُ وَابْنُ عَوْنٍ أَوْقَفُوهُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، وَرَوَاهُ ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ ‏:‏ فِيهِمَا تَجَوَّزْ ‏.‏
اس طریق سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے: پھر اس کے بعد جتنا چاہے طویل کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حماد بن سلمہ، زہیر بن معاویہ اور ایک جماعت نے ہشام سے انہوں نے محمد سے روایت کیا ہے اور اسے لوگوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر موقوف قرار دیا ہے، اور اسی طرح اسے ایوب اور ابن عون نے روایت کیا ہے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر موقوف قرار دیا ہے، نیز اسے ابن عون نے محمد سے روایت کیا ہے اس میں ہے: ان دونوں رکعتوں میں تخفیف کرے ۔
حدیث 1325 — سنن أبي داود 5:76
صحیحصحیحصحیحIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا ابْنُ حَنْبَلٍ، - يَعْنِي أَحْمَدَ - حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيٍّ الأَزْدِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ الْخَثْعَمِيِّ، ‏:‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ أَىُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ ‏:‏ ‏ "‏ طُولُ الْقِيَامِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( نماز میں ) دیر تک کھڑے رہنا ۱؎ ۔
حدیث 1326 — سنن أبي داود 5:77
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (990) Sahih Muslim (749)
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ‏:‏ أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَلاَةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏:‏ ‏ "‏ صَلاَةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز ( تہجد ) کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، جب تم میں سے کسی کو یہ ڈر ہو کہ صبح ہو جائے گی تو ایک رکعت اور پڑھ لے، یہ اس کی ساری رکعتوں کو جو اس نے پڑھی ہیں طاق ( وتر ) کر دے گی ۱؎ ۔
حدیث 1327 — سنن أبي داود 5:78
حسن Sahihحسن SahihحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْكَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ ‏:‏ كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلَى قَدْرِ مَا يَسْمَعُهُ مَنْ فِي الْحُجْرَةِ وَهُوَ فِي الْبَيْتِ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت اتنی اونچی آواز سے ہوتی کہ آنگن میں رہنے والے کو سنائی دیتی اور حال یہ ہوتا کہ آپ اپنے گھر میں ( نماز پڑھ رہے ) ہوتے۔
حدیث 1328 — سنن أبي داود 5:79
حسنحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ ‏:‏ كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِاللَّيْلِ يَرْفَعُ طَوْرًا وَيَخْفِضُ طَوْرًا ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ ‏:‏ أَبُو خَالِدٍ الْوَالِبِيُّ اسْمُهُ هُرْمُزُ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت کبھی بلند آواز سے ہوتی تھی اور کبھی دھیمی آواز سے۔
حدیث 1329 — سنن أبي داود 5:80
صحیحصحیحصحیحIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، ‏:‏ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ لَيْلَةً فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ - رضى الله عنه - يُصَلِّي يَخْفِضُ مِنْ صَوْتِهِ - قَالَ - وَمَرَّ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَهُوَ يُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَهُ - قَالَ - فَلَمَّا اجْتَمَعَا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏:‏ ‏"‏ يَا أَبَا بَكْرٍ مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي تَخْفِضُ صَوْتَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ قَدْ أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَيْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ وَقَالَ لِعُمَرَ ‏:‏ ‏"‏ مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ ‏:‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُوقِظُ الْوَسْنَانَ وَأَطْرُدُ الشَّيْطَانَ ‏.‏ زَادَ الْحَسَنُ فِي حَدِيثِهِ ‏:‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏:‏ ‏"‏ يَا أَبَا بَكْرٍ ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ لِعُمَرَ ‏:‏ ‏"‏ اخْفِضْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات باہر نکلے تو دیکھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے ہیں اور پست آواز سے قرآت کر رہے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمر کے پاس سے گزرے اور وہ بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے، جب دونوں ( ابوبکر و عمر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! میں تمہارے پاس سے گزرا اور دیکھا کہ تم دھیمی آواز سے نماز پڑھ رہے ہو ، آپ نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں نے اس کو ( یعنی اللہ تعالیٰ کو ) سنا دیا ہے، جس سے میں سرگوشی کر رہا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: میں تمہارے پاس سے گزرا تو تم بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے ، تو انہوں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں سوتے کو جگاتا اور شیطان کو بھگاتا ہوں۔ حسن بن الصباح کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر! تم اپنی آواز تھوڑی بلند کر لو ، اور عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: تم اپنی آواز تھوڑی دھیمی کر لو ۱؎ ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔