ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر سلام بھیجنا تو ہمیں معلوم ہو گیا، لیکن درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہو: «اللهم صل على محمد عبدك ورسولك كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم» اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) پر رحمت نازل فرمائی ہے، اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے اہل و عیال پہ برکت اتار جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) پر اتاری ہے ۱؎۔
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے اور کہنے لگے: کیا میں تمہیں ایک ہدیہ نہ دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا: آپ پر سلام بھیجنا تو ہمیں معلوم ہو گیا، لیکن آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ کہو: «اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم إنك حميد مجيد» اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے اہل و عیال پہ رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) پر رحمتیں نازل فرمائی ہیں، بیشک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے، اے اللہ! تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آپ کے اہل و عیال پہ برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) پر برکتیں نازل فرمائی ہیں، بیشک تو تعریف اور بزرگی والا ہے ۔
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمیں آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے تو ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: «اللهم صل على محمد وأزواجه وذريته كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وأزواجه وذريته كما باركت على آل إبراهيم في العالمين إنك حميد مجيد» اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) پر نازل فرمائی ہے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) کی آل پر سارے جہاں میں برکت نازل فرمائی ہے، بیشک تو تعریف اور بزرگی والا ہے ۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہ درود ( صلاۃ ) بھیجو تو اچھی طرح بھیجو، تمہیں معلوم نہیں شاید وہ درود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیا جائے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے ان سے عرض کیا: پھر تو آپ ہمیں درود سکھا دیجئیے، انہوں نے کہا: کہو: «اللهم اجعل صلاتك ورحمتك وبركاتك على سيد المرسلين وإمام المتقين وخاتم النبيين محمد عبدك ورسولك إمام الخير وقائد الخير ورسول الرحمة اللهم ابعثه مقاما محمودا يغبطه به الأولون والآخرون اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد» اے اللہ! اپنی عنایتیں، رحمتیں اور برکتیں رسولوں کے سردار، متقیوں کے امام خاتم النبیین محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر نازل فرما، جو کہ تیرے بندے اور رسول ہیں، خیر کے امام و قائد اور رسول رحمت ہیں، اے اللہ! ان کو مقام محمود پر فائز فرما، جس پہ اولین و آخرین رشک کریں گے، اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد پر اپنی رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) اور آل ابراہیم پہ اپنی رحمت نازل فرمائی ہے، بیشک تو تعریف اور بزرگی والا ہے، اے اللہ! تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد پہ برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) اور آل ابراہیم پہ نازل فرمائی ہے، بیشک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے ۱؎۔
حدیث 907 — سنن ابن ماجه 5:105
حسنحسنضعیفضعیف
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَلِّي عَلَىَّ إِلاَّ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلاَئِكَةُ مَا صَلَّى عَلَىَّ فَلْيُقِلَّ الْعَبْدُ مِنْ ذَلِكَ أَوْ لِيُكْثِرْ " .
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی مسلمان مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں، اب بندہ چاہے تو مجھ پر کم درود بھیجے یا زیادہ بھیجے ۔
حدیث 908 — سنن ابن ماجه 5:106
حسن Sahihحسن Sahihضعیفضعیف
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ نَسِيَ الصَّلاَةَ عَلَىَّ خَطِئَ طَرِيقَ الْجَنَّةِ " .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مجھ پر درود پڑھنا بھول گیا، وہ جنت کا راستہ بھول گیا ۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص آخری تشہد ( تحیات اور درود ) سے فارغ ہو جائے تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، موت و حیات کے فتنے سے، اور مسیح دجال کے فتنے سے ۱؎۔
حدیث 910 — سنن ابن ماجه 5:108
صحیحصحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لِرَجُلٍ " مَا تَقُولُ فِي الصَّلاَةِ " . قَالَ أَتَشَهَّدُ ثُمَّ أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ أَمَا وَاللَّهِ مَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلاَ دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ . فَقَالَ " حَوْلَهُمَا نُدَنْدِنُ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: تم نماز میں کیا کہتے ہو؟ ، اس نے کہا: میں تشہد پڑھتا ہوں، پھر اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں، لیکن اللہ کی قسم! میں آپ کی اور معاذ کی گنگناہٹ اچھی طرح نہیں سمجھتا ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم بھی اسی کے گرد گنگناتے ہیں ۲؎۔
حدیث 911 — سنن ابن ماجه 5:109
صحیحصحیحصحیح LighairihiIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عِصَامِ بْنِ قُدَامَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ نُمَيْرٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَاضِعًا يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى فِي الصَّلاَةِ وَيُشِيرُ بَإِصْبَعِهِ .
نمیر خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر نماز میں رکھے ہوئے تھے، اور اپنی انگلی سے اشارہ کر رہے تھے ۱؎۔
حدیث 912 — سنن ابن ماجه 5:110
صحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَدْ حَلَّقَ الإِبْهَامَ وَالْوُسْطَى وَرَفَعَ الَّتِي تَلِيهِمَا يَدْعُو بِهَا فِي التَّشَهُّدِ .
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے انگوٹھے اور بیچ والی انگلی کا حلقہ بنایا، اور ان دونوں سے متصل ( شہادت کی ) انگلی کو اٹھایا، اس سے تشہد میں دعا کر رہے تھے ۱؎۔