قرآني·Qurani
اردو

إقامة الصلاة وسننها

630 احادیث · #803–1432

حدیث 983 — سنن ابن ماجه 5:181
صحیحصحیحصحیح LighairihiIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ، أَنَّهُ خَرَجَ فِي سَفِينَةٍ فِيهَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ فَحَانَتْ صَلاَةٌ مِنَ الصَّلَوَاتِ فَأَمَرْنَاهُ أَنْ يَؤُمَّنَا وَقُلْنَا لَهُ إِنَّكَ أَحَقُّنَا بِذَلِكَ أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَبَى فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ، فَالصَّلاَةُ لَهُ وَلَهُمْ، وَمَنِ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعَلَيْهِ، وَلاَ عَلَيْهِمْ ‏"‏ ‏.‏
ابوعلی ہمدانی سے روایت ہے کہ وہ ایک کشتی میں نکلے، اس میں عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بھی تھے، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا، ہم نے ان سے عرض کیا کہ آپ ہماری امامت کریں، آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں اس لیے کہ آپ صحابی رسول ہیں، انہوں نے امامت سے انکار کیا، اور بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے لوگوں کی امامت کی اور صحیح طریقہ سے کی تو یہ نماز اس کے لیے اور مقتدیوں کے لیے بھی باعث ثواب ہے، اور اگر اس نے نماز میں کوئی کوتاہی کی تو اس کا وبال امام پر ہو گا، اور مقتدیوں پر کچھ نہ ہو گا ۔
حدیث 984 — سنن ابن ماجه 5:182
صحیحصحیحصحیحصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ أَتَى النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لأَتَأَخَّرُ فِي صَلاَةِ الْغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلاَنٍ لِمَا يُطِيلُ بِنَا فِيهَا ‏.‏ قَالَ فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَطُّ فِي مَوْعِظَةٍ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ يَوْمَئِذٍ ‏ "‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيُجَوِّزْ فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ ‏"‏ ‏.‏
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں فلاں شخص کی وجہ سے فجر کی نماز میں دیر سے جاتا ہوں، اس لیے کہ وہ نماز کو بہت لمبی کر دیتا ہے، ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا سخت غضبناک کبھی بھی کسی وعظ و نصیحت میں نہیں دیکھا جتنا اس دن دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تم میں کچھ لوگ نفرت دلانے والے ہیں، لہٰذا تم میں جو کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے ہلکی پڑھائے، اس لیے کہ لوگوں میں کمزور، بوڑھے اور ضرورت مند سبھی ہوتے ہیں ۱؎۔
حدیث 985 — سنن ابن ماجه 5:183
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُوجِزُ وَيُتِمُّ الصَّلاَةَ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختصر اور کامل نماز پڑھتے تھے ۱؎۔
حدیث 986 — سنن ابن ماجه 5:184
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ صَلَّى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الأَنْصَارِيُّ بِأَصْحَابِهِ صَلاَةَ الْعِشَاءِ فَطَوَّلَ عَلَيْهِمْ فَانْصَرَفَ رَجُلٌ مِنَّا فَصَلَّى فَأُخْبِرَ مُعَاذٌ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّهُ مُنَافِقٌ ‏.‏ فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَخْبَرَهُ مَا قَالَ لَهُ مُعَاذٌ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ أَتُرِيدُ أَنْ تَكُونَ فَتَّانًا يَا مُعَاذُ إِذَا صَلَّيْتَ بِالنَّاسِ فَاقْرَأْ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ ‏"‏ ‏.‏
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور نماز لمبی کر دی، ہم میں سے ایک آدمی چلا گیا اور اکیلے نماز پڑھ لی، معاذ رضی اللہ عنہ کو اس شخص کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے کہا: یہ منافق ہے، جب اس شخص کو معاذ رضی اللہ عنہ کی بات پہنچی، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو معاذ رضی اللہ عنہ کی بات بتائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاذ! کیا تم فتنہ پرداز ہونا چاہتے ہو؟ جب لوگوں کو نماز پڑھاؤ تو«والشمس وضحاها»، «سبح اسم ربك الأعلى» «والليل إذا يغشى» اور «اقرأ باسم ربك» پڑھو ۱؎۔
حدیث 987 — سنن ابن ماجه 5:185
حسن Sahihحسن Sahihصحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ، يَقُولُ كَانَ آخِرَ مَا عَهِدَ إِلَىَّ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حِينَ أَمَّرَنِي عَلَى الطَّائِفِ قَالَ لِي ‏ "‏ يَا عُثْمَانُ تَجَاوَزْ فِي الصَّلاَةِ وَاقْدِرِ النَّاسَ بِأَضْعَفِهِمْ فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ وَالصَّغِيرَ وَالسَّقِيمَ وَالْبَعِيدَ وَذَا الْحَاجَةِ ‏"‏ ‏.‏
مطرف بن عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو طائف کا امیر بنایا، تو آپ نے میرے لیے آخری نصیحت یہ فرمائی: عثمان! نماز ہلکی پڑھنا، اور لوگوں ( عام نمازیوں ) کو اس شخص کے برابر سمجھنا جو ان میں سب سے زیادہ کمزور ہو، اس لیے کہ لوگوں میں بوڑھے، بچے، بیمار، دور سے آئے ہوئے اور ضرورت مند سبھی قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔
حدیث 988 — سنن ابن ماجه 5:186
صحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ حَدَّثَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ، أَنَّ آخِرَ، مَا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِذَا أَمَمْتَ قَوْمًا فَأَخِفَّ بِهِمْ ‏"‏ ‏.‏
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری بات جو مجھ سے کہی وہ یہ تھی: لوگوں کی جب امامت کرو تو نماز ہلکی پڑھاؤ ۔
حدیث 989 — سنن ابن ماجه 5:187
صحیحصحیحصحیحصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِنِّي لأَدْخُلُ فِي الصَّلاَةِ وَأَنَا أُرِيدُ إِطَالَتَهَا فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلاَتِي مِمَّا أَعْلَمُ لِوَجْدِ أُمِّهِ بِبُكَائِهِ ‏"‏ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نماز شروع کرتا ہوں اور لمبی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اتنے میں بچے کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو نماز اس خیال سے مختصر کر دیتا ہوں کہ بچے کی ماں کو اس کے رونے کی وجہ سے تکلیف ہو گی ۱؎۔
حدیث 990 — سنن ابن ماجه 5:188
صحیحصحیح Lighairihiصحیح Lighairihiصحیح
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلاَثَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِنِّي لأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ فِي الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو نماز ہلکی کر دیتا ہوں ۔
حدیث 991 — سنن ابن ماجه 5:189
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، وَبِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِنِّي لأَقُومُ فِي الصَّلاَةِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُطَوِّلَ فِيهَا فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ كَرَاهِيَةَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمِّهِ ‏"‏ ‏.‏
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اس کو لمبی کروں، اتنے میں بچے کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو اس ڈر سے نماز ہلکی کر دیتا ہوں کہ اس کی ماں پریشان نہ ہو جائے ۔
حدیث 992 — سنن ابن ماجه 5:190
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ أَلاَ تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلاَئِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْنَا وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلاَئِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا قَالَ ‏"‏ يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الأُوَلَ وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ ‏"‏ ‏.‏
جابر بن سمرہ سوائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس طرح صفیں کیوں نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس باندھتے ہیں؟ ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فرشتے اپنے رب کے پاس کس طرح صف باندھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں، اور صف میں ایک دوسرے سے خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔